مسجد نبوی کی فضیلت و تصاویر

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#1
مسجد نبوی کی فضیلت


مرسل: ابن ِعبدالملک محمدعبدالعظیم نظامی
۱) حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری مسجد میں ایک نماز کعبہ کے سوا دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔بیشک میں سب نبیوں میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد سب مسجدوں میں آخر مسجد ہے ۔ (بخاری ومسلم) دوسری روایت میں پچاس ہزار نمازوں کا ثواب لکھا ہے۔(ابن ماجہ)
۲)ارشاد نبوی ہے جو شخص میری اس مسجدمیں نیکی کرنے یا سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو اسکا مرتبہ خدا کی بارگاہ میں جہاد کرنے والے کے مرتبہ کے برابر ہوگا۔ (ابن ماجہ۔ بیہقی )
۳) سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اسطرح پڑھے کہ کوئی نماز اسکی فوت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسکے واسطے دوزخ‘عذاب اور نفاق سے نجات لکھدے گا۔ (طبرانی۔احمد)
۴)ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہے جو شخص وضو کرکے میری مسجد میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلا اور اسمیں نماز پڑھی تو اسکی یہ نماز ایک حج کے برابر ہے۔(رقیمہ)
۵)ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم ہے اگر میری مسجد صفا تک وسیع کی جائے تو بھی وہ میری ہی مسجد ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر مسجد نبوی کو ذوالحلیفہ تک بھی بڑھا دیا جائے تو وہی مسجد نبوی رہیگی۔(رقیمہ)
۶) جس نے مکہ تک ارادہ کیا اور میری مسجد تک آنے کی نیت کی تو اسکے لئے دو حج مقبول لکھے جاتے ہیں۔(رقیمہ)


شاہ عبدالعزیز آل سعود کے دور حکومت میں مسجد نبوی کے توسیعی کام کی ایک تصویر۔


 
Last edited:

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#4


مسجد نبوی سے متعلق حیران کن حقائق جو آپ نہیں جانتے
مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہوتا ہے- یہ وہ مقام ہے جہاں تمام مسلمان اکھٹے ہو کر عبادت کرتے ہیں- دنیا بھر کی مساجد اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں- سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی اسلام کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے اور اس مسجد کی خوبصورتی دیکھ کر انسان کی سانسیں تھم سی جاتی ہیں- مسجد نبوی ایک قدیم مسجد ہے جس کی اب تک متعدد بار توسیع اور تزئین و آرائش کی جاچکی ہے- ہم یہاں مسجد نبوی سے متعلق ایسے حیران کن حقائق بیان کریں گے جن سے آپ اب تک ناواقف تھے-

بجلی کی سہولت

سلطنتِ عثمانیہ نے جب عرب جزائر میں بجلی متعارف کروائی تو سب سے پہلے مسجد نبوی میں یہ سہولت فراہم کی گئی- بعض روایات کے مطابق اس سے چند سال قبل ہی سلطان کے استنبول میں واقع محل میں بجلی کی سہولت مہیا کی گئی تھی-

موجودہ مسجد قدیم شہر سے بھی بڑی

موجودہ مسجدِ نبوی کا رقبہ قدیم مسجدِ نبوی کے مقابلے میں 100 گنا بڑا ہے اور یہ مسلسل توسیع کا نتیجہ ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسجد پورے قدیم شہر مدینہ پر پھیلی ہوئی ہے- اس بات کا اندازہ ایسے بھی لگایا جاسکتا ہے مقبول ترین قبرستان جنت البقیع پہلے مدینہ شہر کے اطراف میں واقع تھا لیکن اب اس کی سرحد مسجد نبوی سے ملحق ہے-

خالی قبر

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے حجرہ مبارک میں موجود نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم٬ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی قبور کے ساتھ ہی ایک خالی جگہ بھی موجود ہے- اس کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دفن کیا جائے گا-

آگ

ماضی میں قدیم مسجدِ نبوی کا زیادہ تر حصہ آگ کا شکار بن چکا ہے- یہ آگ بہت وسیع پیمانے پر پھیلی تھی اور کافی تباہی ہوئی تھی- یہاں تک مسجدِ نبوی کی چھت اور دیواریں بھی اس کی لپیٹ میں آگئی تھیں-

کوئی گنبد نہیں تھا
نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے 650 سال بعد تک روضہ مبارک کے اوپر کوئی گنبد موجود نہیں تھا- پہلی بار 1279 میں مملوک سلطان نے یہاں گنبد تعمیر کروایا جو لکڑی سے تیار کردہ تھا- اب یہاں دو گنبد ہیں جن میں سے ایک اندر کی جانب ہے-
مختلف رنگ
اس طویل عرصے کے دوران گنبد کو متعدد بار مختلف رنگوں سے آراستہ کیا گیا ہے- ایک بار اسے سفید رنگ میں بھی ڈھالا گیا جبکہ یہ گنبد طویل عرصے سے تک جامنی رنگ سے بھی آراستہ رہا ہے-
تین محراب
زیادہ تر مساجد میں 1 محراب بنایا جاتا ہے لیکن مسجدِ نبوی میں 3 محراب بنائے گئے ہیں- حالیہ امامت کے لیے استعمال ہونے والے محراب کے علاوہ دیگر محراب قدیم ہیں- ان میں سے ایک محراب کو سلیمانیہ محراب کہا جاتا ہے جسے سلطان سلیمان کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا-



 
Last edited:

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#16
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مسجد نبوی کی بنیاد1050 مربع میٹر جگہ سے رکھی۔ مسجد کی عمارت کچی اینٹوں، گارے، کھجور کے تنوں اور پتوں سے بنائی گئی۔عرب ٹی وی کے مطابق گذشتہ چودہ سو سال کے دوران مسجد نبوی کی چودہ بار توسیع کی گئی۔ گویا مسجد نبوی کی ہرصدی میں ایک بار توسیع کی جاتی رہی ہے۔

ایک ہزار پچاس مربع میٹر سے شروع ہونے والی مسجد نبوی آج پانچ لاکھ مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ مسجد نبوی کی پہلی توسیع خود نبی اکرم کے زمانے میں کی گئی۔ 1050 مربع میٹر مسجد میں مزید 1425 مربع میٹر کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد مسجد کی جگہ 2500 مربع میٹر ہوگئی۔ مسجد نبوی کے شعبہ تعلقات عامہ و اطلاعات کے ڈائریکٹر عبدالواحد الحطاب نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد نبوی کےقیام کے بعد آج تک اس کی توسیع میں 300 گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

آج شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک مسجد نبوی کی توسیع تین سو گنا ہوچکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو انہوں نے سوسائٹی کو مجتمع کرنے کے لے مسجد کی بنیاد رکھی مگر مسجد نبوی سے قبل آپ مسجد قباءتعمیر کرچکے تھے جسے اسلام کی سب سے پہلی مسجد کا درجہ حاصل ہے۔

گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران مسجد نبوی 1050 میٹر کی جگہ سے پھیل کر آج پانچ لاکھ مربع میٹرتک پہنچ گئی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا مسجد نبوی کی پہلی توسیع خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوئی اور مسجد کی جگہ 2500 مربع میٹر کردی گئی تھی۔ مسجد نبوی کی یہ پہلی توسیع ساتویں صدی عیسوی میں ہوئی۔سنہ 17 ھ کو دوسرے خلفیہ راشد عمر بن الخطاب نے مسجد نبوی میں 1100 مربع میٹر کی مزید توسیع کرائی جس کے بعد مسجد کا کل رقبہ 3600 مربع میٹر تک پھیل گیا۔

سنہ 29 اور 30 ھ کے دوران تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان نے مسجد نبوی میں 496 مربع میٹر کی توسیع کرائی جس کے بعد مسجد نبوی 4096 مربع میٹر ہوگئی۔ اموی دور حکومت میں خلیفہ ولید بن عبدالملک نے 88 تا 91ھ میں مسجد نبوی میں 2369 مربع میٹر کی جگہ مسجد نبوی میں شامل کرائی جس کے بعد مسجد کا احاطہ 6465 مربع میٹر ہوگیا۔سنہ 161ھ میں عباسی خلیفہ مہدی نے 2450 مربع میٹر کا مزید رقبہ مسجد نبوی کا حصہ بنایا جس کے بعد مسجد 8 ہزار 915 مربع میٹر پر پھیل گئی۔

سن 888ھ کو سلطان اشرف قاتیبائی نے 120 مربع میٹر کی جگہ مسجد نبوی میں شامل کی اور مسجد 9053 مربع میٹر پر پھیل گئی۔ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید نے 1293 میٹر مسجد نبوی میں توسیع کرائی جس کے بعد مسجد کا رقبہ 10328 مربع میٹر تک جا پہنچا۔ یہ توسیع 1265ھ میں کرائی گئی تھی۔موجودہ آل سعود خاندان کے دور میں اب تک مسجد نبوی کی تین بار توسیع کی جا چکی ہے۔

موجود حکومت کے دور میں پہلی توسیع شاہ عبدالعزیز کے حکم پر 1372ھ کو کرائی گئی۔ پہلی توسیع میں 6024 مربع میٹر مسجد نبوی میں شامل کیا گیا جس کے بعد مسجد کا احاطہ 16 ہزار 326 میٹر ہوگیا۔شاہ فہد بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی میں 82 ہزار مربع میٹر کا اضافہ کیا اور یوں مسجد کا رقبہ 98 ہزار 352 مربع میٹر ہوگیا۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے مزید 30 ہزار 500 مربع میٹر کا رقبہ مسجد نبوی میں شامل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد مسجد نبوی اس میں شامل جگہ کا کل رقبہ 3 لاکھ 65 ہزار مربع میٹر ہوگیا۔ نئے توسیع منصوبے کے تحت مسجد کے بیرونی احاطے میں سائے کے لیے 250 سائبان لگائے گئے۔ پانی کو خشک کرنے کے لیے 436 پنکھے اس کے علاوہ ہیں۔​
 

Attachments

Top