آئیں کہانی لکھیں

SILENT.WALKER

ITD Star
Master Designer
Contest Winner
Joined
May 11, 2018
Threads
27
Messages
195
Likes
197
Points
187
Location
LAHORE, PAKISTAN

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
49
Messages
600
Likes
559
Points
299
Location
Karachi, Pakistan
Joined
May 9, 2018
Threads
28
Messages
205
Likes
156
Points
39
Location
Pakistan

Lovely Eyes

Senior Member
Joined
Apr 28, 2018
Threads
40
Messages
152
Likes
175
Points
44
#44
کہانی بُری طرح سے کھجل ہوگئی ہے، اب سمجھ نہیں آرہا کونسے سِرے سے آگے بڑھائی جائے :D ۔
ہر لکھاری اپنی مرضی سے ایپیسوڈ پوسٹ کررہا ہے اس لئے ایسا ہوا ہے
ورنہ جیسا سسٹر نے پہلی پوسٹ میں لکھا تھا کہ جہاں سے ختم ہو، وہیں سے آگے بڑھیں، اگر اسے فولو کرتے تو گڑ بڑ نہ ہوتی
 

Sabih Tariq

Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Threads
25
Messages
837
Likes
1,450
Points
392
Location
Central
#45
ججمجمجمجالی خان!جب حاضرہوا تو صبیح نے اس کےکندھوں پردونوں ہاتھوں سے زور سےدھکا دیاتو وہ پیچھے کی دیوار سےجا ٹکرایا،بقول کھجل سائیں اس عمل سے بڑے سے بڑا شیطانی جن کمزور پڑکر قابو میں آجاتاہے۔۔۔۔
اگرچہ اس عمل کا فائدہ تبھی ملتاہے جب مخالف کے پاس بھی طاقت ور شکتیاں ہوں:devilish:۔
ججمجمجمجالی خان کی شکتیاں بھی ہواہوگئیں اس نے بوکھلائے ہوئے کہا ،میرےآقا ،کیسے یاد کیا:pagal:؟
اوئے لخ لعنت شیطان تے، جا ہسپتال میں اپنے قدو قامت کے بندے میں گھس کر آ۔۔۔تیری شکل بڑی خوفناک ہے،صبیح اس ہیبت ناک طاقت ورجن کو دبانے میں کامیاب ہوگیاتھا;)۔۔

ججمجمجمجالی خان نے سر تسلیم خم کرتے ہوئےکسی بندے کی تلاش میں نکلا تواسے ہسپتال کے عملے میں موجود ایک جوان "سائلنٹ جان" پسند آگیا:pagal:،اس نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور گہرائی تک سائلنٹ جان کے اندر اترتاچلا گیا۔۔۔

سائلنٹ جان کے دل دماغ پر ججمجمجمجالی خان نے مکمل قبضہ کرلیا تو وہ سوچنے لگا کہ صبیح اسے کیا حکم دیں گے کہ اسے اونچی آواز سنائی دی جو ہسپتال کے عملے کو بلارہی تھی۔
ججمجمجمجالی خان نے سوچا کہ سائلنٹ جان کی نوکری تیل کرنے سے بہتر ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرے ۔۔:Dچنانچہ وہ ایمرجنسی کی نوعیت جاننے ایکسڈنٹ اور ایمرجنسی کی جانب تیزی سے ڈاکٹروں کیساتھ بڑھنے لگا۔

ایمرجنسی میں ،کھجل سائیں ہسپتال کے عملے کی مدد سے، اے ایم ،ڈاکٹر بھائی، ایکسٹو اور ناعمہ سسٹر کو سٹریچر پر ڈالے آرہاتھاجنہوں نے علی بابا دیوار سے ٹکر ماری تھی:pagal:، کھجل سائیں نے کہا کہ ان چاروں کو حادثے میں چوٹیں آئیں ہیں، ان کا فوری علاج کرو۔۔۔۔۔
ججمجمجمجالی خان اپنے علم سے سمجھ گیا کہ اصل کہانی کیا ہے، لیکن وہ کھجل سائیں کا دشمن تھا اس لیے ان چاروں کو سزا دے کر وہ کھجل سائیں کو تکلیف دینے کے اس نادر موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتاتھا۔:eek:۔
نرسوں نے سٹریچر دھکیل کر انہیں کمروں میں شفٹ کردیا تو سائلنٹ جان عرف ججمجمجمجالی خان تیزی سے اپنے شیطانی منصوبے پر عمل کرنے کا سوچنے لگا۔۔۔
وہ سب سے پہلے ایکسٹو کی جانب بڑھا تاکہ اسےجادو کے ذریعےسے طوطا بناکر فٹ پاتھ پر بیٹھے فال والے کو دے کر سائلنٹ جان سے اس کی دوستی کروادے:pagal:، ججمجمجمجالی خان، سائلنٹ جان کے اندر رہ کر اس کا دماغ پڑھ چکاتھا کہ وہ طوطا فال والے سے دوستی کا خواہاں ہے جو اصل میں چرس کا بہت بڑا بیوپاری ہے اور ہال ہی میں اس نے گل خان کے زریعے سےچرس کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل کیا۔
سائلنٹ جان راتوں رات امیر بننے کے چکر میں طوطا فال والے سے دوستی لگا کر چرس بزنس میں اس کا پارٹنر بننا چاہتاتھا۔:cool:۔۔۔
ججمجمجمجالی خان نے چند لمحوں میں تحقیق کرلی، طوطا فال والا اختر سائیں ملنگ چکی تائی تھا جو بھیس بدل کر فال نکالنے کی آڑمیں چرس فروخت کرتااور پولیس کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھا، حال ہی میں گل خان نے چرس کی بڑی مقدار کھجل سائیں کے گودام سے چوری کی تھی۔۔۔۔اے ایم ،ایکسٹو، ڈاکٹر بھائی ،گل خان اور :pagal:چکی تائی ،یہ سارے کھجل سائیں کی حالیہ واردات میں،گردن ،سینے اور گوڈوں تک ملوث تھے۔
لیکن دوسری طرف اپنی چرب زبانی اور سازش میں صبیح کو گھسیٹ کر سارا الزام اس پر تھوپنے کے چکروں میں اوٹ پٹانگ حرکات کرتے ہوئے لالہ لئیق شاہ کے خزانے تک بھی پہنچ چکے تھے تاکہ ان کے ہاتھ صاف رہیں اور وہ موقع واردات سے خود کو دور ثابت کرسکیں۔:pagal::pagal::pagal:۔۔

صبیح بے گناہ تھا اور ججمجمجمجالی خان نے فیصلہ کرلیاتھاکہ وہ اس ساری گھناؤنی سازش کو بے نقاب کرے گا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ سائلنٹ جان کے جسم سے نکل گیا تو سائلنٹ جان ،نڈھال ہوکر گرپڑا، اس کا رنگ زرد پڑاچکا تھا ۔۔۔۔

کھجل سائیں نے دیکھا کہ ایک صحت مند جوان جو ابھی اس کے لائے ہوئے مریضوں کے علاج میں جوش وخروش :Dاور تندہی سے مستعد کھڑا تھا کہ اچانک کیا ہوا کہ گنڈیری کی طرح چوسا اور چبایا ہوا ہوگیاہے۔

اوئے بالک! کھجل سائیں نے سائلنٹ جان سے پوچھا، کہیں تجھے دست تونہیں لگ گئے جو تو چھڑا ہوکر خشک پھپھندرا بن گیاہے،اوئے توتو ایسا ہوگیا جیسے تلی پرملا ہوا تمباکو۔:pagal:۔۔جسے پھونک ماریں تو بھس کی طرح اڑجائے۔
:pagal::pagal:
سائلنٹ جان جو گھم صم پتھر سا بناہواتھابابا کھجل سائیں کے شفیق چہرے اورجسم سے اٹھتی ہوئی چرسیلی مہک سےمتاثر ہوکر کھجل سائیں کا گرویدہ ہوگیا۔۔۔اس کا ایسا حال ہوا کہ آنسو ٹپک کر ڈھلکتاہوا آنکھ کے گوشے :Dسے باہرنکل آیاجیسا مرغی نے انڈادیاہو۔۔۔۔

کھجل سائیں ہسپتال میں اپنےچیلوں! جو اب مریض تھے کو داخل کرواکر مطمئن ہوگیاتھا،وہ سائلنٹ جان کے لیے اپنے دل میں اچانک ویسے ہی ہمدردی محسوس کرنے لگا جیسا کہ اے ایم کے لیے تھی۔۔۔۔

کھجل سائیں اپنے دیگر چیلوں کی مدد سے سائلنٹ جان کو اپنی جھونپڑی میں لے آیا۔۔۔۔کھجل سائیں نے فوری طور پر خشک مگرمچھ کی ٹانگوں کا سوپ بنواکر سائلنٹ جان کو پلایاتو اس کا ایسااثر ہواکہ اس کے آنسو بہنا ;)بند ہوگئے۔

پھر کھجل سائیں نے کش لگاتے ہوئے اپنےدو طاقت ور چیلوں کواشارا کیا جنہوں نے سائلنٹ جان کو پکڑ کر اس کا منہ کھلوایااور اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے ،۔۔۔ کھجل سائیں نے اپنا جھوٹاچرسیلہ ،کھجلیہ،بدبووِیہ کش کادھواں سائلنٹ جان کے کھلے منہ کے اندر پھونک دیا۔۔۔۔۔:pagal:۔۔۔
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

گل خان اور سائیں اختر ملنگ چکی تائی نے کھجل سائیں کے چرس کے گودام سے بڑی مقدار کالے سونے کی پار کی تو وہ سیدھااپنے ٹھکانے پر پہنچے،لیکن انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کھجل سائیں کا منحوس شک ان پر ضرور پڑے گا،لہذا کالا سونا ان کے پاس سے برآمد نہیں ہوناچائیے چاہے بعد میں شک یقین میں بھی بدل جائے;)۔۔۔

کافی سوچ وبچار کے بعدوہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے کالے سونے کو ایک پیٹی میں اچھی طرح پیک کرکےگاڑی میں رکھا اورچوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔

ایکسٹو! جو لومڑیوں کے اغوا کے بعد ٹک کرنہیں بیٹھنے لگے تھے اس وقت اپنی عادت کے مطابق گیڈر جنگل میں زکوٹا جن کی طرح گھول گھول گھومتے ہوئے کسی انجانی مخلوق کو تاؤ دلاتے رہتے۔۔۔،۔:D۔۔۔۔
سائیں اختر ملنگ چکی تائی اور گل خان نے ایکسٹو کو دیکھ کر کہا بیکار اوٹ پٹانگ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ گیڈر جنگل میں جائے ،ایکسٹو تو ویسے بھی ویلہ تھا وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ چل دیا:pagal:۔
گل خان اور چکی تائی دو خطرناک بندوں کے ساتھ ایکسٹو کا خوشی خوشی چلے جانا عقل سے بعید تھالیکن شاید سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
گل خان اور چکی تائی تو ایسے لگتا تھاکہ جیسے جنگل کے بھیدی ہیں، وہ ایسی ایسی گھاٹیوں ،کھائیوں اور گھنے درختوں کے جھنڈوں سے گزر کر جنگل کی ایسی گھنی جگہ تک پہنچے جہاں دن میں بھی رات تھی،جبکہ ایکسٹو کو وہاں پہنچ کر بڑی حیرت ہوئی اور چہرے سے پزل دیکھائی دینے لگا، ایسے لگتا تھا کہ ایکسٹو کو مغرب اور مشرق کا احساس بھی نہیں رہا:alien::devilish::devilish:۔۔۔
ایکسٹو سے پوشیدہ ہوکر گل خان نے زمین پر پھیلی ہوئی ایک جھاڑی کے اندر پیٹی رکھ کر آس پاس سے چند پتھر اور سوکھی لکڑیاں ڈال کر پیٹی اچھی طرح سےچھپادی اور چکی تائی نے ایکسٹو کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ تم سیدھے اس رخ پر جاؤ آگے جنگلی لیچی کا درخت آئے گا،پھروہاں سے بائیں طرف مڑنا اور جنگل کے اختتام پر تم بستی کے کنارے خود کو پاؤگے۔۔۔
ایکسٹو! انتہائی شرافت سے اثبات میں سرہلاکر ان کے گلے پیشگی عید مبارک کہہ کر ملا اور چل دیا:eek:۔۔۔
یہیں سے ایکسٹو بھائی کی بدقسمتی کا آغاز ہوتاہے۔
ایکسٹو بھائی دو خطرناک شخصوں گل خان اور چکی تائی پر اعتبار ،اعتبار بھی ایسا کہ قدم قدم ان کی ہدایت پر اٹھائے جنگل میں ایسی جگہ پہنچتاہے ،جہاں درختوں پر پتے بھی سوکھے سڑے ہوتے ہیں ، بھوک اور پیاس سے ان کی حالت ابتر ہوجاتی ہے۔
تین دن تک بھٹکنے کے بعد ایکسٹو بھائی کی حالت غیر ہوجاتی ہے،وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی آواز میں کہتا ہے کہ کبھی کسی پر اندھا اعتبار نہ کرنا۔
:rolleyes::oops::cry:

ججمجمجمجالی خان!چرس کی پیٹی کے پیچھے جنگل تک پہنچتا ہے لیکن صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔۔۔چنانچہ!!!
ججمجمجمجالی خان جسے سائلنٹ جان والا جن کہتےہوئے قدرے آسانی ہوگی ، صبیح کی ہدایت پر اسے کیلے لاکردیتاہے، ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔

سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے جہاں سائلنٹ جان بہتر حالت میں ہشاش بشاش بابا کھجل سائیں کی چرسیلی کھجلیہ بدبوویہ جھونپڑی تلے اس کی صحبت کے فیوض و برکات اور جھوٹی چرس کے علاج سے تندرستی پا کر ممنون احسان مندی کا پیکر بنا،ایکسٹو! کو خوش آمدید کہتے ہوئے نوید دیتاہے کہ ،"آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو"۔۔۔پہلے میں بھی آپ کی طرح کمزور تھا:pagal:۔۔لیکن اب ایسا توانا ہوں کہ اگر دس بندے مل کر کشتی لڑیں تو انہیں گرا دوں۔۔۔۔:D۔

ایکسٹوبھائی کو اپنی حالت دیکھ کر وہ باتیں کم اور بونگیاں زیادہ لگیں۔۔۔انہیں ایسا لگا سائلنٹ جان ان کا مذاق اڑارہے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal:

اب باقی کے لکھاری پیش رفت کرکے کہانی کے تسلسل کو آگے بڑھائیں یا ایکسٹو بھائی خود ہی آگے کا واقعہ بیان کریں:pagal:۔






 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#46
عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
تجربہ بیان کردیا آپ نے تو
:pagal::pagal:
 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#47
صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔
لوجی آج آپ یہ بھی مان گئے کہ یہ سارا شکتیوں کا کھیل آپ کا چلایا ہوا
اور آپ ہی اصل میں کھجل سائیں ہیں جو لوگوں کو ان شکتیوں کے چکر میں ڈالے رکھتے ہیں اور خود آرام سے بیٹھے چرس کا کاروبار کرتے رہتے ہیں

بٹن دباکے
:pagal::pagal::pagal::pagal:
 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#48
ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔
:pagal::pagal::pagal:
لگتا ہے افطار میں پکوڑے اور سموسے نہ پاکر ایکسٹو نے کیلے ہی چھلکوں سمیت کھالئے
:pagal::pagal:
 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#49
سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے
یہ صبیح کے کھجل سائیں ہونے کا ایک اور ثبوت
کھجل سائیں نے سائیلنٹ جن کو کہا تھا کہ ایکسٹو کی مدد کرو اور اسے اُٹھا کر میرے پاس پہنچادو
:pagal::pagal::pagal:
And the work has been done
:p:p:p:p:p
 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#50

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

گل خان اور سائیں اختر ملنگ چکی تائی نے کھجل سائیں کے چرس کے گودام سے بڑی مقدار کالے سونے کی پار کی تو وہ سیدھااپنے ٹھکانے پر پہنچے،لیکن انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کھجل سائیں کا منحوس شک ان پر ضرور پڑے گا،لہذا کالا سونا ان کے پاس سے برآمد نہیں ہوناچائیے چاہے بعد میں شک یقین میں بھی بدل جائے;)۔۔۔

کافی سوچ وبچار کے بعدوہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے کالے سونے کو ایک پیٹی میں اچھی طرح پیک کرکےگاڑی میں رکھا اورچوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔

ایکسٹو! جو لومڑیوں کے اغوا کے بعد ٹک کرنہیں بیٹھنے لگے تھے اس وقت اپنی عادت کے مطابق گیڈر جنگل میں زکوٹا جن کی طرح گھول گھول گھومتے ہوئے کسی انجانی مخلوق کو تاؤ دلاتے رہتے۔۔۔،۔:D۔۔۔۔
سائیں اختر ملنگ چکی تائی اور گل خان نے ایکسٹو کو دیکھ کر کہا بیکار اوٹ پٹانگ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ گیڈر جنگل میں جائے ،ایکسٹو تو ویسے بھی ویلہ تھا وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ چل دیا:pagal:۔
گل خان اور چکی تائی دو خطرناک بندوں کے ساتھ ایکسٹو کا خوشی خوشی چلے جانا عقل سے بعید تھالیکن شاید سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
گل خان اور چکی تائی تو ایسے لگتا تھاکہ جیسے جنگل کے بھیدی ہیں، وہ ایسی ایسی گھاٹیوں ،کھائیوں اور گھنے درختوں کے جھنڈوں سے گزر کر جنگل کی ایسی گھنی جگہ تک پہنچے جہاں دن میں بھی رات تھی،جبکہ ایکسٹو کو وہاں پہنچ کر بڑی حیرت ہوئی اور چہرے سے پزل دیکھائی دینے لگا، ایسے لگتا تھا کہ ایکسٹو کو مغرب اور مشرق کا احساس بھی نہیں رہا:alien::devilish::devilish:۔۔۔
ایکسٹو سے پوشیدہ ہوکر گل خان نے زمین پر پھیلی ہوئی ایک جھاڑی کے اندر پیٹی رکھ کر آس پاس سے چند پتھر اور سوکھی لکڑیاں ڈال کر پیٹی اچھی طرح سےچھپادی اور چکی تائی نے ایکسٹو کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ تم سیدھے اس رخ پر جاؤ آگے جنگلی لیچی کا درخت آئے گا،پھروہاں سے بائیں طرف مڑنا اور جنگل کے اختتام پر تم بستی کے کنارے خود کو پاؤگے۔۔۔
ایکسٹو! انتہائی شرافت سے اثبات میں سرہلاکر ان کے گلے پیشگی عید مبارک کہہ کر ملا اور چل دیا:eek:۔۔۔
یہیں سے ایکسٹو بھائی کی بدقسمتی کا آغاز ہوتاہے۔
ایکسٹو بھائی دو خطرناک شخصوں گل خان اور چکی تائی پر اعتبار ،اعتبار بھی ایسا کہ قدم قدم ان کی ہدایت پر اٹھائے جنگل میں ایسی جگہ پہنچتاہے ،جہاں درختوں پر پتے بھی سوکھے سڑے ہوتے ہیں ، بھوک اور پیاس سے ان کی حالت ابتر ہوجاتی ہے۔
تین دن تک بھٹکنے کے بعد ایکسٹو بھائی کی حالت غیر ہوجاتی ہے،وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی آواز میں کہتا ہے کہ کبھی کسی پر اندھا اعتبار نہ کرنا۔
:rolleyes::oops::cry:

ججمجمجمجالی خان!چرس کی پیٹی کے پیچھے جنگل تک پہنچتا ہے لیکن صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔۔۔چنانچہ!!!
ججمجمجمجالی خان جسے سائلنٹ جان والا جن کہتےہوئے قدرے آسانی ہوگی ، صبیح کی ہدایت پر اسے کیلے لاکردیتاہے، ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔

سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے جہاں سائلنٹ جان بہتر حالت میں ہشاش بشاش بابا کھجل سائیں کی چرسیلی کھجلیہ بدبوویہ جھونپڑی تلے اس کی صحبت کے فیوض و برکات اور جھوٹی چرس کے علاج سے تندرستی پا کر ممنون احسان مندی کا پیکر بنا،ایکسٹو! کو خوش آمدید کہتے ہوئے نوید دیتاہے کہ ،"آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو"۔۔۔پہلے میں بھی آپ کی طرح کمزور تھا:pagal:۔۔لیکن اب ایسا توانا ہوں کہ اگر دس بندے مل کر کشتی لڑیں تو انہیں گرا دوں۔۔۔۔:D۔

ایکسٹوبھائی کو اپنی حالت دیکھ کر وہ باتیں کم اور بونگیاں زیادہ لگیں۔۔۔انہیں ایسا لگا سائلنٹ جان ان کا مذاق اڑارہے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal:

اب باقی کے لکھاری پیش رفت کرکے کہانی کے تسلسل کو آگے بڑھائیں یا ایکسٹو بھائی خود ہی آگے کا واقعہ بیان کریں:pagal:۔






(y)(y)(y)(y)
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
49
Messages
600
Likes
559
Points
299
Location
Karachi, Pakistan
#51

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

گل خان اور سائیں اختر ملنگ چکی تائی نے کھجل سائیں کے چرس کے گودام سے بڑی مقدار کالے سونے کی پار کی تو وہ سیدھااپنے ٹھکانے پر پہنچے،لیکن انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کھجل سائیں کا منحوس شک ان پر ضرور پڑے گا،لہذا کالا سونا ان کے پاس سے برآمد نہیں ہوناچائیے چاہے بعد میں شک یقین میں بھی بدل جائے;)۔۔۔

کافی سوچ وبچار کے بعدوہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے کالے سونے کو ایک پیٹی میں اچھی طرح پیک کرکےگاڑی میں رکھا اورچوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔

ایکسٹو! جو لومڑیوں کے اغوا کے بعد ٹک کرنہیں بیٹھنے لگے تھے اس وقت اپنی عادت کے مطابق گیڈر جنگل میں زکوٹا جن کی طرح گھول گھول گھومتے ہوئے کسی انجانی مخلوق کو تاؤ دلاتے رہتے۔۔۔،۔:D۔۔۔۔
سائیں اختر ملنگ چکی تائی اور گل خان نے ایکسٹو کو دیکھ کر کہا بیکار اوٹ پٹانگ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ گیڈر جنگل میں جائے ،ایکسٹو تو ویسے بھی ویلہ تھا وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ چل دیا:pagal:۔
گل خان اور چکی تائی دو خطرناک بندوں کے ساتھ ایکسٹو کا خوشی خوشی چلے جانا عقل سے بعید تھالیکن شاید سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
گل خان اور چکی تائی تو ایسے لگتا تھاکہ جیسے جنگل کے بھیدی ہیں، وہ ایسی ایسی گھاٹیوں ،کھائیوں اور گھنے درختوں کے جھنڈوں سے گزر کر جنگل کی ایسی گھنی جگہ تک پہنچے جہاں دن میں بھی رات تھی،جبکہ ایکسٹو کو وہاں پہنچ کر بڑی حیرت ہوئی اور چہرے سے پزل دیکھائی دینے لگا، ایسے لگتا تھا کہ ایکسٹو کو مغرب اور مشرق کا احساس بھی نہیں رہا:alien::devilish::devilish:۔۔۔
ایکسٹو سے پوشیدہ ہوکر گل خان نے زمین پر پھیلی ہوئی ایک جھاڑی کے اندر پیٹی رکھ کر آس پاس سے چند پتھر اور سوکھی لکڑیاں ڈال کر پیٹی اچھی طرح سےچھپادی اور چکی تائی نے ایکسٹو کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ تم سیدھے اس رخ پر جاؤ آگے جنگلی لیچی کا درخت آئے گا،پھروہاں سے بائیں طرف مڑنا اور جنگل کے اختتام پر تم بستی کے کنارے خود کو پاؤگے۔۔۔
ایکسٹو! انتہائی شرافت سے اثبات میں سرہلاکر ان کے گلے پیشگی عید مبارک کہہ کر ملا اور چل دیا:eek:۔۔۔
یہیں سے ایکسٹو بھائی کی بدقسمتی کا آغاز ہوتاہے۔
ایکسٹو بھائی دو خطرناک شخصوں گل خان اور چکی تائی پر اعتبار ،اعتبار بھی ایسا کہ قدم قدم ان کی ہدایت پر اٹھائے جنگل میں ایسی جگہ پہنچتاہے ،جہاں درختوں پر پتے بھی سوکھے سڑے ہوتے ہیں ، بھوک اور پیاس سے ان کی حالت ابتر ہوجاتی ہے۔
تین دن تک بھٹکنے کے بعد ایکسٹو بھائی کی حالت غیر ہوجاتی ہے،وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی آواز میں کہتا ہے کہ کبھی کسی پر اندھا اعتبار نہ کرنا۔
:rolleyes::oops::cry:

ججمجمجمجالی خان!چرس کی پیٹی کے پیچھے جنگل تک پہنچتا ہے لیکن صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔۔۔چنانچہ!!!
ججمجمجمجالی خان جسے سائلنٹ جان والا جن کہتےہوئے قدرے آسانی ہوگی ، صبیح کی ہدایت پر اسے کیلے لاکردیتاہے، ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔

سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے جہاں سائلنٹ جان بہتر حالت میں ہشاش بشاش بابا کھجل سائیں کی چرسیلی کھجلیہ بدبوویہ جھونپڑی تلے اس کی صحبت کے فیوض و برکات اور جھوٹی چرس کے علاج سے تندرستی پا کر ممنون احسان مندی کا پیکر بنا،ایکسٹو! کو خوش آمدید کہتے ہوئے نوید دیتاہے کہ ،"آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو"۔۔۔پہلے میں بھی آپ کی طرح کمزور تھا:pagal:۔۔لیکن اب ایسا توانا ہوں کہ اگر دس بندے مل کر کشتی لڑیں تو انہیں گرا دوں۔۔۔۔:D۔

ایکسٹوبھائی کو اپنی حالت دیکھ کر وہ باتیں کم اور بونگیاں زیادہ لگیں۔۔۔انہیں ایسا لگا سائلنٹ جان ان کا مذاق اڑارہے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal:

اب باقی کے لکھاری پیش رفت کرکے کہانی کے تسلسل کو آگے بڑھائیں یا ایکسٹو بھائی خود ہی آگے کا واقعہ بیان کریں:pagal:۔






ہاہاہاہا
کالے سونے کو کھجل سائیں سے چرا کر آخر کار چھپا ہی لیا۔۔۔
جمجمجمالی جن کو بہت اہم کام سونپا گیا۔۔۔
ایکس ٹو کو بغیر معاوضہ لیبر بنا کر۔۔۔گمنام رستے پر ڈال دیا۔۔۔۔ ایکس ٹو صاحب کے تمام انٹیلیجنس سکلز کو زیرو کرکے ۔۔۔ملنگ اختر سائیں چکی تائی اور گل خان جیسے بندوں بے وقوف بنایا۔۔۔۔
تین دن بھوکا رکھ کر درجن بھر کیلے چھلکوں سمیت کھلائے۔۔۔
اور پھر آستانہ کھجلیہ بدبوئیہ میں پہنچا کر سائلنٹ جان کی نصیحت سنوائی۔۔۔۔
بہت خوب صبیح بھائی۔۔۔۔
زبردست کہانی۔۔۔
😂😂😂
 

SILENT.WALKER

ITD Star
Master Designer
Contest Winner
Joined
May 11, 2018
Threads
27
Messages
195
Likes
197
Points
187
Location
LAHORE, PAKISTAN
#52
:p
 

AM

Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Threads
9
Messages
122
Likes
254
Points
183
Location
Arifwala
#53

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

گل خان اور سائیں اختر ملنگ چکی تائی نے کھجل سائیں کے چرس کے گودام سے بڑی مقدار کالے سونے کی پار کی تو وہ سیدھااپنے ٹھکانے پر پہنچے،لیکن انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کھجل سائیں کا منحوس شک ان پر ضرور پڑے گا،لہذا کالا سونا ان کے پاس سے برآمد نہیں ہوناچائیے چاہے بعد میں شک یقین میں بھی بدل جائے;)۔۔۔

کافی سوچ وبچار کے بعدوہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے کالے سونے کو ایک پیٹی میں اچھی طرح پیک کرکےگاڑی میں رکھا اورچوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔

ایکسٹو! جو لومڑیوں کے اغوا کے بعد ٹک کرنہیں بیٹھنے لگے تھے اس وقت اپنی عادت کے مطابق گیڈر جنگل میں زکوٹا جن کی طرح گھول گھول گھومتے ہوئے کسی انجانی مخلوق کو تاؤ دلاتے رہتے۔۔۔،۔:D۔۔۔۔
سائیں اختر ملنگ چکی تائی اور گل خان نے ایکسٹو کو دیکھ کر کہا بیکار اوٹ پٹانگ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ گیڈر جنگل میں جائے ،ایکسٹو تو ویسے بھی ویلہ تھا وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ چل دیا:pagal:۔
گل خان اور چکی تائی دو خطرناک بندوں کے ساتھ ایکسٹو کا خوشی خوشی چلے جانا عقل سے بعید تھالیکن شاید سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
گل خان اور چکی تائی تو ایسے لگتا تھاکہ جیسے جنگل کے بھیدی ہیں، وہ ایسی ایسی گھاٹیوں ،کھائیوں اور گھنے درختوں کے جھنڈوں سے گزر کر جنگل کی ایسی گھنی جگہ تک پہنچے جہاں دن میں بھی رات تھی،جبکہ ایکسٹو کو وہاں پہنچ کر بڑی حیرت ہوئی اور چہرے سے پزل دیکھائی دینے لگا، ایسے لگتا تھا کہ ایکسٹو کو مغرب اور مشرق کا احساس بھی نہیں رہا:alien::devilish::devilish:۔۔۔
ایکسٹو سے پوشیدہ ہوکر گل خان نے زمین پر پھیلی ہوئی ایک جھاڑی کے اندر پیٹی رکھ کر آس پاس سے چند پتھر اور سوکھی لکڑیاں ڈال کر پیٹی اچھی طرح سےچھپادی اور چکی تائی نے ایکسٹو کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ تم سیدھے اس رخ پر جاؤ آگے جنگلی لیچی کا درخت آئے گا،پھروہاں سے بائیں طرف مڑنا اور جنگل کے اختتام پر تم بستی کے کنارے خود کو پاؤگے۔۔۔
ایکسٹو! انتہائی شرافت سے اثبات میں سرہلاکر ان کے گلے پیشگی عید مبارک کہہ کر ملا اور چل دیا:eek:۔۔۔
یہیں سے ایکسٹو بھائی کی بدقسمتی کا آغاز ہوتاہے۔
ایکسٹو بھائی دو خطرناک شخصوں گل خان اور چکی تائی پر اعتبار ،اعتبار بھی ایسا کہ قدم قدم ان کی ہدایت پر اٹھائے جنگل میں ایسی جگہ پہنچتاہے ،جہاں درختوں پر پتے بھی سوکھے سڑے ہوتے ہیں ، بھوک اور پیاس سے ان کی حالت ابتر ہوجاتی ہے۔
تین دن تک بھٹکنے کے بعد ایکسٹو بھائی کی حالت غیر ہوجاتی ہے،وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی آواز میں کہتا ہے کہ کبھی کسی پر اندھا اعتبار نہ کرنا۔
:rolleyes::oops::cry:

ججمجمجمجالی خان!چرس کی پیٹی کے پیچھے جنگل تک پہنچتا ہے لیکن صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔۔۔چنانچہ!!!
ججمجمجمجالی خان جسے سائلنٹ جان والا جن کہتےہوئے قدرے آسانی ہوگی ، صبیح کی ہدایت پر اسے کیلے لاکردیتاہے، ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔

سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے جہاں سائلنٹ جان بہتر حالت میں ہشاش بشاش بابا کھجل سائیں کی چرسیلی کھجلیہ بدبوویہ جھونپڑی تلے اس کی صحبت کے فیوض و برکات اور جھوٹی چرس کے علاج سے تندرستی پا کر ممنون احسان مندی کا پیکر بنا،ایکسٹو! کو خوش آمدید کہتے ہوئے نوید دیتاہے کہ ،"آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو"۔۔۔پہلے میں بھی آپ کی طرح کمزور تھا:pagal:۔۔لیکن اب ایسا توانا ہوں کہ اگر دس بندے مل کر کشتی لڑیں تو انہیں گرا دوں۔۔۔۔:D۔

ایکسٹوبھائی کو اپنی حالت دیکھ کر وہ باتیں کم اور بونگیاں زیادہ لگیں۔۔۔انہیں ایسا لگا سائلنٹ جان ان کا مذاق اڑارہے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal:

اب باقی کے لکھاری پیش رفت کرکے کہانی کے تسلسل کو آگے بڑھائیں یا ایکسٹو بھائی خود ہی آگے کا واقعہ بیان کریں:pagal:۔






ہا ہا ہا، بہت خوب
ایکسٹو کا انتظار ہے۔۔ اور ڈاکٹر بھائی نے بہترین تبصرہ کیا ہے ان سے متفق ہوں :v ۔
 

Sabih Tariq

Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Threads
25
Messages
837
Likes
1,450
Points
392
Location
Central
#54
تجربہ بیان کردیا آپ نے تو
:pagal::pagal:
چوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر
:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔
تجربہ بھی ایسا کہ جنگل کا نام آپ کے کارنامے پر پڑگیا:pagal:
 

Sabih Tariq

Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Threads
25
Messages
837
Likes
1,450
Points
392
Location
Central
#55
ہاہاہاہا
کالے سونے کو کھجل سائیں سے چرا کر آخر کار چھپا ہی لیا۔۔۔
جمجمجمالی جن کو بہت اہم کام سونپا گیا۔۔۔
ایکس ٹو کو بغیر معاوضہ لیبر بنا کر۔۔۔گمنام رستے پر ڈال دیا۔۔۔۔ ایکس ٹو صاحب کے تمام انٹیلیجنس سکلز کو زیرو کرکے ۔۔۔ملنگ اختر سائیں چکی تائی اور گل خان جیسے بندوں بے وقوف بنایا۔۔۔۔
تین دن بھوکا رکھ کر درجن بھر کیلے چھلکوں سمیت کھلائے۔۔۔
اور پھر آستانہ کھجلیہ بدبوئیہ میں پہنچا کر سائلنٹ جان کی نصیحت سنوائی۔۔۔۔
بہت خوب صبیح بھائی۔۔۔۔
زبردست کہانی۔۔۔
😂😂😂
تبصرے اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
(y):)
ہا ہا ہا، بہت خوب
ایکسٹو کا انتظار ہے۔۔ اور ڈاکٹر بھائی نے بہترین تبصرہ کیا ہے ان سے متفق ہوں :v ۔
پسند اور رائے کا شکریہ
گزشتہ اقساط کے تناظر میں ڈاکٹر بھائی سے متفق ہونے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔
:D;)(y)
 
Author
ناعمہ وقار

ناعمہ وقار

Staff member
Moderator
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Threads
12
Messages
648
Likes
787
Points
310
Location
Islamabad
#56

جن دوستوں نے کہانی پسند کی ان کا بہت شکریہ:)،مجھے ڈاکٹر بھائی کی کہانی پوسٹ نمبر4 بہت پسند آئی(y) ویلڈن
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan


جس دیوار سے ان چاروں نے بیک وقت ٹکر ماری تھی اس کے اندر بڑا سا شگاف پڑچکاتھاجہاں سے بوایسی خارج ہونے لگی جیسے وہاں کھجل سائیں قید تھا،صبیح نےان سے کہا کہ کراہیں بند کرو،اور گہرے سانس لے کر بو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرو۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد نظر آناشروع ہوجائےگا،۔۔۔۔صبیح کی ہدایت پر عمل کرنے سے واقعی انہیں شگاف سے نکلنے والی بو نے ان کا دکھ درد دور کردیاکہ وہ پرسکون اٹھ کر کھڑے ہوگئے،
کچھ دیر کے بعد صبیح نے کہا، اب ہم شگاف کے اندر جائیں گے،او۔۔۔کیا وہاں دودھ کی نہر ہے :eek:؟ناعمہ سسٹر نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
شاید:sneaky:،۔۔۔صبیح نے کہا تو سب چل دئیے۔۔۔
وہ ایک کشادہ کھو تھا جونیچے گہرائی کی جانب جاتاہوادیکھائی دے رہاتھاچنانچہ وہ آہستہ آہستہ اس کے اندر اترتے چلے گئے۔۔۔
لیکن کھو میں پہنچ کر سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے:eek:۔۔۔۔
جگہ جگہ قدیم زمانے کے صندوق کھلے ڈھکن کے رکھےتھے جن کے اندر چمکتے ہوئے ہیرے جواہرات، سونااورقیمتی پتھروں نےکھو کو طلسماتی دنیا بنارکھاتھا ،ان کی ملی جلی چمک سے کھو کے اندر لال، سنہری اور سبز رنگوں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر ایک ہار لینا چاہاتو انہیں ایک پھنکار سنائی دی۔۔۔۔سُسووووووو۔۔۔۔اوئے یہ تو سانپ کی آواز ہے ،ایکسٹو نے:mad: چونک کر کہا۔
ڈاکٹر بھائی ، ناعمہ سسٹر، اور اے ایم نے ایکسٹو کے کہنے پر چونکتے ہوئے آواز کو غور سے سنا۔۔۔سسووووو۔۔۔
ہاں،صبیح نے ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئےکہا،ایکسٹو ٹھیک کہہ رہاہے، اورسنو !ہر خزانے کے اندر سانپ ہوتے ہیں،۔۔۔یہ بھی سانپ کی پھنکار ہے،احتیاط کرناo_O۔۔۔صبیح کی تنبیہی آواز کی گونج ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک قہقہہ سنائی دیا:D۔۔۔ھاھاھا۔۔ایک بہت بڑا ناگ جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھاکھو کے شمال میں رکھے صندوق کے پیچھے سے نکل کر سامنے آکر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔۔ھاھاھاھا۔:pagal:میں ہوں شیش ناگ،۔۔۔۔۔خبر دار کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا،ورنہ میں زہر کا میزائل مار کر جلاڈالوں گا۔۔۔میں وہ ناگ ہوں جوزہر پھینکتاہے۔​

اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ سے پوچھا۔۔۔سر جی یہ خزانہ لالہ لئیق شاہ کاہے؟:oops:،۔۔۔۔۔
سانپ نے حیرانی :eek:سے پوچھا،اوئےجوان تمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟کیا تم بھی سانپ وانپ کا دماغ رکھتے ہو؟اے ایم نےسوال سن کر جلدی سے وضاحت دیتے ہیں کہا ،صبیح کہہ رہا تھا کہ لالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر ہوگی لیکن ہم نے یہاں خزانہ پایاہے،توہوسکتا ہے کہ یہ خزانہ بھی انہی کا ہو،اے سانپ:pagal:۔۔۔

ھاھاھا۔۔۔۔شیش ناگ نے ہنس کرکہا،تمہاری وضاحت سے آج شیش ناگ بہت خوش ہوا ہے جوان:D ۔۔۔۔سنو!آج سے تم میرے نمبر ٹو ہو:pagal:۔۔۔آؤ میرے گلے ملو۔۔۔اے ایم خوشی خوشی آگے بڑھ کر سانپ سے لپٹ جاتاہے اور سانپ بھی اے ایم کے جسم کے گرد لپٹ جاتاہے،یہ منظر دیکھ کر ایکسٹو کہتا ہے،مزا آگیاہماری ٹیم میں ایسا بندہ بھی ہے جو اپنی زبان کے جادو سے سانپ کو بھی رام کرسکتا :devilish:۔۔۔​

اے ایم کاپورا جسم سانپ نےاپنی گرفت میں لےلیا تھا،منظر ایسے تھا جیسے رسّے سے کسی کوپاؤں سے سر تک جھکڑ دیاگیاہو۔۔، اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ کو خوش کرنے کی خاطر کہا۔۔۔ بڑی دیر کردی لپٹتے لپٹتے۔۔کلیجے وچ ٹھنڈ پے گئی اے:p۔۔۔۔
سانپ نے کہا ، فکر نہ کرجوان،اب تینوں میں چھڈوں گا بھی نئیں۔:pagal:۔۔ ۔

یہ معانقہ کافی طویل ہوگیاتو اے ایم نے دوبارہ گھگھیاتے ہوئے کہا،اے سانپ ،اب مجھے چھوڑ دو۔۔۔سانپ نے کہا، میں تمیں ایک شرط پر چھوڑوں گا،کون سی شرط؟اے ایم نے پوچھا،تمیں ہماری ایک دوست شیش ناگ دیوتا کی خوبصورت بیٹی ناگن سے شادی کرناہوگی۔۔۔
یہ سن کر اے ایم اچھل پڑا:eek::eek::eek:۔۔۔اسے بڑی زور کا کرنٹ لگا،لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے چالاکی سے کہا اے سانپ میں تو شادی شدہ ہوں۔۔۔(اس کیفیت میں بھی اے ایم نے شادی یاد رکھی ہوئی تھی;))۔۔۔اسی دوران بہت سارے سانپ نکل کر آگئے جن میں ایک خوبصورت سی ناگن بھی تھی،اس نے اے ایم کو دیکھا تو آنکھیں چھپکانا ہی بھول گئی۔۔;)۔۔۔
اے ایم نے چیخ کر کہا،نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ناگن سے میری شادی نہیں ہوسکتی:giggle::p:D۔۔۔۔

سانپوں نے اے ایم کے گرد گھیراڈال دیاتاکہ وہ بھاگ نہ جائے البتہ شیش ناگ سانپ نے اسے بری طرح جھکڑاہواتھا۔۔۔اے ایم نے دل کی گہرائیوں سے آواز ماری۔۔۔باباکھجل سائیں ۔۔۔جان ن ن ن ۔۔:pagal:۔۔،​
بابا کھجل سائیں جان ن ن ن
ہم آگئے بالک۔۔۔۔۔۔شگاف کے منہ سےایک انتہائی غصیلی آواز سنائی دی۔۔۔یہ آواز کھجل سائیں کی تھی۔۔۔ہم ان مورکھ سانپوں کو جلا کر بھسم کرڈالیں گے،کھجل سائیں نے غصے سےدہاڑتے ہوئے کہا،۔۔۔۔ناعمہ سسٹر ،ڈاکٹر بھائی ، ایکسٹو، اے ایم اور صبیح ،کھجل سائیں کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے۔:D۔۔۔

کھجل سائیں نےجلدی سے اپنے تھیلے سے بانسری نکال کر بجائی تو سانپوں پہ بانسری کا اثر پڑنے لگا، ۔۔کچھ ہی دیر میں ماحول پر بانسری کی آواز کا سحر چھانے لگا ۔۔۔ناعمہ سسٹر نے بڑی مشکل سے خود کوجھومنے سے روکا;)۔۔۔آواز ایسی تھی کہ خود بخود جسم جھومنے پر مجبور ہورہاتھا۔۔۔۔انسان تو جبر کرگئے لیکن سانپ بے قابو ہوکرناچ اٹھے۔۔۔۔ان کاڈانس دیکھ کرسب خوش ہوئے لیکن پھراے ایم بے قابو ہوگیا۔:pagal:۔۔کھجل بانسری ماسٹر کے پھیپھڑوں سے چرسیلی پھونکوں کا اثر اے ایم پرایساپڑا کہ ۔۔۔ اس نے بھی ناچنا شروع کردیا۔۔۔۔اے ایم کالچکیلا پھرتیلاچھیل چھبیلا ڈانس جس میں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کرکےسانپ کا منہ بناتھا اس پوز نےسانپوں کو باؤلہ کردیا۔:pagal:اے ایم کی جانب سےیہ ایک واضح پیغام اور طنز تھاکہ کھجل سائیں کے بالک کا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔:p۔اسی پوز میں اے ایم نے اپنے جسم کو ایسےگھمایا جیسے بچے کمر میں بڑی رنگ ڈال کر کمر کو ہلاتے ہیں۔:Dاے ایم کے ان مست ہچکولوں بھرے ناچ نے سانپوں کے ناچ کو شکست فاش دے دی۔۔۔انہیں اپنےناچ پر سخت شرمندگی ہوئی اوروہ آہستہ آہستہ الٹے رینگ کراے ایم کو سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہوئے بھاگنے لگے۔۔۔حتیٰ کہ کھو میں ایک سانپ بھی نہ رہا۔۔۔

کھجل سائیں نے بانسری بجانا روک کر اے ایم کو پکارا،بالکے!!! دل خوش کردتا۔۔۔واہ۔۔۔ آ۔۔۔آ۔۔گلےلگ جا۔۔:pagal::pagal::pagal:ان خوفناک سانپوں کے چنگل سے کھجل سائیں نے اسے آزادی دلائی تھی، چنانچہ آج اے ایم کھجل سائیں کا انتہائی ممنون تھا۔۔۔اس نےکھجل سائیں کی جانب سو کلو میٹر کی رفتار سے دوڑ لگائی۔۔۔۔۔
:pagal:



اب سانپوں کے بارے میں اتنی دلجمعی سے کوئی سانپ ہی تبصرہ کر سکتا ہے، تو آپ نے واقعی سانپ ہونے کا حق ادا کر دیا س س س ان پ۔۔۔۔اوہ سوری صبیح بھائی
:pagal: :pagal:
شیش ناگ نے اے ایم کو تو چھوڑ دیا، کیونکہ انکا سانپ ہونا مشکوک ہوگیا تھا، پر آپ اپنی خیر منائیں، تسی تو کنفرم سانپ ہو
:pagal: :p ;)

@Doctor
 

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,951
Likes
2,373
Points
830
Location
Rawalpindi
#57
اب سانپوں کے بارے میں اتنی دلجمعی سے کوئی سانپ ہی تبصرہ کر سکتا ہے، تو آپ نے واقعی سانپ ہونے کا حق ادا کر دیا س س س ان پ۔۔۔۔اوہ سوری صبیح بھائی
:pagal::pagal:
شیش ناگ نے اے ایم کو تو چھوڑ دیا، کیونکہ انکا سانپ ہونا مشکوک ہوگیا تھا، پر آپ اپنی خیر منائیں، تسی تو کنفرم سانپ ہو
:pagal::p;)

@Doctor
مثل مشہور ہے کہ سانپ کے پاؤں نہیں ہوتے
:eek::eek:
۔
۔
۔
سوری
۔
۔
۔
جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے
:pagal::pagal::pagal::pagal:
۔
۔
اس لئے صبیح بھائی کی "ریڈی میڈ" کہانیوں میں جو جال یہ دوسروں کے لئے تیار کرتے ہیں اکثر اُس میں خود ہی منہ کے بل گرے ہوئے ملتے ہیں

:pagal::pagal::pagal:
جیسے شکاری شام کو جال لگا کر گھر چلیں جائیں تو دوسری صبح واپس آکر دیکھیں تو اس میں کئی قسم کے پرندے وغیرہ پھنسے ہوئے ہوتے ہیں ، صبیح بھائی بھی اکثر ایسے ہی کسی جال میں "آرام فرما" ہوتے ہیں
:pagal::pagal:
انکے خیال میں انہوں نے جال میں کسی کو پھانسا ہوا ہوتا ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ
؎
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

بٹن دباکے
:pagal::pagal::pagal::pagal:
 
Author
ناعمہ وقار

ناعمہ وقار

Staff member
Moderator
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Threads
12
Messages
648
Likes
787
Points
310
Location
Islamabad
#58

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

گل خان اور سائیں اختر ملنگ چکی تائی نے کھجل سائیں کے چرس کے گودام سے بڑی مقدار کالے سونے کی پار کی تو وہ سیدھااپنے ٹھکانے پر پہنچے،لیکن انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ کھجل سائیں کا منحوس شک ان پر ضرور پڑے گا،لہذا کالا سونا ان کے پاس سے برآمد نہیں ہوناچائیے چاہے بعد میں شک یقین میں بھی بدل جائے;)۔۔۔

کافی سوچ وبچار کے بعدوہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انہوں نے کالے سونے کو ایک پیٹی میں اچھی طرح پیک کرکےگاڑی میں رکھا اورچوہدری الیاس کےگاؤں کا مشہور جنگل جس میں ڈاکٹر بھائی اپنی شکاری ٹیم کے ساتھ گیڈر:pمارچکے تھےکا رخ کیا، اس جنگل کو ڈاکٹر بھائی کے الفاظ کہ شیر کے انجام سے گیڈر کو ہارٹ اٹیک ہوا،گیڈر جنگل پڑچکاتھا۔

ایکسٹو! جو لومڑیوں کے اغوا کے بعد ٹک کرنہیں بیٹھنے لگے تھے اس وقت اپنی عادت کے مطابق گیڈر جنگل میں زکوٹا جن کی طرح گھول گھول گھومتے ہوئے کسی انجانی مخلوق کو تاؤ دلاتے رہتے۔۔۔،۔:D۔۔۔۔
سائیں اختر ملنگ چکی تائی اور گل خان نے ایکسٹو کو دیکھ کر کہا بیکار اوٹ پٹانگ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بھی ان کے ساتھ گیڈر جنگل میں جائے ،ایکسٹو تو ویسے بھی ویلہ تھا وہ شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ چل دیا:pagal:۔
گل خان اور چکی تائی دو خطرناک بندوں کے ساتھ ایکسٹو کا خوشی خوشی چلے جانا عقل سے بعید تھالیکن شاید سیانے صحیح کہتے ہیں کہ عقل ٹھوکریں کھا کر ہی آتی ہے ۔۔۔۔تیتر بٹیر کھاکر نہیں آتی:geek:۔
گل خان اور چکی تائی تو ایسے لگتا تھاکہ جیسے جنگل کے بھیدی ہیں، وہ ایسی ایسی گھاٹیوں ،کھائیوں اور گھنے درختوں کے جھنڈوں سے گزر کر جنگل کی ایسی گھنی جگہ تک پہنچے جہاں دن میں بھی رات تھی،جبکہ ایکسٹو کو وہاں پہنچ کر بڑی حیرت ہوئی اور چہرے سے پزل دیکھائی دینے لگا، ایسے لگتا تھا کہ ایکسٹو کو مغرب اور مشرق کا احساس بھی نہیں رہا:alien::devilish::devilish:۔۔۔
ایکسٹو سے پوشیدہ ہوکر گل خان نے زمین پر پھیلی ہوئی ایک جھاڑی کے اندر پیٹی رکھ کر آس پاس سے چند پتھر اور سوکھی لکڑیاں ڈال کر پیٹی اچھی طرح سےچھپادی اور چکی تائی نے ایکسٹو کو ایک طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ تم سیدھے اس رخ پر جاؤ آگے جنگلی لیچی کا درخت آئے گا،پھروہاں سے بائیں طرف مڑنا اور جنگل کے اختتام پر تم بستی کے کنارے خود کو پاؤگے۔۔۔
ایکسٹو! انتہائی شرافت سے اثبات میں سرہلاکر ان کے گلے پیشگی عید مبارک کہہ کر ملا اور چل دیا:eek:۔۔۔
یہیں سے ایکسٹو بھائی کی بدقسمتی کا آغاز ہوتاہے۔
ایکسٹو بھائی دو خطرناک شخصوں گل خان اور چکی تائی پر اعتبار ،اعتبار بھی ایسا کہ قدم قدم ان کی ہدایت پر اٹھائے جنگل میں ایسی جگہ پہنچتاہے ،جہاں درختوں پر پتے بھی سوکھے سڑے ہوتے ہیں ، بھوک اور پیاس سے ان کی حالت ابتر ہوجاتی ہے۔
تین دن تک بھٹکنے کے بعد ایکسٹو بھائی کی حالت غیر ہوجاتی ہے،وہ پاگلوں کی طرح اونچی اونچی آواز میں کہتا ہے کہ کبھی کسی پر اندھا اعتبار نہ کرنا۔
:rolleyes::oops::cry:

ججمجمجمجالی خان!چرس کی پیٹی کے پیچھے جنگل تک پہنچتا ہے لیکن صبیح اسے اپنی شکتی سے ہدایت کرتاہے کہ وہ ایکسٹو کی مدد کرے۔۔۔چنانچہ!!!
ججمجمجمجالی خان جسے سائلنٹ جان والا جن کہتےہوئے قدرے آسانی ہوگی ، صبیح کی ہدایت پر اسے کیلے لاکردیتاہے، ایکسٹو کی بھوک اس قدر ہوتی ہے کہ وہ چھلکوں سمیت درجن بھر کیلے کھاجاتاہے:geek:۔

سائلنٹ جان والا جن ایکسٹو کو بھی بابا کھجل سائیں کے اڈے پر پہنچا دیتاہے جہاں سائلنٹ جان بہتر حالت میں ہشاش بشاش بابا کھجل سائیں کی چرسیلی کھجلیہ بدبوویہ جھونپڑی تلے اس کی صحبت کے فیوض و برکات اور جھوٹی چرس کے علاج سے تندرستی پا کر ممنون احسان مندی کا پیکر بنا،ایکسٹو! کو خوش آمدید کہتے ہوئے نوید دیتاہے کہ ،"آپ بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو"۔۔۔پہلے میں بھی آپ کی طرح کمزور تھا:pagal:۔۔لیکن اب ایسا توانا ہوں کہ اگر دس بندے مل کر کشتی لڑیں تو انہیں گرا دوں۔۔۔۔:D۔

ایکسٹوبھائی کو اپنی حالت دیکھ کر وہ باتیں کم اور بونگیاں زیادہ لگیں۔۔۔انہیں ایسا لگا سائلنٹ جان ان کا مذاق اڑارہے ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal:

اب باقی کے لکھاری پیش رفت کرکے کہانی کے تسلسل کو آگے بڑھائیں یا ایکسٹو بھائی خود ہی آگے کا واقعہ بیان کریں:pagal:۔






بیچارے ایکسٹو بھائی کو کتنی بری طرح پھنسا دیا ، اور پھر اچھا بننےکا ناٹک کرنےکے لیئے اس عجیب و غریب نام والے جن کو بھیج دیا، اس جن کا نک نیم آج سے جملو خان ہے
:rolleyes:
سننے میں آیا تھا کہ یہ جملو خان ، کھجل سائیں کا دشمن تھا، پھر اسنے آستانہ کھجلیہ کا رخ کیسے کیا
:unsure:
مجھے صبیح بھائی کی ڈوئل پرسنلیٹی کچھ سمجھ نہیں آرہی، یا شاید رائٹر خود بھی کنفیوز ہیں کہ آخر یہ صبیح بھائی ہیں کیا، کبھی انکی جناتی شکتوں سے ڈر کے انھیں اچھا کہتے ہیں اور کبھی سچ خود بخود کی بورڈ پہ سلپ ہو جاتا ہے
:pagal: :pagal: :pagal:
 

Sabih Tariq

Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Threads
25
Messages
837
Likes
1,450
Points
392
Location
Central
#59
اب سانپوں کے بارے میں اتنی دلجمعی سے کوئی سانپ ہی تبصرہ کر سکتا ہے، تو آپ نے واقعی سانپ ہونے کا حق ادا کر دیا س س س ان پ۔۔۔۔اوہ سوری صبیح بھائی
:pagal::pagal:
شیش ناگ نے اے ایم کو تو چھوڑ دیا، کیونکہ انکا سانپ ہونا مشکوک ہوگیا تھا، پر آپ اپنی خیر منائیں، تسی تو کنفرم سانپ ہو
:pagal::p;)

@Doctor
:pagal:
کسی کو کنفرم سانپ ڈکلئیرکرنا اور پھر مہر لگانے کے لیے منصف کا خود سانپ کی جنس سے ہونا ضروری ہے۔
:D
 

Sabih Tariq

Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Threads
25
Messages
837
Likes
1,450
Points
392
Location
Central
#60
بیچارے ایکسٹو بھائی کو کتنی بری طرح پھنسا دیا ، اور پھر اچھا بننےکا ناٹک کرنےکے لیئے اس عجیب و غریب نام والے جن کو بھیج دیا، اس جن کا نک نیم آج سے جملو خان ہے
:rolleyes:
سننے میں آیا تھا کہ یہ جملو خان ، کھجل سائیں کا دشمن تھا، پھر اسنے آستانہ کھجلیہ کا رخ کیسے کیا
:unsure:
مجھے صبیح بھائی کی ڈوئل پرسنلیٹی کچھ سمجھ نہیں آرہی، یا شاید رائٹر خود بھی کنفیوز ہیں کہ آخر یہ صبیح بھائی ہیں کیا، کبھی انکی جناتی شکتوں سے ڈر کے انھیں اچھا کہتے ہیں اور کبھی سچ خود بخود کی بورڈ پہ سلپ ہو جاتا ہے
:pagal::pagal::pagal:
کبھی "جن"جن جملو خان،شکتیاں، کھجل سائیں ، ۔ڈوئل پرسنلیٹی اور کسی کو کنفرم سانپ ڈکلئیر کرنا۔۔۔۔:pagal:
آپ بری طرح پزل ہوکر بہکی بہکی باتیں کرتے ہوئے فورم پر تخریب کاری پھیلا رہی ہیں:pagal:۔
 
Top