(¯`·._.·[میری پسندیدہ شاعری]·._.·´¯)

Discussion in 'Urdu Adab and Shayeri' started by kamrankhan143, Apr 14, 2010.

Share This Page

  1. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    یہ جو دیوانے دو چار نظر آتے ھیں
    ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ھیں

    تیری محفل کا بھرم رکھتے ھیں سو جاتے ھیں
    ورنہ لوگ تو بیدار نظر آتے ھیں

    دور دور تک کوئی ستارہ ھے نہ کوئی جگنو
    مرگ امید کے آثار نظر آتے ھیں

    میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ نہیں
    آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ھیں

    جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
    آج وہ رونق بازار نظر آتے ھیں

    حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
    سب تمہارے ھی طرفدار نظر آتے ھیں





    کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
    میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

    سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
    میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی

    بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
    میں دل میں رؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

    وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
    میں کس سے روٹھـ سکوں گی کسے مناؤں گی

    وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
    میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

    سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
    میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی

    جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
    وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی


    پروین شاکر


    وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی
    اب زندگی میں ہجر کی وحشت نیں رہی

    ٹوٹا ہے جب سے اس کی مسیحائی کا طلسم
    دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا
    پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

    پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہت
    اور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

    اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں
    خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی



    خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
    سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے
    تری مسرّتِ پیہم تمام ہو جائے
    تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
    غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
    ہجومِ یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے
    وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
    ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
    غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
    طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
    تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
    خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
    کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
    کہ جنسِ عجزو عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
    فریبِ وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے
    خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
    وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
    وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے




    یوں تیری راہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے


    بیٹھے رہے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے

    بہتی ہوئی یہ ندیا گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے کوئی تو پار گزرے

    تو نے بھی ہمکو دیکھا ہم نے بھی تجھکو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا ہم جان ہار گزرے

    (مینا کماری )

    ملی تھی زندگی ہم کو تو مرنا بھی ضروری تھا
    ٹھہرنا بھی ضروری تھا، گزرنا بھی ضروری تھا

    لہو میرے بدن کا صرف اس میں ہو گیا تو کیا
    تیری تصویر میں یہ رنگ بھرنا بھی ضروری تھا

    مجھے تجھ تک رسائی کی کوئی تدبیر کرنا تھی
    بگڑنا بھی ضروری تھا، سنورنا بھی ضروری تھا

    اب اس پاداش میں چنتا رہوں گا کرچیاں اپنی
    سمٹنے کی تمنا میں بکھرنا بھی ضروری تھا

    سمندر کے تلاطم میں کٹی تھی زندگی اپنی
    کسی خاموش ساحل پر اترنا بھی ضروری تھا

    تعلق قطع کرنا بھی کچھ آساں تو نہ تھا لیکن
    یہ خواہش اس کی تھی، یہ کام کرنا بھی ضروری تھا

    مجھے لمبی مسافت کی تھکن تو دور کرنا تھی
    سفر باقی سہی لیکن ٹھہرنا بھی ضروری تھا

    دِیا بجھنے سے پہلے رات کی ہموار چادر پر
    کوئی نقشہ، کوئی منظر ابھرنا بھی ضروری تھا

    (نسیمِ سحر)


    وہ جو دعویدار ھے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ھوں
    کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں*اداس ھوں

    یہ مری کتاب حیات ھے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا
    میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ھوں

    یہ تری امید کو کیا ھوا کبھی تو نے غور نہیں *کیا
    کسی شام تو نے کہا تو تھا تری سانس ھوں تری آس ھوں

    یہ جو شہر فن میں *قیام ھے سو ترے طفیل ھی نام ھے
    مرے شعر کیوں نہ گداز ھوں کہ ترے لبوں کی مٹھاس ھوں

    یہ تری جدائی کا غم نہیں کہ یہ سلسلے تو ھیں*روز کے
    تری ذات اس کا سبب نہیں کئی دن سے یونہی اداس ھوں

    کسی اور کی آنکھ سے دیکھ کر مجھے ایسے ویسے لقب نہ دے
    ترا اعتبار ھوں جان من نہ گمان ھوں نہ قیاس ھوں


     
  2. Mudassar Mazhar

    Mudassar Mazhar Registered Member

    Joined:
    Oct 20, 2009
    Messages:
    9,296
    Likes Received:
    3
    Trophy Points:
    0
    Location:
    คlкค๓๏ภเאค
  3. Adnan Qaisar

    Adnan Qaisar Registered Member

    Joined:
    Aug 17, 2009
    Messages:
    22,589
    Likes Received:
    2
    Trophy Points:
    0
    Location:
    >>>>>B A N J A R A<<<<&
    Moved From Design Poetry Section...
     
  4. InNoCeNt GiRL

    InNoCeNt GiRL Registered Member

    Joined:
    Aug 29, 2009
    Messages:
    10,476
    Likes Received:
    8
    Trophy Points:
    0
    Location:
    █║▌║║ █│█║▌█║▌║ █│█║▌
    so nice
    وہ جو دعویدار ھے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ھوں
    کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں*اداس
    my favourite
     
  5. Mubeen Ali

    Mubeen Ali Super Moderator

    Joined:
    Dec 11, 2009
    Messages:
    18,168
    Likes Received:
    267
    Trophy Points:
    213
    Gender:
    Male
    Location:
    In The Heart Of Someone
    zabardast collection
     
  6. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    جب بھی آتی ہیں خیالوں میں تمہاری آنکھیں
    بھیگ جاتی ہیں کسی غم سے ہماری آنکھیں

    ڈھل گئی شام، اندھیرے نے طنابیں گاڑیں
    سو گئیں تھک کے تیرے ہجر کی ماری آنکھیں

    تم میرے پاس نہیں پھر بھی تمہارا چہرہ
    سوچتی رہتی ہیں یہ درد کی ماری آنکھیں

    سلسلہ ٹوٹ بھی سکتا تھا بصارت کا کبھی
    تھام لیتی نہ اگر آنکھ، تمہاری آنکھیں

    منزلِ عشق میں ایسا بھی مقام آیا ہے
    لے گئے آنکھوں کے بدلے وہ ہماری آنکھیں

    [​IMG]


    آنکھوں سے میرے اس لیے لالی نہیں جاتی
    یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی

    اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
    اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی


    مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھےدےدیں
    تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی


    آئے کوئی آ کر یہ تیرے درد سنبھالے
    ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی


    معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے تیرے قصے
    یہ بات تیری ہم سے اچھالی نہیں جاتی


    ہمراہ تیرے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
    اب شام کوئی درد سے خالی نہں جاتی


    ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
    تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی


    غمِ زندگی تیرا شکریہ تیرے فیض ہی سے یہ حال ہے
    وہی صبح و شام کی الجھنیں، وہی رات دن کا وبال ہے

    نہ چمن میں بُوئے سمن رہی نہ ہی رنگِ لالہ و گل رہا
    تو خفا خفا سا ہے واقعی کہ یہ صرف میرا خیال ہے

    اسے کیسے زیست کہے کوئی گہے آہِ دل گہے چشمِ نم
    وہی رات دن کی مصیبتیں وہی ماہ ہے وہی سال ہے

    میں غموں سے ہوں جو یوں مطمئن تُو برا نہ مانے تو میں کہوں
    تیرے حسن کا نہیں فیض کچھ، میری عاشقی کا کمال ہے

    ہے یہ آگ کیسی لگی ہوئی میرے دل کو آج ہُوا ہے کیا
    جو ہے غم تو ہے غمِ آرزو، اگر ہے تو فکرِ وصال ہے

    کوئی کاش مجھ کو بتا سکے رہ و رسمِ عشق کی الجھنیں
    وہ کہے تو بات پتے کی ہے میں کہوں تو خام خیال ہے


    -----



    کہاں کہاں سے مٹائے گا، خوش گماں میرے
    تیرے بدن سے تیری روح تک، نشاں میرے

    کہیں بھی جا کے بسا لے تُو بھول کی بستی
    محیط ہیں تیرے، یادوں کے آسماں میرے

    اگرچہ فاصلہ دو چند کر لیا تو نے
    رواں دواں ہیں تیری سمت کارواں میرے

    میں جاؤں بھی تو کہاں، چھوڑ کر تیری گلیاں
    تُو کر گیا سبھی رستے دھواں دھواں میرے

    عبور ہوتے نہیں، روز طے تو کرتا ہوں
    یہ ہجر فاصلے، یہ بحرِ بے کراں میرے

    ہوا کے بیڑے کسی اور سمت بہتے ہیں
    کھلے ہیں اور کسی سمت بادباں میرے

    میں اپنے جذبوں کی شدت سے خوف کھاتا ہوں
    کہ دشمنوں سے ہیں بڑھ کر، یہ مہرباں میرے

    میں خواب زار کی کرتا تو ہوں چمن بندی
    اجاڑ دے نہ کوئی آ کے گلستاں میرے

    شگوفے آ گئے پلکوں پہ درد کے آخر
    چھپا سکے نہ میرے راز، راز داں میرے

    -----


    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

    ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
    مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے

    دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
    جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے

    یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
    میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے


    ----

    کسی اور غم میں اتنی خلش نہا ں نہیں ہے
    غم دل! میرے رفیقو ، غم رائگاں نہیں ہے

    کوئی ھم نفس نہیں ہے، کوئی راز داں نہیں ہے
    فقط ایک دل تھا اب تک، سو وہ مہرباں نہیں ہے

    مری روح کی حقیقت میرے آنسوؤں سے پوچھو
    مرا مجلسی تبسم، مرا ترجماں نہیں ہے

    کسی آنکھ کو صدا دو، کسی زلف کو پکارو
    بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سا ئبا ں نہیں ہے

    انہی پتھروں پہ چل کراگر آ سکو تو آؤ
    میرےگھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے


    ----

    اونچے اونچے ناموں کی تختییاں جلا دینا
    ظلم کر نے والوں کی وردیاں جلا دینا

    ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہے
    دیکھنے میں آسان ہے بستیاں جلا دینا


    در بدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
    بیلچے اٹھا لینا ڈ گریاں جلا دینا

    موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
    جنگ جیتنا چاہو کشتیاں جلا دینا


    پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
    پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا

    ظلم کے اندھیروں سےتم نہ ہارنا منظر
    جب چراغ بجھ جائے انگلیاں جلا دینا


    ----

    جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
    سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اُٹھا رکھا ہے

    اُس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
    نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے


    پتھرو آج میرے سر پر برستے کیوں ہو
    میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

    اب میری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
    تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے


    پی جا ایام کی تلخی کو ہنس کر ناصر
    غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے


    ----

    میرا کوٹھا میرا مقدر ہے
    کون کہتا ہے یہ میرا گھر ہے


    ہار کے زندگی سے آئی ہوں
    میں*یہاں کب خوشی سے آئی ہوں


    میں نے پہنے جو پاؤں میں گھنگرو
    مجھ کو کہنے لگا طوائف تو


    یہ نہ سوچ کہ غم کی ماری ہوں
    اپنی مجبوریوں سے ہاری ہوں

    جب بغاوت میں سر اُٹھایا ہے
    میں* نے ظالم کا کوڑا کھایا ہے


    اک پل بھی جو پاؤں روک لیا
    مجھ کو سب نے لہو لہان کیا


    یاد آتا ہے مجھ کو بھی بچپن
    میرے ماں باپ اُن کا وہ آنگن


    میرے دل پر بھی مستی چھائی تھی
    میں* نے بھی اک پتنگ اُڑائی تھی


    آج خود بن گئی ہوں اک پتنگ
    روز اڑتی ہوں اک ڈور کے سنگ


    میرے پاؤں ہیں اور گھنگرو ہیں
    اب یہ آنکھیں ہیں اور آنسو ہیں


    مسکراہٹ کا اب نہ کوئی نشان
    نام تو اب بھی ہے میرا مسکان

    کون ہے جس سے اپنا حال کہوں
    سب یہ کہتے ہیں میں طوائف ہوں


    (نیرا راج پال)


    ----

    انکار ہی کر دیجئیے اقرار نہیں تو
    اُلجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو

    لگتا ہے کہ پنجرے میں* ہوں دنیا میں نہیں ہوں
    دو روز سے دیکھا کوئی اخبار نہیں تو

    دنیا ہمیں نابود ہی کر ڈالے گی اِک دن
    ہم ہوں گے اگر اب بھی خبردار نہیں تو


    کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو
    ٹوپی ہی لگا لیجئیے دستار نہیں *تو


    ہم برسرِ پیکار ستمگر سے ہمیشہ
    رکھتے ہیں قلم ہاتھ میں تلوار نہیں تو

    بھائی کو ہے بھائی پہ بھروسہ تو بھلا ہے
    آنگن میں* بھی اُٹھ جائے گی دیوار نہیں تو


    بے سود ہر اک قول ہر اک شعر ہے راغب
    گر اس کے موافق ترا کردار نہیں تو

     
  7. bint-e-hawa

    bint-e-hawa Registered Member

    Joined:
    Aug 28, 2009
    Messages:
    5,439
    Likes Received:
    6
    Trophy Points:
    0
    یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
    میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
    nice collection
     
  8. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    thx for liking brother
     
  9. Ismail Shah

    Ismail Shah Registered Member

    Joined:
    Aug 18, 2009
    Messages:
    3,920
    Likes Received:
    4
    Trophy Points:
    0
    Location:
    "...INnn....uR...$MiLe..."
    VerrY nIce shaRing+keep it up...!!


    [​IMG]
    [​IMG]
     
  10. M.Waseem

    M.Waseem Registered Member

    Joined:
    Feb 12, 2010
    Messages:
    5,882
    Likes Received:
    10
    Trophy Points:
    0
    Location:
    Saudia arabia
    Nice Collection
     
  11. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
    مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
    میں نے سمجھا تھا کہ تو ہےتو درخشاں ہے حیات
    تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
    تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
    تیرے آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
    تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
    یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    اَن گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
    ریشمِ و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
    جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں*جسم
    خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
    اب بھی دلکش ہے تیرا حسن، مگر کیا کیجئے
    اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
    راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
    مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

    فیض احمد فیض

    -----

    حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جدا نہ ہوا
    وہ میرے ساتھ رہا پر کبھی مرا نہ ہوا

    خزاں نصیب رہے ہم گلوں کی رُت میں بھی
    بہار آئی پر اپنا چمن ہرا نہ ہوا

    زمانے بھر کی جفاؤں کا شکوہ کر نہ سکے
    تری جفا کا بھی ہم سے کبھی گلہ نہ ہوا

    ہمیں یقیں تھا تمہاری تمام باتوں پر
    تمہارا ایک بھی وعدہ مگر وفا نہ ہوا

    میں جی ہی لیتی تری یاد کے سہارے پر
    ترے بغیر بھی جینے کا حوصلہ نہ ہوا

    ندامتوں کا تو ہر آن مینہ برستا رہا
    شجر وفا کا جوسوکھا تو پھر ہرا نہ ہوا

    ----


    تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
    حُسنِ یزداں تُجھے ، حُسنِ بُتاں تک دیکھوں

    تُو نے یوں دیکھا ہے *جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
    میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

    صرف اس شوق سے پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
    میں ترا حُسن، ترے حُسنِ بیاں تک دیکھوں

    میرے ویرانہءِ جاں میں تری یادوں کے طفیل
    پھول کِھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں

    وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خدوخال
    یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں

    دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
    میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

    اک حقیقت سہی فردوس میں حُوروں کا وجود
    حُسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں

    ----

    کیسے میں تیری یاد کو دل سے نکال دوں
    کیونکر میں اپنی روح جسم سے نکال دوں

    آ میرے ستمگر ، میرے پاس آ کے مانگ
    کر اپنی وفاؤں سے تجھے مالامال دوں

    اس مکتبِ جہان میں اتنا سبق ملا
    ہو*گا عروج جسقدر خود کو زوال دوں

    چندا کی روشنی مجھے مدھم سی ہے لگے
    جی چاہے اسکے حسن کو ترا جمال دوں

    جب بھی کبھی خدا نے فرمایا آج مانگ
    رکھ اسکی بارگاہ میں تیرا سوال دوں

    یہ تابناک شمس و قمر جس کے زیرِ پا
    اسکے حُسن کی اور رضا کیا مثال دوں

    کیسے میں تیری یاد کو دل سے نکال دوں

    ----




    خدا کے واسطے

    خدا کے واسطے یوں بے رُخی سے کام نہ لے
    تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے

    بس اِک سجدہِ شکرانہ پائے نازک پر
    یہ میکدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے

    زمانے بھر مین ہے چرچا میری تباہی کا
    میں ڈر رہا ہوں کہین کوئی تیرا نام نہ لے

    مٹا دو شوق سے مجھ کو مگر کہیں تم سے
    زمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے

    جسے تو دیکھ لے اِک بار مست نظروں سے
    وہ عمر بھر ہاتھون میں اپنے جام نہ لے

    رکھوں اُمیدِ کرم اُس سے اب میں کیا ساحر
    کہ جب نظر سے بھی ظالم میرا سلام نہ لے


    ----



    تیری گلیوں میں صدا دے کر گزر جائیں گے
    تجھ کو اے دوست دعا دے کر گزر جائیں گے

    ہم وفاؤں کے جزیروں کے ہیں رہنے والے
    ہم تو پیغام وفا دے کر گزر جائیں گے

    ہم کبھی تجھ کو ستم گر نہ کہیں گے
    اپنی قسمت کا لکھا کہہ کر گزر جائیں گے

    لوگ پوچھیں گے فقیروں کا ٹھکانہ کہاں ہے
    تیرے قدموں کا پتہ دے کر گزر جائیں گے


    ----

    ایسے میں جب چاند ستارے سو جاتے ہیں
    ہم بھی تیری یاد سہارے سو جاتے ہیں


    اے دل رات بھی بیت چلی ہے نیند بھی ہے
    آہم دونوں درد کنارے سو جاتے ہیں


    بے چینی گھٹتی ہے اور نہ تم آتے ہو
    تھک کے آخر غم کے مارے سو جاتے ہیں


    موت بھی کیسی ظالم نیند ہے اور پھر دیکھو
    کیسے کیسے جان سے پیارے سو جاتے ہیں


    اب تو اک مدت سے یہ معمول ہوا ہے
    دشمن جاگتا ہے ہم سارے سو جاتے ہیں



    ----

    بدل سکا نہ جدائی کے غم اٹھا کر بھی
    کہ میں تو میں رہا تجھ سے دور جا کر بھی

    میں سخت جان تھا اس کرب سے بھی بچ نکلا
    میں جی رہا ہوں تجھے ہاتھ سے گنوا کر بھی

    خدا کرے تجھے دوری ہی راس آجائے
    تو کیا کرے گا بھلا یہاں آ کر بھی

    ابھی تو میرے بکھرنے کا کھیل باقی ہے
    میں خوش نہیں ہوں اپنا گھر لٹا کر بھی

    میں اس کو سطح سے محسوس کر کے بھی خوش ہوں
    وہ مطمئن ہی نہیں میری تہہ کو پا کر بھی

    ابھی تک اس نے کوئی بھی تو فیصلہ نہ کیا
    وہ چپ ہے مجھ کو ہر اک طرح آزما کر بھی

    اس طرح ہجوم میں لڑ بھڑ کے زندگی کر لو
    رہا نہ جائے گا دنیا سے دور جا کر بھی

    کھلا یہ بھید تنہائیاں ہی قسمت ہیں
    اک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھی

    رکا نہ ظلم میرے راکھ بننے پر بھی ریاض
    ہوا کی خو تو وہی ہے مجھے جلا کر بھی


    ----

    تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
    کون سا لفظ ھے جو کھولے گا در معنی کا
    اسکا پتا کون کرے
    تم تو خو شبو ھو، ستاروں کی گزر گاہ ھو تم
    تم کہاں آؤ گے اس دشت پراسرار کی پہنائی میں
    کیسے اترو گے تمناؤں کی گہرائی میں
    تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
    کون سے خواب کے جگ مگ میں نہاں ھیں ھم تم
    کیسے گرداب تمنا میں رواں ھیں ھم تم
    لفظ کے پار جو دیکھیں تو کوئی راہ نہیں
    اور تم لفظ پس لفظ سے آگاہ نہیں
    تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
    —امجد اسلام امجد

    ---





    یہ محبت، یہ عقیدت، یہ وفا کچھ بھی نہیں
    ہے وفا طولِ ہوس اس کے سِوا کچھ بھی نہیں

    پیار کرنے پہ یہاں بہت سی تعزیریں ہیں
    دل کوئی توڑے اگر، اس کی سزا کچھ بھی نہیں

    ہم بھی کہتے تھے کہ بچھڑیں گے تو مر جائیں گے
    ہم میں فرقت بھی ہوئی اور ہُوا کچھ بھی نہیں

    جس نے چاہا ہی نہیں اس سے شکایت کیسی
    وہ اگر چھوڑ چلا، اس سے گِلا کچھ بھی نہیں

    پیار کہتے ہیں جہاں بھر کا خزانہ ہے انعام
    کر کے بھی دیکھ چکے اور مِلا کچھ بھی نہیں

    [​IMG]

     
  12. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
    مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

    محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
    مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے

    ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
    یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

    بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
    سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے

    ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
    سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے

    حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
    کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے

    بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
    کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

    فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
    یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے
     
  13. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا

    جانِ جاں کچھ کہو

    خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
    جانتا ہوں محبت میں اظہار کب کھوکھلے حرف و معنی کا محتاج ہے
    مانتا ہوں محبت وہ احساس ہے
    جس میں خاموشیاں بات کرنے لگیں
    نِت نئے خواب آنکھوں میں سجنے لگیں
    رُوح سننے لگے دھڑکنوں کی زباں
    پھر بھی اب جانِ جاں
    خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
    کچھ کہو
    شرمگیں مسکراہٹ میں لپٹی ہوئی ہجر کی داستاں
    وسوسوں میں گِھرا، آنسوؤں سے لکھا، دھڑکنوں کا بیاں
    اپنے جذبوں کو لفظوں کی پوشاک دو
    ٹوٹا پھوٹا سہی، اُلجھا اُلجھا سہی
    کوئی اظہار ہو
    کیونکہ اب جان جاں
    خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
     
  14. Cheeta

    Cheeta Registered Member

    Joined:
    Oct 15, 2009
    Messages:
    6,289
    Likes Received:
    0
    Trophy Points:
    0
    Location:
    آپ کے دل میں
    Very Nice Sharing
     
  15. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    thx 4 liking
     
  16. Zain UltimateX

    Zain UltimateX ITD X-Team

    Joined:
    Jul 8, 2009
    Messages:
    24,280
    Likes Received:
    38
    Trophy Points:
    178
    Location:
    O_o
    buhat achi sharing ki hai :)
     
  17. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    ہوں ابھی آر کہ پار آیا ہوں
    عمر ساری تو گزار آیا ہوں
    میرے بس میں یہ کہاں تھا،کوئی
    لہر تھی جس پہ سوار آیا ہوں
    ہے یہ دیکھی ہوئی ہر شے،جیسے
    میں یہاں دوسری بار آیا ہوں
    وہ کہیں تھا کہ نہیں تھا موجود
    ہر جگہ اس کو پکار آیا ہوں
    جیت اور اس سے بڑی کیا ہو گی
    اپنا سب کچھ اسے ہار آیا ہوں
    بیٹھ جاؤں گا ابھی دم بھر میں
    شہر پر مثلِ غبار آیا ہوں
    دوست ہیں میرے مقابل اب کے
    اپنے دشمن کو تو مار آیا ہوں
    اور بھی لوگ ہیں کچھ ساتھ میرے
    ایک آنا تھا،سو چار آیا ہوں
    میں اعلانِ محبت کر کے
    بوجھ اِک سر سے اتار آیا ہوں!!

    [​IMG]

    کٹھن ہے راہگزر تھوڑی دور ساتھ چلو
    بہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو

    تمام عُمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے
    یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

    نشے میں چُور ہوں میں بھی تمہیں بھی ہوش نہیں
    بڑا مزہ ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

    ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں میں
    ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو

    یہ ایک شب کی مُلاقات بھی غنیمت ہے
    کِسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو

    طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے
    فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو


    (احمد فراز)

    ----

    چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے
    ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

    ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
    ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

    وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
    انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے

    مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
    مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے

    فراز ِعرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
    کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے

    بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
    مجھےیقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

    بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
    کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے
    ساغر صدیقی

    ----

    تجھ کو میں نے کھو دیا اِک نظر پانے کے بعد
    دل تڑپتا ہی رہا تیرے چلے جانے کے بعد

    حسرتیں جو دل میں تھیں وہ دل ہی میں رہ گیئں
    کیا ملا جو تم ملے حسرت نکل جانے کے بعد

    تجھ کو ڈھونڈا ہر جگہ تیرا پتہ نہ مل سکا
    اپنے ہی اندر ملا پر ٹھوکریں کھانے کے بعد

    ساقی میخانہ نے تجھکو ہے نوازا جام سے
    کیوں پیاسا رہ گیا پھر جام ہاتھ آنیکے بعد

    اپنے تھے سب قدرداں جب تم سے نہ تھے آشنا
    سب نے آنکھیں پھیر لیں ترِے قریب آنے کے بعد

    اس جہاں کی محفلوں نے کیا دیا تجھ کو مغل
    پر حقیقت بھی کھلی ہر شے چھن جانے کے بعد!

    [​IMG]


    وہ بُلائیں تو کیا تماشا ہو
    ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

    یہ کناروں سے کھیلنے والے
    ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

    بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
    ہم بتائیں تو کیا تماشہ ہو

    آج ہم بھی تیری وفاؤں پر
    مُسکرائیں تو کیا تماشہ ہو

    تیری صُورت جو اتفاق سے ہم
    بُھول جائیں تو کیا تماشہ ہو

    وقت کی چند ساعتیں ساغر
    لَوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

    ساغر صدیقی


    ----



    اس جہاں میں خوشی سے زیادہ ہے غم
    قہقوں سے پوچھ لو
    آنسوؤں سے پوچھ لو

    سیدھے راستے ذیادہ ہیں کہ پیچ وخم
    حادثوں سے پوچھ لو
    منزلوں سے پوچھ لو

    زندگی پہ یوں تو ہر کوئی نثار ہے
    آدمی کو آدمی سے کتنا پیار ہے
    کون کس کے واسطے ہے محترم
    دوستوں سے پوچھ لو
    دشمنوں سے پوچھ لو

    ان ہی خوبیوں میں ہیں خرابیاں بڑی
    وقت سے کریں خطاب روک کر گھڑی
    بے حسی بھی کھا رہی ہے ہوش کی قسم
    نیتوں سے پوچھ لو
    مقصدوں سے پوچھ لو

    کس کے دل کی آگ نے ضمیر کو چھوا
    کون اپنے سامنے جواب دہ ہوا
    جرم بے شمار ہیں ،عدالتیں ہیں کم
    مجرموں سے پوچھ
    منصفوں سے پوچھ لو!
    [​IMG]


    تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو ،کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
    میرے اندھیروں کی فکر چھوڑو، بس اپنے گھر کا خیال رکھنا

    اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ ، فصل بوئی تھی چاندنی کی
    اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی ملال رکھنا

    دیارِ الفت میں اجنبی کو، سفر یے درپیش ظلمتوں کا
    کہیں وہ راہوں میں کھو نہ جائے ذرا دریچہ اجال رکھنا

    وہ رسم و راہ ہی نہیں، تو پھر یہ اثاثے کس کام کے تمھارے
    ادھر سے گذرا کبھی تو لے لوں گا، تم میرے خط نکال رکھنا

    بچھڑنے والے نے وقتِ رخصت کچھ اس نظر سے پلٹ کے دیکھا
    کہ جیسے وہ بھی ہی کہہ رہا ہو، تم اپنے گھر کا خیال رکھنا

    یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے، یاں خزاں بہاروں کی گھات میں ہے
    نصیب صبح عروج ہو تو نظر میں شام ذوال رکھنا

    کسے خبر ہے کہ کب یہ موسم اڑا کے رکھ دے خاک آذر
    تم احتیاّطا زمیں پہ فلک کی چادر ہی ڈال رکھنا


    (اعزاز احمد آزر)
    [​IMG]



    مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
    میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دُعا نہ دے

    میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں
    جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خُدا نہ دے

    نہ یہ زندگی مری زندگی، نہ یہ داستاں مری داستاں
    میں خیال و وہم سے دور ہوں، مجھے آج کوئی صدا نہ دے

    مرے گھر سے دور ہیں راحتیں، مجھے ڈھونڈتی ہیں مصیبتیں
    مجھ خوف یہ کہ مرا پتہ کوئی گردشوں کو بتا نہ دے

    مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر
    یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے

    مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
    مجھے خوف آتشِ گُل سے ہے کہیں یہ چمن کو جلا نہ دے

    درِ یار پہ بڑی دھوم ہے ، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
    ابھی نیند آئی ہے حُسن کو کوئی شور کر کے جگا نہ دے

    مرے داغِ دل سے ہے روشنی یہی روشنی مری زندگی
    مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تُو ہی بُجھا نہ دے

    وہ اُٹھے ہیں لے کے خم و سبو، ارے اے شکیل کہاں ہے تُو
    ترا جام لینے کو بزم میں ، کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

    (شکیل)

    ----

    گاؤں کی تہذیب کی اب پاسداری چھوڑ دی
    شہر میں رہنے کی خاطر انکساری چھوڑ دی

    اتفاقاً دشمنوں نے حال کیا پوچھا میرا
    اتنقاماً دوستوں نے غمگساری چھوڑ دی

    لاڈلے بیٹے کی بربادی کا ساماں ہو گیا
    ماں نے بے جا حرکتوں پر ناگواری چھوڑ دی

    بارشیں کرتا ہے وہ خشک پیڑوں کے لیئے
    باغباں نے قصداً آبیاری چھوڑ دی!
     
  18. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
    مری زیست کے کسی موڈ پر جو مجھے ملا تھا بہار میں

    وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی
    کوئی اور اس کے سوا نہیں, میری خواہشوں کے دیار میں

    وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں, کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
    سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں

    یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے
    کوئی فاصلہ تو نہیں, تیری جیت میں میری ہار میں

    ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے
    کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں

    کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا
    نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں

    اعتبار ساجد
    [​IMG]



    آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی
    در بدر پھرائے گی رات پورے چاند کی

    بام و در کی قید میں روح پھڑ پھڑائے گی
    وحشتیں بڑھائے گی رات پورے چاند کی

    جس طرف میں جاؤں گا میرے سائے کی طرح
    میرے ساتھ جائے گی رات پورے چاند کی

    یہ سمندری ہوا، اس پہ قرب کا نشہ
    کتنے ظلم ڈھائے گی رات پورے چاند کی

    ایسا لگ رہا ہے اب ، تو اگر بچھڑ گیا
    لوٹ کر نہ آئے گی رات پورے چاند کی

    قمقموں کے شہر میں اپنی اپنی سیج پر
    صبح تک جگائے گی رات پورے چاند کی

    آج ہی سے چھوڑ دے میرا ہاتھ ورنہ پھر
    عمر بھر رلائے گی رات پورے چاند کی
    اعتبار ساجد



    ----

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مُشت غبار ہوں

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا، میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا، میں اسی کی فصل بہار ہوں

    پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
    کوئی آ کے شمع جلائے کیوں، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں

    میں نہیں ہوں نغمہ، جاں فزا، مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے ہی روگ کی ہوں صدا، میں بڑے دکھوں کی پکار ہوں

    بہادر شاہ ظفر

    ----

    یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
    جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا

    اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
    یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا

    غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
    کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا

    امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
    وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا

    ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
    یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    حسرت چراغ حسن

    [​IMG]




    ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات ایسی یاد نہ تُم کو آ سکے
    تم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بھلا سکے

    تم ہی اگر نہ سُن سکے قصئہ غم، سنے گا کون
    کِس کی زباں کھلے گی پِھر ہم نہ اگر سنا سکے

    ہوش میں آ چُکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم
    بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے

    رونقِ بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں
    دِل میں شکائتیں رہیں لب نہ مگر ہلا سکے

    شوقِ وصال ہے یہاں لب پہ سوال ہے یہاں
    کس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے

    ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھرسکے
    سُن کے یقین کرسکے، جا کے انہیں سنا سکے

    عجز سے اور بڑھ گئی برہمئیِ مزاجِ دوست
    اَب وہ کرے علاجِ دوست جس کی سمجھ میں آ سکے

    اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
    کون تیری طرح حفیظ درد کے گیِت گا سکے

    حفیظ جالندھری




    ----

    ابھی تو میں جوان ہوں


    ہوا بھی خوشگوار ہے
    گُلوں پہ بھی نکھار ہے
    ترنّمِ ہزار ہے
    بہار پھر بہار ہے
    کہاں چلا ہے ساقیا
    اِدھر تو لوٹ اِدھر تو آ
    ارے یہ دیکھتا ہے کیا
    اُٹھا سُبو، سبُو اٹھا
    سبو اٹھا پیالہ بھر
    پیالہ بھر کے دے ادھر
    چمن کی سمت کر نظر
    سماں تو دیکھ بے خبر
    وہ کالی کالی بدلیاں
    افق پہ ہوگئیں عیاں
    وہ اک ہجوم میکشاں
    ہے سوئیے میکدہ رواں
    یہ کیا گماں ہے بدگماں
    سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
    خیالِ زہد ابھی کہاں
    ابھی تو میں جوان ہوں
    نہ غم کشور و بست کا
    بلند کا نہ پست کا
    نہ بو د کا نہ ہست کا
    نہ وعدئہ الَست کا
    اُمید اور یاس گُم
    حواس گُم، قیاس گُم
    نظر سے آس پاس گُم
    ہُما ، بُجز گلاس گُم
    نہ مے میں کچھ رمی رہے
    قدح سے ہمدمی رہے
    نشست یہ جمی رہے
    یہی ہما ہمی رہے
    وہ راگ چھیڑ مطُربا
    طرب فزا، الم رُبا
    اثر صدائے ساز کا
    جگر میں آگ دے لگا
    ہر ایک لب پہ ہو صدا
    نہ ہاتھ روک ساقیا
    پلائے جا پلائے جا
    ابھی تو میں جوان ہوں

    (حفیظ جالندھری)

    [​IMG]



    بھولے سے محبّت ّکر بیٹھا ، ناداں تھا بیچارا ، دل ہی تو ہے
    ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے ، بگڑو نا خدا را دل ہی تو ہے

    اس طرح نگاہیں مت پھیرو ، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
    سینے میں کوئی پتھر تو نہیں ، احساس کا مارا دل ہی تو ہے

    جزبات بھی ہندو ہوتے ہیں ، چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے
    دنیا کا اشارہ تھا ، لیکن سمجھا نہ اشارہ ، دل ہی تو ہے

    بیداد گروں کی ٹھوکر سے ، سب خواب سہانے چُور ہوئے
    اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے، اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے

    ساحر لدھیانوی


    ----

    مرے گیت

    مرے سرکش ترانے سن کر دنیا یہ سمجھتی ہے
    کہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں*سے نفرت ہے

    مجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہے
    مری فطرت کو خوں ریزی کے افسانوں سے رغبت ہے

    مری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کی
    مرا محبوب نغمہ شورِ آہنگِ بغاوت ہے

    مگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کو
    میں*جب تاروں* پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوں

    تصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیں
    تو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوں

    کوئی خوابوں میں* خوابیدہ امنگوں*کو جگاتی ہے
    تو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں *پاتا ہوں

    میں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہے
    مرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں*سکتا

    مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے
    مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا

    جواں* ہوں میں، جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہے
    مری باتوں* میں رنگ پارسائی ہو نہیں*سکتا

    مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے، تو اتنی ہے
    کہ جب میں*دیکھتا ہوں*بھوک کے مارے انسانو*ں* کو

    غریبوں، مفلسوں*کو بےسکوں*کو بے سہاروں*کو
    سسکتی نازنینوں کو، تڑپتے نوجوانوں کو

    حکومت کے تشدد کو، امارت کے تکبر کو
    کسی کے چیتھڑوں کو، اور شہنشاہی خزانوں کو

    تو دل تابِ بزم عشرت لا نہیں سکتا
    میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا

    ساحر لدھیانوی
    [​IMG]


    ----

    بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں
    رنگ میں ڈوبی ہوئی ، نیند سے بھاری آنکھیں

    میری ہر سوچ نے ، ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں
    جب سے دیکھا ہے تمہیں ، تب سے سراہا ہے تمہیں
    بس گئی ہیں میری آنکھوں میں ، تمہاری آنکھیں

    تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں
    تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں
    کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں

    جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے
    تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے
    اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں


    ساحر لدھیانوی
    [​IMG]


    رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کرو
    یہ مُرادوں کی حسین، رات کسے پیش کروں

    میں نے جذبات نبھائے ہیں اصولوں کی جگہ
    اپنے ارمان پرو لایا ہوں پُھولوں کی جگہ
    تیرے سہرے کی یہ سوغات کسے پیش کروں
    یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

    یہ مرے شعر مرے آخری نذرانے میں
    میں ان اپنوں میں ہوں جو آج سے بیگانے ہیں
    بے تعلق سی ملاقات کسے پیش کروں
    یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

    سُرخ جوڑے کی تب و تاب مبارک ہو تجھے
    تیری آنکھوں کا نیا خواب مبارک ہو تجھے
    میں یہ خواہش یہ خیالات کِسے پیش کروں
    یہ مرادوں کی حَسیں رات کسے پیش کروں

    کون کہتا ہے کہ چاہت پہ سبھی کا حق ہے
    تو جسے چاہے ترا پیار اسی کا حق ہے
    مجھ سے کہہ دے میں ترا ہاتھ کسے پیش کروں
    یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

    ساحر لدھیانوی
    [​IMG]
     
  19. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا

    تمہاری ڈائری میں لکھا وہ نام کس کا ہے
    بڑے ادب سے لکھا وہ سلام کس کا ہے

    جو اشعار پڑھ کے جناب مسکرا رہے تھے
    کیا پوچھ سکتا ہوں میں، وہ کلام کس کا ہے

    تمہاری پرواز تو بلندیوں کو عبور کرتی رہی
    تمہارے دل کو جو چھو گیا وہ مقام کس کا ہے

    چشم بد دور! بڑے بن ٹھن کے بیٹھے ہو آج
    منتظر نگاہوں میں چھپا یہ اہتمام کس کا ہے

    ہاتھوں میں اُٹھاتے ہو تو کبھی سینے لگاتے ہو
    کچھ بتلا بھی دو پیام رساں کون ہے پیام کس کا ہے
     
  20. kamrankhan143

    kamrankhan143 Registered Member

    Joined:
    Oct 11, 2009
    Messages:
    6,638
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    0
    Location:
    دوسری دنیا
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یونہی پہلو میں بیٹھے رہو۔
    ہائے مر جائیں گے
    ہم تو لٹ جائیں گے
    ایسی باتیں کیا نہ کرو
    آج جانے کی ضد نہ کرو

    تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمھیں
    جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
    تم کو اپنی قسم جانِ جاں
    بات اتنی میری مان لو
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یونہی پہلو میں بیٹھے رہو

    وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
    چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
    ان کو کھو کر میری جانِ جاں
    عمر بھر نہ ترستے رہو
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    ہائے مر جائیں گے
    ہم تو مٹ جائیں گے
    ایسی باتیں کیا نہ کرو

    کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں
    حسن اور عشق کی آج معراج ہے
    کل کی کس کو خبر جانِ جاں
    روک لو آج کی رات کو
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
    آج جانے کی ضد نہ کرو



    سنو اچھا نہیں لگتا
    مجھے اچھا نہیں لگتا

    کرے جب تذکرہ کوئی ۔۔۔ کرے جب تبصرہ کوئی
    تمہاری ذات کو کھوجے۔۔۔۔ تمہاری بات کو سوچے

    مجھے اچھا نہیں لگتا

    کہ کوئی دوسرا دیکھے ۔۔۔۔۔ تمہاری شربتی آنکھیں
    لب ورخسار اور پلکیں۔۔۔۔۔۔ سیاہ لمبی گھنی زلفیں

    مجھے اچھا نہیں لگتا

    تمہاری مسکراہٹ پر ۔۔۔ ہزاروں لوگ مرتے ہیں
    تمہاری ایک آہٹ پر ۔۔۔۔ہزاروں دل دھڑکتے ہیں

    کسی کا تم پہ یوں مرنا
    مجھے اچھا نہیں لگتا

    ہوا گزرے تمہیں چھو کر۔۔۔۔ نہ ہوگا ضبط یہ مجھ سے
    کرے گستاخی کوئی تم سے۔۔۔۔ تمہاری زلفیں بکھر جائیں

    مجھے اچھا نہیں لگتا

    کہ تم کو پھول بھی دیکھیں۔۔۔۔ تمہاری باس سے مہکیں
    کہ چندا بھی تیرے رخ کو ۔۔۔۔۔ نظر بھر کے کبھی دیکھے

    مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔
    اے سنو !!!
    مجھے اچھا نہیں لگتا


    [​IMG]


    اگر کبھی میری یاد آۓ
    تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
    کسی ستارے کو دیکھ لینا
    اگر وہ نخل فلک سے اتر کر
    تمہارے قدموں میں آ گرے تو
    یہ جان لینا
    وہ استعارہ تھا میرے دل کا
    اوراگرکبھی میری یاد نہ آۓ!
    مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے؟
    کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
    تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
    وہ اپنی ہستی نہ بھول جاۓ!!
    اگر کبھی میری یاد آۓ
    گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
    میں خشبووں میں تمہیں ملوں گا
    مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
    میں اوس قطروں کے آئینے میں تمہیں ملوں گا
    اوراگر ستاروں میں، گلابوں میں اوراوس قطروں میں
    نہ پاؤ مجھ کو
    تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
    میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا

    [​IMG]
    (امجد اسلام امجد)


    زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

    تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا مجھ کو
    یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے
    اک ذرا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر
    میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے
    تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

    اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے
    میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے
    میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں
    میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں*سے چرایا ہے تجھے
    پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

    تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں*میں چراغ
    جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے
    تجھ کو چھو لوں*تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو
    دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے
    تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

    زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
    میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا


    [​IMG]



    یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی
    یہی ہم سوچتے تھے آج سے کچھ سال پہلے بھی

    ردائے خواب سے باہر نہیں نکلے ہیں ہم اب تک
    ستاروں سے بھری اوڑھے ہوئے تھے شال پہلے بھی

    اسی دامن سے آنسو پونچھتے تھے خلوتوں میں ہم
    اس مٹی میں رلتے تھے ہمارے لال پہلے بھی

    درو دیوار ہی سنتے تھے سارے شہر کے دکھڑے
    یہی تھا دامعینِ محترم کا کال پہلے بھی

    یہی دامن تھا جس کی دھجیوں پر شعر لکھتے تھے
    ہمارا شہر میں تھا میر جیسا حال پہلے بھی

    یہ عشق آرزو پہلے بھی گلیوں میں پھراتا تھا
    گلے کا طوق تھا کم بخت یہ جنجال پہلے بھی

    نئی اب کون سی حالات کی صورت نکل آئی
    یہی ہم تھے ، یہی تم تھے ، یہی احوال پہلے بھی

    اعتبار ساجد

    [​IMG]


    یاد

    اس موسم ميں جتنے پھول کھليں گے
    ان ميں تيري ياد کي خوشبو ہر سو روشن ہوگي
    پتہ پتہ بھولے بسرے رنگوں کي تصوير بناتا گزرے گا
    اک ياد جگاتا گزرے گا

    اس موسم ميں جتنے تارے آسمان پہ ظاہر ہوں گے
    ان ميں تيري ياد کا پيکر منظر عرياں ہوگا
    تيري جھل مل ياد کا چہرا روپ دکھاتا گزرے گا

    اس موسم ميں
    دل دنيا ميں جو بھي آہٹ ہوگي
    اس ميں تيري ياد کا سايا گيت کي صورت ڈھل جائے گا
    شبنم سے آواز ملا کر کلياں اس کو دوہرائيں گي
    تيري ياد کي سن گن لينے چاند ميرے گھر اترے گا

    آنکھيں پھول بچھائيں گي
    اپني ياد کي خوشبو کو دان کرو اور اپنے دل ميں آنے دو
    يا ميري جھولي کو بھر دو يا مجھ کو مرجانے دو


    (امجد اسلام امجد)

    [​IMG]

    ہیں آباد لاکھوں جہاں میرے دل میں
    کبھی آؤ دامن کشاں میرے دل میں

    اترتی ہے دھیرے سے راتوں کی چپ میں
    ترے روپ کی کہکشاں میرے دل میں

    اُبھرتی ہیں راہوں سے کرنوں کی لہریں
    سسکتی ہیں پرچھائیاں میرے دل میں

    وہی نور کی بارشیں کاخ و کو پر
    وہی جھٹپٹے کا سماں میرے دل میں

    زمانے کے لب پر زمانے کی باتیں
    مری دکھ بھری داستاں میرے دل میں

    کوئی کیا رہے گا جہانِ فنا میں
    رہو تو رہو جاوداں میرے دل میں

    [​IMG]


    تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے

    تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے

    خدا مجھے یہ تحمل یہ حوصلہ بھی نہ دے

    مرے بیان صفائی کے درمیاں مت بول

    سنے بغیر مجھے اپنا فیصلہ بھی نہ دے

    یہ عمر میں نے ترے نام بے طلب لکھ دی

    بھلے سے دامن دل میں کہیں جگہ بھی نہ دے

    یہ دن بھی آئیں گے ایسا کبھی نہ سوچا تھا

    وہ مجھ کو دیکھ بھی لے اور مسکرا بھی نہ دے


    “ اعتبار ساجد“


    [​IMG]

    یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں
    میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں

    ایسی فضا کے قہر میں ، ایسی ہوا کے زہر میں
    زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں

    اور بہت سی الجھنیں طوق و رسن سے بڑھ کے ہیں
    ذکر جمال کیا کریں ، فکرِ وصال کیاکریں

    ڈھونڈ لئے ہیں چارہ گر، ہم نے دیارِ غیر میں
    گھر میں ہمارا کون ہے ، گھر کا خیال کیا کریں

    چنتے ہیں دل کی کرچیاں ، بکھری ہیں جو یہاں وہاں
    ہونا تھا ایک دن یہی، رنجِ مآل کیا کریں


    اعتبار ساجد


    مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں


    مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں

    مرے شعر ، میری صداقتیں ، مری دھڑکنیں ، مری چاہتیں

    تجھے جذب کرلوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر

    تری دھڑکنوں میں اتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں

    یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے

    تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں

    مری صبح تیری صدا سے ہو ، مری شام تیری ضیا سے ہو

    یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوں کی سفارتیں

    کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہاں یقین دلا سکوں

    کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل ، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں

    ترا قرض ہیں مرے روز و شب ، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں

    مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں


    اعتبار ساجد



    [​IMG]