کانو کارپس کا شاخسانہ: کچھ حقیقت۔۔۔۔۔ ۔ کچھ فسانہ

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
540
Likes
520
Points
252
Location
Karachi, Pakistan
#1
کونو کارپس کا شاخسانہ: کچھ حقیقت ۔۔۔کچھ فسانہ

ایکسپریس ٹریبیون کی کی 8 جولائی 2016 کی رپورٹ کی روشنی میں کراچی شہر کا صرف سات فیصد حصہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہے، دی نیوز اخبار کی 29 جولائی 2013 کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی شہر کا 25 فیصد حصہ درختوں سے ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے شہر کراچی مسلسہل ہیٹ ویو کے نشانے پر ہے اور ہرسال سینکڑوں افراد ہیٹ ویو کا نشانہ بن جاتے ہیں۔۔
ان حالات میں ہماری توجہ شہر میں سبزہ کی مقدار میں اضافہ پر ہونی چاہئے مگر کچھ دوستوں نےکونو کارپس نامی درخت کے خلاف ایک مہم چلا رکھی ہے اور اسے جہاد قرار دے دیا ہے، گویا یہ درخت ہی اس قیامت خیز گرمی کا ذمہ دار ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ درخت تقریبا بیس لاکھ سے کچھ اوپر کی تعداد میں موجود ہیں۔ان حالات میں یہ ضروری ہے کہ ہم ان تمام دعووں کا سائنس کی روشنی میں جائزہ لیں جو اس بارے میں کئے گئے ہیں اور میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کا حصہ ہیں۔۔۔
اس معاملے میں ایک اہم نکتہ مونو کلچر ہے۔۔۔یعنی کہ شہر میں ایک ہی قسم کے درختوں کی بہتات۔۔۔مونو کلچر کسی بھی ماحول کے لئے نقصاندہ ہے۔۔چاہے آپ بائیس لاکھ کونوکارپس کے درخت لگا دیں ۔۔یا نیم کے۔۔۔کیونکہ قدرت ڈائیورسٹی یا تنوع چاہتی ہے۔۔ کونو کارپس کی اتنے بڑے پیمانے پر کاشت یقینا شہر کے لئے نقصان کا باعث تھی۔۔۔مگر اس کا حل یہ نہیں کہ آپ یہ سارے درخت کاٹ کر شہر کو باقی بچے کھچے سبزے سے بھی محروم کر دیں۔۔اس کا حل یہ ہے کہ آپ ایک کونو کارپس کی جگہ پانچ دوسرے لوکل درخت لگائیں۔۔مثلا نیم ، گل مہر، املتاس، املی وغیرہ۔۔راقم کی رائے میں اگر پھل دار درخت لگائیں تو زیادہ بہتر ہے۔۔کیونکہ جو چرند ، پرند اور انسان اس کو کھائنگے آپ کے لئے صدقہ جاریہ ہوگا۔۔یعنی آپ جامن، آم ، پپیتہ، بیر، چیکو، سہانجنا، فالسہ، امرود وغیرہ لگائیں۔۔۔مگر کونسا درخت لگانا ہے۔۔اس کا فیصلہ ظاہر ہے اس بات پر کرنا ہوگا کہ آپ کے پاس جگہ کتنی ہے اور آپ اس درخت کو بر وقت پانی دے سکتے ہیں یا نہیں۔۔۔جب یہ درخت بڑے ہوجائیں تو بیشک کونو کارپس کو کاٹ دیں۔۔

چند مزید نکات جو اس معاملےمیں اٹھائے گئے ہیں ذیل میں ہم ان کا جائزہ لیتے ہیں
کونوکارپس آکسیجن نہیں بناتا: آکسیجن بنانا کسی بھی درخت کا ایک بنیادی کام ہے۔۔۔درخت اپنے سبز پتوں سے فوٹو سنتھسس کے عمل کے ذریعہ سے آکسیجن بناتے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو جزب کرتے ہی۔۔۔سبز پتوں کی موجودگی کا مطلب ہی یہ ہے درخت فوٹو سنتھسس کر رہا ہوگا اور آکسیجن بنا رہا ہوگا۔۔یہ ہر درخت کا معمول کا عمل ہے۔۔۔لہذا یہ بات سائنسی بنیاد پر غلط ہے۔۔۔
کونو کارپس کاربن ڈائی آکسائڈ جزب نہیں کرتا: پودا اگر بڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ماحول سے کاربن جزب کرکے اپنے جسم میں لگا رہا ہے۔۔۔احباب کو کونوکارپس سے یہی شکایت ہے کہ یہ تیز ی سے بڑھتا ہے۔۔اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس میں ماحول سے کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت اچھی ہے۔۔۔جبھی یہ تیزی سے بڑھتا ہے۔۔۔

کونو کارپس ماحول کو گرم کرتا ہے: ایک طرف احباب یہ دعوی کرتے ہیں کہ کونو کارپس زمین سے سارا پانی چوس لیتا ہے۔۔۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ اس پانی کو اپنے پاس تو رکھتا نہیں بلکہ ٹرانسپائریشن کے عمل کے ذریعہ فضا میں خارج کرتا ہے۔۔۔تو گویا وہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کا باعث ہوا۔۔۔نہ کہ گرم کرنے کا۔۔کیونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ٹرانسپائریشن کا عمل ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔۔۔

کونوکارپس زمین سے سارا پانی چوس لیتا ہے: اس عمل کو ٹرانسپائریشن کہتے ہیں۔۔۔اور ہر پودا جیسے سانس لیتا ہے ویسے ٹرانسپائریشن بھی کرتا ہے۔۔۔ٹرانسپائریشن ایک ریگیولیٹڈ عمل ہے۔۔جب زمین میں پانی کم ہو جاتا ہے تو درخت یہ عمل بند کر دیتے ہیں۔۔یہ ممکن ہے کہ کونو کارپس کا ٹرانسپائریشن کا ریٹ زیادہ ہو مگر یہ عمل کم پانی کی صورت میں بند ہو جاتا ہے۔۔دوسری بات یہ کہ زمین میں موجود پانی ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا۔۔وہ بلند مقام سے پست مقام کی طرف سفر کرتا ہے اور بالآخر سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔۔۔اگر درخت پانی چوس بھی رہا ہے تو زیر زمین پانی اوپر سے آنے والے پانی سے تبدیل ہو جاتا ہے۔۔

کونو کارپس بارش کے نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے: آپ خود سوچیں ۔۔شہر کے سات فیصد حصے پر درخت ہیں۔۔جس میں سے کونوکارپس کا حصہ شائد آدھا ہوگا۔۔کیا یہ ممکن ہے کہ اتنے بڑے ایریا کہ بارش کے نظام پر ڈھائی تین فیصد علاقے پر موجود درخت اثر انداز ہوں؟ دوسری بات یہ کہ بارش واٹر سائکل نامی عمل کا حصہ ہے اور اس کے عوامل میں ہوا کا دباو، درجہ حرارت اور نمی کا تناسب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔۔اور سائنس کے حساب سے کوئی خاص درخت بارش کے عوامل میں شامل نہیں ۔۔دوسری بات یہ کہ شہر میں سبزہ سے بھرے مقامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔۔نئی بلند عمارتوں کی تعمیر ہوا کے بہاو سے مانع ہے اور گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد آ لودگی میں اضافہ کر رہی ہے۔۔ ان سب عوامل کی موجودگی میں ایک بیچارے درخت کو گرمی اور بارش کے نظام کی تباہی کا باعث قرار دینا حماقت ہے۔

کونو کارپس الرجی اور دیگر سانس کی بیماریوں کا باعث ہے: اس بارے میں سائنسی ثبوت موجود نہیں۔۔پچھلے چند سالوں میں اگر کونو کارپس کی تعداد بڑھی ہے تو شہر میں گاڑیوں کی تعداد بھی تو بڑھی ہے۔۔جن کا دھواں سانس کی بیماریوں کا ثابت شدہ فیکٹر ہے۔۔۔باقی رہی بات پولن کے ہوا میں موجود ہونے کی۔۔۔تو پولن کا ہوا میں موجود ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ الرجی کا باعث بھی ہے۔۔۔اس بات کو ثابت کرنے کے لئے الرجی کے مریضوں کے اندر اس خاص پولن کے خلاف مدافعتی اوور ری ایکشن کا ثبوت ہونا ضروری ہے۔۔اور اس قسم کی سائنسی تحقیق فی الحال موجود نہیں۔۔۔پھر یہ بھی ایک سوال ہے کہ اگر ایک درخت کا کچھ فیصد لوگوں میں بیماری پیدا کرنا ثابت ہو بھی جائے تو کیا اس درخت کو ختم کر دیا جائے گا؟ صرف درخت ہی کیوں ۔۔باقی تمام عوامل یعنی گاڑیاں ۔۔مٹی ۔۔دھواں ۔۔۔ان سب کو ختم کرنے کی بھی کوئی پالیسی ہونی چاہئے۔۔۔کیونکہ یہ سارے سانس کی بیماریوں کے ثابت شدہ عوامل ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ گوگل سائنسی معلومات کا مصدقہ ذریعہ نہیں ہے۔۔ سائنسی معلومات ساینٹفک جریدوں سے حاصل ہوتی ہیں جو کہ بہت دقیق انداز میں لکھے جاتے ہیں۔
کونو کارپس زیر زمین پانی اور سیورج کی نالیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے:کونو کارپس کی جڑیں خاصی اگریسیو ہوتی ہیں اور یہ سطح کے ساتھ ساتھ زیادہ پھیلتی ہیں۔۔اس لئے اس درخت کا یہ نقصان ظاہر ہے۔۔لہذا ایسی جگہوں سے جہاں یہ درخت پانی یا سیورج کی لائن کے ساتھ ہے اس درخت کو ہٹا کر دوسرے درخت لگانے چاہئییں۔۔
حاصل مطالعہ کے طور پر عرض کرونگا کہ اگر آپ اس شہر کی بھلائی چاہتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں تو درخت کاٹنے سے پہلے درخت لگائیں۔۔۔ اور درختوں کو برداشت بھی کریں۔۔اپنی دکان اور اپنے گھر کے چھپ جانے کی وجہ سے درخت نہ کاٹیں۔۔نہ ہی اس وجہ سے کہ درختوں سے پتے گرتے ہیں اور کچرا ہوتا ہے۔۔۔یہ درخت ہماری بقا کے ضامن ہیں۔۔ان سے محبت کریں۔۔ان کا خیال رکھیں۔۔

اگر آپ ماحول کی بہتری چاہتے ہیں تو اس کا حل بیس لاکھ درخت کاٹنا نہیں ہے۔۔ ایک کروڑ درخت لگانا ہے۔۔
اوپر بیان کی گئی تمام باتیں ایسی ہیں جن کی تصدیق آ پ اسکول میں پڑھائی جانے والی سائنس کی کتابوں سے کر سکتے ہیں۔۔

تالیف:
Dr. Muhammad Yahya Noori
MBBS, PGD, MSc, PhD
Assistant Professor, Dow University of Health Sciences​
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,614
Likes
1,166
Points
342
Location
Manchester U.K
#3
کانو کارپس کا شاخسانہ: کچھ حقیقت۔۔۔۔۔ ۔ کچھ فسانہ
معلوماتی شئیرنگ کا شکریہ​
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
540
Likes
520
Points
252
Location
Karachi, Pakistan
#4
کانو کارپس کا شاخسانہ: کچھ حقیقت۔۔۔۔۔ ۔ کچھ فسانہ

معلوماتی شئیرنگ کا شکریہ​
کانو کارپس کا شاخسانہ
کچھ حقیقت کچھ فسانہ
تھریڈ سٹارٹر ابو دجانہ
معلومات کا خزانہ
انکل زاہد کا شکرانہ
عقیدت کا نذرانہ
قبول ہو وار دیوانہ
کھجل سائیں کا نعرہ مستانہ
الکمونیا کا آشیانہ
کچھ نیا کچھ پرانہ
ہے حقیقت پسندانہ
سوچ انکل زاہدانہ
اشعار پھر نہ دہرانا
اب سمجھ لیں ابو دجانہ
لو لگالو شامیانہ
کتنا مشکل ہے بہانہ
ریپلائے سے نظر چرانا
واہ واہ کہتے جانا
کچھ نصیحت کرتے جانا
ایو یں اشعار بنانا
اب تو بس کر ابو دجانہ
:)
 

Sobia Shah

VIP Member
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
20
Likes
43
Points
25
#5
میں نے بڑے تجسس سے تھریڈ اوپن کیا تھا کہ شاید کوئی نئی معلومات ہوگی
مگر یہاں تو ۔
۔
۔
۔
۔
👺👺👺
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
540
Likes
520
Points
252
Location
Karachi, Pakistan
#6
میں نے بڑے تجسس سے تھریڈ اوپن کیا تھا کہ شاید کوئی نئی معلومات ہوگی
مگر یہاں تو ۔
۔
۔
۔
۔
👺👺👺
بس یہ "غلط فہمی" اس تھریڈ کی غلط سیکشن میں پوسٹنگ سے پیدا ہوئی۔۔۔ اسی لئے تھریڈ کو۔۔ اصل مقام پہ درست سیکشن میں۔۔مووو کردیا ہے۔۔
:)
 
Top