آئیں کہانی لکھیں

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#21
ناعمہ دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔ انہوں نے ایک تیر میں تین شکار کرنے کا ناقابل یقین کام سر انجام دیا تھا۔

سب سے پہلے تو صبیح کو اپنی باتوں میں الجھا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کھجل سائیں کی چرس کے گودام میں گھسنے کی کوشش کرے اور وہاں سے چرس کے کچھ سامپل باہر نکالے ۔

دوسرا یہ کام کیا کہ صبیح کے سامنے ایک فرضی کہانی رکھی کی کہ یہ ساری چرس گل خان خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ بہت جلد کھجل سائیں کے آستانے کے قریب کسی جگہ ملاقات کرکے ساری ڈیل کی ایڈوانس رقم اداء کرے گا نیز اس ساری ڈیل کا منافع ناعمہ اور صبیح میں آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔

جبکہ درپردہ ناعمہ نے اصل ڈیل اختر سائیں ملنگ چکی تائی سے کر رکھی تھی جو کہ تھا تو کھجل سائیں کا پیر بھائی مگر جیسا کہ ہر پروفیشن میں جیلسی ہوتی ہے تو یہاں بھی اختر سائیں ، کھجل سائیں سے در پردہ بغض رکھتا تھا کیونکہ کھجل سائیں کا آستانہ ہر وقت مریدین سے بھر رہاتھا تھا اور اختر سائیں کے آستانے میں کبھی کبھار ہی ایسا موقع آتا تھا کہ لوگوں کی قابل ذکر تعداد جمع ہوئی ہو۔ اس لئے بھی اختر سائیں کھجل سائیں کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتا تھا، اختر سائیں نے دو تین بار کھجل کے خاص چیلے صبیح کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن صبیح ہمیشہ کھجل کے خوف کی وجہ سے اختر سائیں سے معاملہ کرنے سے کتراتا تھا۔

اس بار اختر سائیں کے ہاتھ ایک نادر موقع آیا تھا کہ چرس کا ایک بڑا اختر سائیں کے ہاتھ لگنے والا تھا اور اختر سائیں اس سنہری موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ کیونکہ جعلی پیروں کے آستانے عقیدت نہیں بلکہ بھنگ اور چرس کی برکتوں سے پھلتے پھولتے ہیں اختر سائیں اس معاملے میں خالی ہاتھ تھا جبکہ کھجل سائیں کے چرس کے نامی گرامی ڈیلرز سے رابطے تھے اور ایک کامیاب بزنس مین کی طرح کھجل سائیں نہ صرف خود بروقت مال حاصل کرلیتا تھا بلکہ اردگرد کے لوگوں کو ایسی کسی بھی چیز کے حصول میں کامیاب نہیں ہونے دیتا تھا۔

کھجل سائیں کے آستانے کی وومن ونگ کی چیئر پرسن ناعمہ وقار اس بات پر راضی ہوچلی تھی تھی کہ اختر سائیں کو چرس کی ایک بڑی ڈیل فروخت کرے اور اس کے لئے اندرون خانہ ناعمہ نے یہ پلان بنایا تھا کہ بجائے چرس خریدنے کے مشکل کام میں پڑنے کے، کھجل سائیں کے چرس کے اسٹاک پر شب خون مارا جائے اور اس طرح علاقے میں چرس کی بادشاہی کھجل سائیں کے ہاتھوں سے نکل کراختر سائیں ملنگ چکی تائی کے پاس آجائے گی۔

ناعمہ نے جو پلان بنایا تھا وہ اب تک کامیابی سے اپنے مراحل طے کر رہا تھا، اختر سائیں کو چرس کے سامپلز فراہم کردئے گئے تھے جو اختر سائیں کو بے حد پسند آئے تھے اور اختر سائیں نے فوری طور پر ایڈوانس کی مد میں دس لاکھ روپے کیش ناعمہ کے حوالے کر دیئے تھے کیونکہ کھجل سائیں کے گودام میں پڑی چرس انٹرنیشنل مارکیٹ کے حساب سے قریب قریب تیس لاکھ سے زیادہ مالیت کی تھی۔

اب ناعمہ سوچ رہی تھی کہ سارا مال کھجل سائیں کے گودام سے کب اور کسطرح نکالا جائے ۔ دو تین دن اسی ادھیڑ بن میں رہنے کے بعد ایک دن اچانک ناعمہ کو ایک بہترین ترکیب ذہن میں ائی۔ جس میں ناکامی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ناعمہ کی خوشی کا کوئی عالم نہ رہا تھا ناعمہ کو یوں محسوس ہورہا تھا کہ آسمان سے چرس کے ٹکڑے اس پر برس رہے ہیں اور پوری فضاء چرس کی بدبو سے مہک رہی ہے اور پھر اچانک ناعمہ نے محسوس کیا کہ اس کے پر نکل آئے ہیں اور وہ کسی پری کی طرح فضاؤں میں اڑتی پھر رہی ہے۔​
کھجل سائیں چرس کے اصل چور تک پہنچنے کی ترکیبیں بنارہا تھا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد استانہ کھجلیہ کے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا۔ ایک سمجھدار مرید نے مشورہ دیا کہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ اس میں کھجل سائیں کے بغیر کش کے چلے کام نہیں کریں گے اگر کسی نتیجے تک پہنچنا ہو تو الکمونیا کے ٹاپ اور قابل اعتماد سیکرٹ ایجنٹ جناب ایکس ٹو صاحب کی خدمات حاصل کی جائیں۔
بات کھجل سائیں کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اگلے دن ایکس ٹو صاحب آستانہ کھجلیہ میں ناک پر رومال رکھ کر کھجل سائیں کے دو بدو دوزانو بیٹھا تھا۔ چور معلوم کرنے کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا اور معاوضہ طے پایا۔ کھجل سائیں چور معلوم کرنے کے معاملے میں اتنی جلد بازی کررہے تھے کہ ایکس ٹو کو پوری چرس گودام کی اصل رقم پیش کش کی بس شرط یہ تھی کہ شام سے پہلے پہلے اصل چور کا پتہ لگانا ہے۔ کیوں کہ کھجل سائیں ٹکر پہلوان باباجی کے خدو خال سے اندازہ لگا چکے تھے کہ چور کوئی اور ہے۔
ایکس ٹو صاحب نے آستانہ کھجلیہ سے نکلتے ہی الکمونیا کا رخ کیا۔ تمام سیکرٹ سروس ایجنٹس کے سامنے معاملہ رکھا گیا ۔ اے ایم بھائی کا کہنا تھا کہ اصل چور تک پہنچنا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ الکمونیا کو آستانہ کھجلیہ کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ لہذا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آستانہ کھجلیہ کے پچھلے ایک ہفتے کے تمام ٹیلی فون ریکارڈز سنے گئے۔ کمال حیرت سے ناعمہ سسٹر نے ایسی شکتی حاصل کی تھی جس کی بدولت وہ ٹریک ہونے میں نہیں آئی مگر اصل چور اختر سائیں چکن تائی ریکارڈ پر سامنے اگئے۔
بس ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ایکس ٹو نے اختر سائیں کی تمام ریکارڈز مع ثبوت کے کھجل سائیں کے سامنے رکھے اور اپنا صلہ لے کر چل دئے۔۔۔
کھجل سائیں کو گویا گیارہ ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔ فوراً کچھ مریدوں کا لشکر اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کرنے کے لئے بھیجا۔
جب اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کیا گیا تو کھجل سائیں نے گھورتے ہوئے سوال کیا؟
بول رے۔۔۔امرا مال چوری کرکے کاہے کو لے گیا؟..
اختر سائیں گھبراتے ہوئے قسمیں کھانے لگے کہ میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔۔
کھجل سائیں تشدد پر اتر آئے تو اختر سائیں چکن تائی تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ بتا نے پر رضامند ہو کر گویا ہوئے۔۔۔
۔
۔
آستانہ کھجلیہ سے نکل کر سیدھے جائیں آگے بس سٹاپ آئے گا۔ وہی گاڑی کا انتظار کریں۔
پہلی گاڑی چھوڑ کر ، دوسری گاڑی چھوڑ کر تیسری گاڑی میں چڑھ جائیں اور وہاں پہلی سیٹ چھوڑ کر، دوسری سیٹ چھوڑ کر تیسری سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ گاڑی روانہ ہونے کے بعد پہلا سٹاپ چھوڑ کر، دوسرا سٹاپ چھوڑ کر تیسرے سٹاپ پر اتر جائیں۔۔۔
سامنے تین گلیاں نظر آئیں گی۔۔۔۔
پہلی گلی چھوڑ کر، دوسری گلی چھوڑ کر تیسری گلی میں داخل ہوجائیں اور سیدھے آگے بڑھتے رہیں۔
آگے گلی کے نکڑ پر تین دکان آئیں گے پہلی دکان چھوڑ کر، دوسری دکان چھوڑ کر تیسری دکان کے ساتھ دائیں مڑجائیں۔۔اور چلتے رہیں۔۔۔۔
آگے تین گھر آئیں گے۔۔۔پہلا گھر چھوڑ کر، دوسرا گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں داخل ہوجائیں وہاں تین کمرے ہونگے۔۔۔
پہلا کمرہ چھوڑ کر، دوسرا کمرہ چھوڑ کر تیسرے کمرے میں داخل ہوجائیں۔
وہاں تین صندوق ہوں گے۔۔۔پہلا دوسرا چھوڑ کر تیسرے صندوق کے پاس آئیں۔۔۔تالا لگا ہوگا۔۔۔سامنے الماری میں تین چابیاں ہوں گی۔۔۔پہلی دوسری چھوڑ کر تیسرے چابی سے صندوق کھولیں۔۔
ہر چیز باہر کریں۔۔۔ سب سے آخر میں تین تصویریں ہوں گی۔۔۔پہلی چھوڑ کر دوسری چھوڑ کر تیسرے تصویر کو غور سے دیکھیں۔۔۔
یہ میری ماں کی تصویر ہے۔۔۔
مجھے ان کے سر کی قسم ! میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔
۔
۔:pagal::pagal::pagal::LOL:
 
Joined
May 11, 2018
Messages
33
Likes
43
Points
15
Location
Alkamoonia
#24
صبیح بھائی جو اب ٹکر پہلوان کہلواتے تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس انہونی پر کافی حیران و پریشان تھے۔ الکمونیا کے ہسپتال میں اپنی جگ ہنسائی کروانے کے بعد ان کا دل اور بھی برا ہوچکا تھا۔لیکن بدلے کی آگ نے ان کا چین و سکون چھین لیا تھا(چین سے مراد چابی چین لیا جائے) ، بیڈ رسیٹ پر ہونے کے باوجود ان کا بدن آرام و سکون سے کوسوں دور تھا۔

ٹکر پہلوان نے بھی اپنے ناک کے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے اور نہ ہی وہ سلسلہ کجھلیہ بدبودیئہ کے خلیفہ اول بغیر کسی ہنر کے بن گئے تھے، انہوں نے اس وقت اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی کھیلنے کا تہیہ کر لیا۔ اور اس خطرناک چلہ کاٹنے کا سوچا جس کو کجھل سائیں خود بھی کاٹتے ہوئے کانپتےہیں۔لیکن اس کے لئے انہیں چند خاص چیزوں کی ضرورت تھی۔ اور ہسپتال میں ان کو حاصل کرنا مشکل تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنے جگاڑپنے کا شاندار استعمال کیا۔ اور ہسپتال میں موجود اشیاء سے کام چلانے کا سوچا۔

سب سے پہلے انہوں نے ساتھ والے مریض کی عیادت پر آنے والوں سے ایک عدد لائٹر اڑن چھو کیا اور جیسا کہ لوٹے تو ویسے بھی آنی جانی چیز ہیں انہوں نے واش روم سے لوٹا بھی اپنے نام کیا اور ساتھ میں یہ کہا کہ یہ لوٹا خود میری پارٹی میں آگیا ہے۔ اب جو سب سے ضروری چیز اس عمل میں رہ گئی تھی وہ تھی چرس کی۔ کیونکہ اس عمل میں چرس کی دھونی دینا پڑتی تھی۔ لیکن قربان جائیں ٹکر پہلوان کے دماغ کے کہ انہوں نے اس کا حل بھی نکال لیا اور آپریشن تھیٹر سے انیستھیزیا (نشہ کرنی والی دوائی) کی ایک بوتل چرا لی۔ تمام اشیاء پوری ہوچکی تھی۔ اب بس عمل کرنا رہ گیا تھا۔

ٹکر پہلوان جو چلہ کرنے جا رہے تھے وہ کافی عجیب عمل تھا۔سب سے پہلے انہوں نے اپنے پلنگ سے چادر اُتاری اور اسکو لوٹے میں رکھا اور اس پر انستھیزیا دوائی چھڑک دی۔اس کے بعد چرائے لائٹر سے اسکو آگ لگائی تاکہ اس کی دھو نی دی جاسکے۔ اور پھر وہ خود مرغا بن کر اس لوٹے کو لے کر ککڑوں ککڑوں کرتے ہوئے اپنے وارڈ میں چھلانگیں لگانے لگے۔ باقی تمام لوگوں کو جب تک سمجھ لگنی تھی وہ بے ہوش ہوچکے تھے لیکن صبیح بھائی کجھل سائیں کے چیلہ خاص تھے۔ ان چھوٹی موٹی نشہ آور اودیہ کا ان پر اثر ہونا نا ممکن تھا۔

یہ عمل کچھ تین چار گھنٹے تک جاری رہے لیکن کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا سوائے ٹکر پہلوان کے چھلانگیں لگانے کے۔ شاید چرس کی غیر موجودگی کی وجہ سے چلہ کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ ٹکر پہلوان بھی اب تھک چکا تھا۔ لیکن بدلہ کی آگ نے ان کو رکنے سے منع کر رہی تھی۔ اور جب حوصلہ بلکل ہی جواب دینے لگا تب ایک خوفناک چیخ سنائی دی، جس سے صبیح بھائی جیسے منجھے ہوئے مرید خاص کا بھی دل دہل گیا۔

یہ چیخ اور کسی کی نہیں بلکہ کجھل سائیں کے سب سے بڑے دشمن جن کی تھی۔ جو اس چلہ کے نتیجے میں حاضر ہوا تھا۔ جس کا نام تھا

ججمجمجمجالی خان

@Doctor @Sabih Tariq @X 2 @UrduLover @AM @LAIQUE SHAH @Abu Dujana @Afzal339 @Bail Gari @UMAR ISLAM
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @UMAR ISLAM


 
Last edited:

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#25
ٹکرمارنے کے بعد صبیح نے کہا، وہ ایسی دنیا میں پہنچ جاتاہے جہاں پریاں ،ندیاں ،دودھ ،شہد کی نہریں بہتیں ہیں ،۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے پوچھا،کیا وہاں آم بھی ہوتے ہیں؟

صبیح نے اثبات میں ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئے تفصیل بتائی۔۔۔آم کے درخت سے ایک آم سونے کا ، دوسرا آم چاندی کا اور تیسرا آم نارمل ہوتاہے،
:geek:
مجھے تربوز اچھے لگتے ہیں، اے ایم نے پوچھا:)۔۔۔
صبیح نے کہا۔۔۔۔تربوز بھی ہیں۔۔۔ تربوزوں کا سائز مٹکوں جتنا بڑا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن جب انہیں توڑیں ان کے اندر سے سونے کے زیورات،لان، شنیل ،ریشم ۔مخمل،سوتی ملبوسات نکلتے ہیں:D۔۔۔

ناعمہ سسٹر :eek:حیرت میں ڈوب کر کہنی لگی ہمیں بھی وہاں لے جائیں۔۔۔۔۔جبکہ ڈاکٹر بھائی،ایکسٹواور اے ایم بھی صبیح کی زبانی حالات سن کر مچل اٹھے،ان کا تو چین اور سکون ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔چاروں نے صبیح کی منت شروع کردی کہ انہیں بھی وہاں کی سیر کروائی جائے،اس کے عوض وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔۔
:poop:
صبیح نے کہا ،اگر سیر کرنی ہے تو اس کی بتائی ہوئی علی بابا دیوار سے ٹکراناہوگا،ایک بار ٹکرانے سے بغیر کسی درد اور تکلیف کے پار ہوجاؤ گے:pagal: ،پھر جادوئی دنیا میں پہنچ کر جتنا مرضی سونا،ملبوسات جیبوں میں بھر کر ساتھ لے آنا۔۔۔۔
:p
یہ جملہ اونٹ کی کمر پر تنکا ثابت ہوا،ان کی قوت برداشت جواب دے گئی۔۔۔۔ مچل کر کہنے لگے ۔۔۔ہمیں اسی وقت علی بابا دیوار کے پاس لے چلو۔۔:giggle:۔۔۔

انہوں نے صبیح کو اتنا پریشان کیاکہ بلاآخر وہ انہیں ساتھ لیے چل پڑا:alien:۔۔۔

چاروں کو دیوار سے بیس قدم دور کھڑا کرکے صبیح نے ہدایات دیں اور کہا،پوری طاقت سےبھاگ کر دیوار سے سر ٹکراؤ،پھرلالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر کے پاس پہنچ کر میرا انتظار کرنا،۔
:pagal:
چنانچہ پہلے سے بے قرار ،بے صبروں نے صبیح کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی کہ پوری قوت سے دوڑ لگادی:devilish:،۔۔۔دیوار کے قریب پہنچ کر انہوں نے سر آگے کردئیے ۔۔۔۔جیسے وہ لالہ لئیق شاہ کی نہر میں جا غوطہ لگائیں گے;):pagal:۔۔۔۔
یہ جا وہ جا۔۔۔۔

دیوار کے ساتھ چاروں کے سر انتہائی قوت سے ٹکرائے تو وہ گیند کی طرح اچھل کر چار قدم پیچھے زمین بوس ہوئے۔:poop::poop:۔۔ناعمہ سسٹر نے چلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔اوئے۔۔۔مجھے کچھ دیکھائی نہیں دیتا،کیا لالہ لئیق شاہ کی نہر آگئی ہے؟۔:pagal:۔۔
ڈاکٹر بھائی نے رائے دی ۔۔۔لگتا ہے دودھ کالے رنگ کا ہے:D۔
اے ایم نےکہا ۔۔۔مجھے ایسے لگتاہے کہ یہاں رات ہے :D،۔۔۔
ایکسٹو !!مایوسی سے بولا،۔۔کاش ہم اپنے ساتھ ٹارچ بھی لاتے:oops::cautious:۔۔۔۔۔
اور پیناڈول بھی۔۔۔۔ناعمہ نے سر پکڑتے ہوئے بین کیا۔۔:pagal::pagal::pagal:۔۔

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM
جن دوستوں نے کہانی پسند کی ان کا بہت شکریہ:)،مجھے ڈاکٹر بھائی کی کہانی پوسٹ نمبر4 بہت پسند آئی(y) ویلڈن
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan


جس دیوار سے ان چاروں نے بیک وقت ٹکر ماری تھی اس کے اندر بڑا سا شگاف پڑچکاتھاجہاں سے بوایسی خارج ہونے لگی جیسے وہاں کھجل سائیں قید تھا،صبیح نےان سے کہا کہ کراہیں بند کرو،اور گہرے سانس لے کر بو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرو۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد نظر آناشروع ہوجائےگا،۔۔۔۔صبیح کی ہدایت پر عمل کرنے سے واقعی انہیں شگاف سے نکلنے والی بو نے ان کا دکھ درد دور کردیاکہ وہ پرسکون اٹھ کر کھڑے ہوگئے،
کچھ دیر کے بعد صبیح نے کہا، اب ہم شگاف کے اندر جائیں گے،او۔۔۔کیا وہاں دودھ کی نہر ہے :eek:؟ناعمہ سسٹر نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
شاید:sneaky:،۔۔۔صبیح نے کہا تو سب چل دئیے۔۔۔
وہ ایک کشادہ کھو تھا جونیچے گہرائی کی جانب جاتاہوادیکھائی دے رہاتھاچنانچہ وہ آہستہ آہستہ اس کے اندر اترتے چلے گئے۔۔۔
لیکن کھو میں پہنچ کر سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے:eek:۔۔۔۔
جگہ جگہ قدیم زمانے کے صندوق کھلے ڈھکن کے رکھےتھے جن کے اندر چمکتے ہوئے ہیرے جواہرات، سونااورقیمتی پتھروں نےکھو کو طلسماتی دنیا بنارکھاتھا ،ان کی ملی جلی چمک سے کھو کے اندر لال، سنہری اور سبز رنگوں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر ایک ہار لینا چاہاتو انہیں ایک پھنکار سنائی دی۔۔۔۔سُسووووووو۔۔۔۔اوئے یہ تو سانپ کی آواز ہے ،ایکسٹو نے:mad: چونک کر کہا۔
ڈاکٹر بھائی ، ناعمہ سسٹر، اور اے ایم نے ایکسٹو کے کہنے پر چونکتے ہوئے آواز کو غور سے سنا۔۔۔سسووووو۔۔۔
ہاں،صبیح نے ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئےکہا،ایکسٹو ٹھیک کہہ رہاہے، اورسنو !ہر خزانے کے اندر سانپ ہوتے ہیں،۔۔۔یہ بھی سانپ کی پھنکار ہے،احتیاط کرناo_O۔۔۔صبیح کی تنبیہی آواز کی گونج ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک قہقہہ سنائی دیا:D۔۔۔ھاھاھا۔۔ایک بہت بڑا ناگ جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھاکھو کے شمال میں رکھے صندوق کے پیچھے سے نکل کر سامنے آکر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔۔ھاھاھاھا۔:pagal:میں ہوں شیش ناگ،۔۔۔۔۔خبر دار کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا،ورنہ میں زہر کا میزائل مار کر جلاڈالوں گا۔۔۔میں وہ ناگ ہوں جوزہر پھینکتاہے۔​

اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ سے پوچھا۔۔۔سر جی یہ خزانہ لالہ لئیق شاہ کاہے؟:oops:،۔۔۔۔۔
سانپ نے حیرانی :eek:سے پوچھا،اوئےجوان تمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟کیا تم بھی سانپ وانپ کا دماغ رکھتے ہو؟اے ایم نےسوال سن کر جلدی سے وضاحت دیتے ہیں کہا ،صبیح کہہ رہا تھا کہ لالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر ہوگی لیکن ہم نے یہاں خزانہ پایاہے،توہوسکتا ہے کہ یہ خزانہ بھی انہی کا ہو،اے سانپ:pagal:۔۔۔

ھاھاھا۔۔۔۔شیش ناگ نے ہنس کرکہا،تمہاری وضاحت سے آج شیش ناگ بہت خوش ہوا ہے جوان:D ۔۔۔۔سنو!آج سے تم میرے نمبر ٹو ہو:pagal:۔۔۔آؤ میرے گلے ملو۔۔۔اے ایم خوشی خوشی آگے بڑھ کر سانپ سے لپٹ جاتاہے اور سانپ بھی اے ایم کے جسم کے گرد لپٹ جاتاہے،یہ منظر دیکھ کر ایکسٹو کہتا ہے،مزا آگیاہماری ٹیم میں ایسا بندہ بھی ہے جو اپنی زبان کے جادو سے سانپ کو بھی رام کرسکتا :devilish:۔۔۔​

اے ایم کاپورا جسم سانپ نےاپنی گرفت میں لےلیا تھا،منظر ایسے تھا جیسے رسّے سے کسی کوپاؤں سے سر تک جھکڑ دیاگیاہو۔۔، اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ کو خوش کرنے کی خاطر کہا۔۔۔ بڑی دیر کردی لپٹتے لپٹتے۔۔کلیجے وچ ٹھنڈ پے گئی اے:p۔۔۔۔
سانپ نے کہا ، فکر نہ کرجوان،اب تینوں میں چھڈوں گا بھی نئیں۔:pagal:۔۔ ۔

یہ معانقہ کافی طویل ہوگیاتو اے ایم نے دوبارہ گھگھیاتے ہوئے کہا،اے سانپ ،اب مجھے چھوڑ دو۔۔۔سانپ نے کہا، میں تمیں ایک شرط پر چھوڑوں گا،کون سی شرط؟اے ایم نے پوچھا،تمیں ہماری ایک دوست شیش ناگ دیوتا کی خوبصورت بیٹی ناگن سے شادی کرناہوگی۔۔۔
یہ سن کر اے ایم اچھل پڑا:eek::eek::eek:۔۔۔اسے بڑی زور کا کرنٹ لگا،لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے چالاکی سے کہا اے سانپ میں تو شادی شدہ ہوں۔۔۔(اس کیفیت میں بھی اے ایم نے شادی یاد رکھی ہوئی تھی;))۔۔۔اسی دوران بہت سارے سانپ نکل کر آگئے جن میں ایک خوبصورت سی ناگن بھی تھی،اس نے اے ایم کو دیکھا تو آنکھیں چھپکانا ہی بھول گئی۔۔;)۔۔۔
اے ایم نے چیخ کر کہا،نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ناگن سے میری شادی نہیں ہوسکتی:giggle::p:D۔۔۔۔

سانپوں نے اے ایم کے گرد گھیراڈال دیاتاکہ وہ بھاگ نہ جائے البتہ شیش ناگ سانپ نے اسے بری طرح جھکڑاہواتھا۔۔۔اے ایم نے دل کی گہرائیوں سے آواز ماری۔۔۔باباکھجل سائیں ۔۔۔جان ن ن ن ۔۔:pagal:۔۔،​
بابا کھجل سائیں جان ن ن ن
ہم آگئے بالک۔۔۔۔۔۔شگاف کے منہ سےایک انتہائی غصیلی آواز سنائی دی۔۔۔یہ آواز کھجل سائیں کی تھی۔۔۔ہم ان مورکھ سانپوں کو جلا کر بھسم کرڈالیں گے،کھجل سائیں نے غصے سےدہاڑتے ہوئے کہا،۔۔۔۔ناعمہ سسٹر ،ڈاکٹر بھائی ، ایکسٹو، اے ایم اور صبیح ،کھجل سائیں کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے۔:D۔۔۔

کھجل سائیں نےجلدی سے اپنے تھیلے سے بانسری نکال کر بجائی تو سانپوں پہ بانسری کا اثر پڑنے لگا، ۔۔کچھ ہی دیر میں ماحول پر بانسری کی آواز کا سحر چھانے لگا ۔۔۔ناعمہ سسٹر نے بڑی مشکل سے خود کوجھومنے سے روکا;)۔۔۔آواز ایسی تھی کہ خود بخود جسم جھومنے پر مجبور ہورہاتھا۔۔۔۔انسان تو جبر کرگئے لیکن سانپ بے قابو ہوکرناچ اٹھے۔۔۔۔ان کاڈانس دیکھ کرسب خوش ہوئے لیکن پھراے ایم بے قابو ہوگیا۔:pagal:۔۔کھجل بانسری ماسٹر کے پھیپھڑوں سے چرسیلی پھونکوں کا اثر اے ایم پرایساپڑا کہ ۔۔۔ اس نے بھی ناچنا شروع کردیا۔۔۔۔اے ایم کالچکیلا پھرتیلاچھیل چھبیلا ڈانس جس میں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کرکےسانپ کا منہ بناتھا اس پوز نےسانپوں کو باؤلہ کردیا۔:pagal:اے ایم کی جانب سےیہ ایک واضح پیغام اور طنز تھاکہ کھجل سائیں کے بالک کا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔:p۔اسی پوز میں اے ایم نے اپنے جسم کو ایسےگھمایا جیسے بچے کمر میں بڑی رنگ ڈال کر کمر کو ہلاتے ہیں۔:Dاے ایم کے ان مست ہچکولوں بھرے ناچ نے سانپوں کے ناچ کو شکست فاش دے دی۔۔۔انہیں اپنےناچ پر سخت شرمندگی ہوئی اوروہ آہستہ آہستہ الٹے رینگ کراے ایم کو سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہوئے بھاگنے لگے۔۔۔حتیٰ کہ کھو میں ایک سانپ بھی نہ رہا۔۔۔

کھجل سائیں نے بانسری بجانا روک کر اے ایم کو پکارا،بالکے!!! دل خوش کردتا۔۔۔واہ۔۔۔ آ۔۔۔آ۔۔گلےلگ جا۔۔:pagal::pagal::pagal:ان خوفناک سانپوں کے چنگل سے کھجل سائیں نے اسے آزادی دلائی تھی، چنانچہ آج اے ایم کھجل سائیں کا انتہائی ممنون تھا۔۔۔اس نےکھجل سائیں کی جانب سو کلو میٹر کی رفتار سے دوڑ لگائی۔۔۔۔۔
:pagal:



 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#26

جن دوستوں نے کہانی پسند کی ان کا بہت شکریہ:)،مجھے ڈاکٹر بھائی کی کہانی پوسٹ نمبر4 بہت پسند آئی(y) ویلڈن
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan


جس دیوار سے ان چاروں نے بیک وقت ٹکر ماری تھی اس کے اندر بڑا سا شگاف پڑچکاتھاجہاں سے بوایسی خارج ہونے لگی جیسے وہاں کھجل سائیں قید تھا،صبیح نےان سے کہا کہ کراہیں بند کرو،اور گہرے سانس لے کر بو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرو۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد نظر آناشروع ہوجائےگا،۔۔۔۔صبیح کی ہدایت پر عمل کرنے سے واقعی انہیں شگاف سے نکلنے والی بو نے ان کا دکھ درد دور کردیاکہ وہ پرسکون اٹھ کر کھڑے ہوگئے،
کچھ دیر کے بعد صبیح نے کہا، اب ہم شگاف کے اندر جائیں گے،او۔۔۔کیا وہاں دودھ کی نہر ہے :eek:؟ناعمہ سسٹر نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
شاید:sneaky:،۔۔۔صبیح نے کہا تو سب چل دئیے۔۔۔
وہ ایک کشادہ کھو تھا جونیچے گہرائی کی جانب جاتاہوادیکھائی دے رہاتھاچنانچہ وہ آہستہ آہستہ اس کے اندر اترتے چلے گئے۔۔۔
لیکن کھو میں پہنچ کر سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے:eek:۔۔۔۔
جگہ جگہ قدیم زمانے کے صندوق کھلے ڈھکن کے رکھےتھے جن کے اندر چمکتے ہوئے ہیرے جواہرات، سونااورقیمتی پتھروں نےکھو کو طلسماتی دنیا بنارکھاتھا ،ان کی ملی جلی چمک سے کھو کے اندر لال، سنہری اور سبز رنگوں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر ایک ہار لینا چاہاتو انہیں ایک پھنکار سنائی دی۔۔۔۔سُسووووووو۔۔۔۔اوئے یہ تو سانپ کی آواز ہے ،ایکسٹو نے:mad: چونک کر کہا۔
ڈاکٹر بھائی ، ناعمہ سسٹر، اور اے ایم نے ایکسٹو کے کہنے پر چونکتے ہوئے آواز کو غور سے سنا۔۔۔سسووووو۔۔۔
ہاں،صبیح نے ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئےکہا،ایکسٹو ٹھیک کہہ رہاہے، اورسنو !ہر خزانے کے اندر سانپ ہوتے ہیں،۔۔۔یہ بھی سانپ کی پھنکار ہے،احتیاط کرناo_O۔۔۔صبیح کی تنبیہی آواز کی گونج ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک قہقہہ سنائی دیا:D۔۔۔ھاھاھا۔۔ایک بہت بڑا ناگ جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھاکھو کے شمال میں رکھے صندوق کے پیچھے سے نکل کر سامنے آکر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔۔ھاھاھاھا۔:pagal:میں ہوں شیش ناگ،۔۔۔۔۔خبر دار کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا،ورنہ میں زہر کا میزائل مار کر جلاڈالوں گا۔۔۔میں وہ ناگ ہوں جوزہر پھینکتاہے۔​

اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ سے پوچھا۔۔۔سر جی یہ خزانہ لالہ لئیق شاہ کاہے؟:oops:،۔۔۔۔۔
سانپ نے حیرانی :eek:سے پوچھا،اوئےجوان تمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟کیا تم بھی سانپ وانپ کا دماغ رکھتے ہو؟اے ایم نےسوال سن کر جلدی سے وضاحت دیتے ہیں کہا ،صبیح کہہ رہا تھا کہ لالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر ہوگی لیکن ہم نے یہاں خزانہ پایاہے،توہوسکتا ہے کہ یہ خزانہ بھی انہی کا ہو،اے سانپ:pagal:۔۔۔

ھاھاھا۔۔۔۔شیش ناگ نے ہنس کرکہا،تمہاری وضاحت سے آج شیش ناگ بہت خوش ہوا ہے جوان:D ۔۔۔۔سنو!آج سے تم میرے نمبر ٹو ہو:pagal:۔۔۔آؤ میرے گلے ملو۔۔۔اے ایم خوشی خوشی آگے بڑھ کر سانپ سے لپٹ جاتاہے اور سانپ بھی اے ایم کے جسم کے گرد لپٹ جاتاہے،یہ منظر دیکھ کر ایکسٹو کہتا ہے،مزا آگیاہماری ٹیم میں ایسا بندہ بھی ہے جو اپنی زبان کے جادو سے سانپ کو بھی رام کرسکتا :devilish:۔۔۔​

اے ایم کاپورا جسم سانپ نےاپنی گرفت میں لےلیا تھا،منظر ایسے تھا جیسے رسّے سے کسی کوپاؤں سے سر تک جھکڑ دیاگیاہو۔۔، اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ کو خوش کرنے کی خاطر کہا۔۔۔ بڑی دیر کردی لپٹتے لپٹتے۔۔کلیجے وچ ٹھنڈ پے گئی اے:p۔۔۔۔
سانپ نے کہا ، فکر نہ کرجوان،اب تینوں میں چھڈوں گا بھی نئیں۔:pagal:۔۔ ۔

یہ معانقہ کافی طویل ہوگیاتو اے ایم نے دوبارہ گھگھیاتے ہوئے کہا،اے سانپ ،اب مجھے چھوڑ دو۔۔۔سانپ نے کہا، میں تمیں ایک شرط پر چھوڑوں گا،کون سی شرط؟اے ایم نے پوچھا،تمیں ہماری ایک دوست شیش ناگ دیوتا کی خوبصورت بیٹی ناگن سے شادی کرناہوگی۔۔۔
یہ سن کر اے ایم اچھل پڑا:eek::eek::eek:۔۔۔اسے بڑی زور کا کرنٹ لگا،لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے چالاکی سے کہا اے سانپ میں تو شادی شدہ ہوں۔۔۔(اس کیفیت میں بھی اے ایم نے شادی یاد رکھی ہوئی تھی;))۔۔۔اسی دوران بہت سارے سانپ نکل کر آگئے جن میں ایک خوبصورت سی ناگن بھی تھی،اس نے اے ایم کو دیکھا تو آنکھیں چھپکانا ہی بھول گئی۔۔;)۔۔۔
اے ایم نے چیخ کر کہا،نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ناگن سے میری شادی نہیں ہوسکتی:giggle::p:D۔۔۔۔

سانپوں نے اے ایم کے گرد گھیراڈال دیاتاکہ وہ بھاگ نہ جائے البتہ شیش ناگ سانپ نے اسے بری طرح جھکڑاہواتھا۔۔۔اے ایم نے دل کی گہرائیوں سے آواز ماری۔۔۔باباکھجل سائیں ۔۔۔جان ن ن ن ۔۔:pagal:۔۔،​
بابا کھجل سائیں جان ن ن ن
ہم آگئے بالک۔۔۔۔۔۔شگاف کے منہ سےایک انتہائی غصیلی آواز سنائی دی۔۔۔یہ آواز کھجل سائیں کی تھی۔۔۔ہم ان مورکھ سانپوں کو جلا کر بھسم کرڈالیں گے،کھجل سائیں نے غصے سےدہاڑتے ہوئے کہا،۔۔۔۔ناعمہ سسٹر ،ڈاکٹر بھائی ، ایکسٹو، اے ایم اور صبیح ،کھجل سائیں کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے۔:D۔۔۔

کھجل سائیں نےجلدی سے اپنے تھیلے سے بانسری نکال کر بجائی تو سانپوں پہ بانسری کا اثر پڑنے لگا، ۔۔کچھ ہی دیر میں ماحول پر بانسری کی آواز کا سحر چھانے لگا ۔۔۔ناعمہ سسٹر نے بڑی مشکل سے خود کوجھومنے سے روکا;)۔۔۔آواز ایسی تھی کہ خود بخود جسم جھومنے پر مجبور ہورہاتھا۔۔۔۔انسان تو جبر کرگئے لیکن سانپ بے قابو ہوکرناچ اٹھے۔۔۔۔ان کاڈانس دیکھ کرسب خوش ہوئے لیکن پھراے ایم بے قابو ہوگیا۔:pagal:۔۔کھجل بانسری ماسٹر کے پھیپھڑوں سے چرسیلی پھونکوں کا اثر اے ایم پرایساپڑا کہ ۔۔۔ اس نے بھی ناچنا شروع کردیا۔۔۔۔اے ایم کالچکیلا پھرتیلاچھیل چھبیلا ڈانس جس میں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کرکےسانپ کا منہ بناتھا اس پوز نےسانپوں کو باؤلہ کردیا۔:pagal:اے ایم کی جانب سےیہ ایک واضح پیغام اور طنز تھاکہ کھجل سائیں کے بالک کا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔:p۔اسی پوز میں اے ایم نے اپنے جسم کو ایسےگھمایا جیسے بچے کمر میں بڑی رنگ ڈال کر کمر کو ہلاتے ہیں۔:Dاے ایم کے ان مست ہچکولوں بھرے ناچ نے سانپوں کے ناچ کو شکست فاش دے دی۔۔۔انہیں اپنےناچ پر سخت شرمندگی ہوئی اوروہ آہستہ آہستہ الٹے رینگ کراے ایم کو سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہوئے بھاگنے لگے۔۔۔حتیٰ کہ کھو میں ایک سانپ بھی نہ رہا۔۔۔

کھجل سائیں نے بانسری بجانا روک کر اے ایم کو پکارا،بالکے!!! دل خوش کردتا۔۔۔واہ۔۔۔ آ۔۔۔آ۔۔گلےلگ جا۔۔:pagal::pagal::pagal:ان خوفناک سانپوں کے چنگل سے کھجل سائیں نے اسے آزادی دلائی تھی، چنانچہ آج اے ایم کھجل سائیں کا انتہائی ممنون تھا۔۔۔اس نےکھجل سائیں کی جانب سو کلو میٹر کی رفتار سے دوڑ لگائی۔۔۔۔۔
:pagal:



ہا ہا ہا، عمدہ کہانی جِس نے کبھی زندگی میں ڈانس نہیں کیا آج آپ نے اسے کروادیا :p ۔ ویسے یہ دھکے شاہی آپ نے اپنی ہی پوسٹ آگے بڑھائی :/ .
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#27
,
ٹکر پہلوان اس آہنی ٹکر کے بعد اپنے حواسوں میں نہ
رہے، کچھ اثر اس ٹکر کا تھا اور رہی سہی کسر ان برقی لہروں نے پوری کردی جو سیکرٹ ایجینٹ ابودجانہ بھائی نے ایکٹو کی تھیں



اس تسلسل میں مزید کہانی پڑھیئے
:)

جب ٹکر پہلوان باباجی کا سر چکرایا تو بیہوش ہو گئے.
انہیں الکمونیا کے اسپتال پہنچایا گیا

کچھ دیر بعد ہوش آیا تو انہوں نے دماغ پر زور دیا کہ میرے ساتھ ہوا کیا تھا. خیال آیا کہ میں نے آستانہ کھجلیہ میں خانہ خدا میں مرنے کی دعا کی تھی شاید وہ قبول ہو گئی ہے.
آس پاس نظر دوڑائی. صاف ستھرا اسپتال، سفید براق بستر اور اس پر سفید چادریں.
اتنی صفائی کھجل سائیں کے آ ستانے میں کہاں دیکھی تھی.
سمجھا مر چکا ہوں اور اب جنت میں ہوں.
جلدی سے بستر سے اترے اور اپنے محل کی وسعت کا اندازہ لگانے کمرے سے باہر نکلے.
سامنے نازک اندام نرس سفید یونیفارم میں اپنے کام میں مگن تھی.
ٹکر پہلوان تو اس زوردار ٹکر سے پچھلی دنیا بھول چکے اور الکمونیا کی عجیب وغریب دل کو موہ لینے والی دنیا کو جنت تسلیم کرچکے تھے۔
اتنے میں
، کسی گڑیا کی مانند نازک اندام نرس کو جنت کی حور سمجھنا فطری بات تھی
ٹکر پہلوان باباجی فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر پکار اٹھے.
ماشاءاللہ!!! حور العین!!! حور العین!!! حور العین!!!۔۔

اسپتال میں کھلبلی مچ گئی.

آس پاس جتنی بھی نرسیں تھیں. سب بابا جی کو کنٹرول کرنے کے لیے دوڑی چلی آئیں. خیال تھا کہ
برقی لہروں اور آہنی ٹکر سے باباجی سٹھیا گئے ہیں لیکن بابا جی تو کسی اور دنیا میں تھے. سمجھے ستر کی ستر حوروں نے ایک ساتھ ہی ہلہ بول دیا ہے.
:pagal::pagal::pagal:

بڑے سٹپٹائے اور بیچارگی سے کہنے لگے،

الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
:pagal::pagal::pagal:
باباجی ٹکر پہلوان حیران تھے کہ یہ حوریں ہیں یا پھر بابا کھجل سائیں کے آستانے کی بد روحیں۔۔۔جو ٹکر پہلوان بابا سائیں کو جنت سے واپس دنیا میں بھیجنے پر تلی ہوئیں ہیں۔

:pagal::pagal::pagal:
:D:D:pagal:
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#28
کھجل سائیں چرس کے اصل چور تک پہنچنے کی ترکیبیں بنارہا تھا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد استانہ کھجلیہ کے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا۔ ایک سمجھدار مرید نے مشورہ دیا کہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ اس میں کھجل سائیں کے بغیر کش کے چلے کام نہیں کریں گے اگر کسی نتیجے تک پہنچنا ہو تو الکمونیا کے ٹاپ اور قابل اعتماد سیکرٹ ایجنٹ جناب ایکس ٹو صاحب کی خدمات حاصل کی جائیں۔
بات کھجل سائیں کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اگلے دن ایکس ٹو صاحب آستانہ کھجلیہ میں ناک پر رومال رکھ کر کھجل سائیں کے دو بدو دوزانو بیٹھا تھا۔ چور معلوم کرنے کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا اور معاوضہ طے پایا۔ کھجل سائیں چور معلوم کرنے کے معاملے میں اتنی جلد بازی کررہے تھے کہ ایکس ٹو کو پوری چرس گودام کی اصل رقم پیش کش کی بس شرط یہ تھی کہ شام سے پہلے پہلے اصل چور کا پتہ لگانا ہے۔ کیوں کہ کھجل سائیں ٹکر پہلوان باباجی کے خدو خال سے اندازہ لگا چکے تھے کہ چور کوئی اور ہے۔
ایکس ٹو صاحب نے آستانہ کھجلیہ سے نکلتے ہی الکمونیا کا رخ کیا۔ تمام سیکرٹ سروس ایجنٹس کے سامنے معاملہ رکھا گیا ۔ اے ایم بھائی کا کہنا تھا کہ اصل چور تک پہنچنا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ الکمونیا کو آستانہ کھجلیہ کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ لہذا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آستانہ کھجلیہ کے پچھلے ایک ہفتے کے تمام ٹیلی فون ریکارڈز سنے گئے۔ کمال حیرت سے ناعمہ سسٹر نے ایسی شکتی حاصل کی تھی جس کی بدولت وہ ٹریک ہونے میں نہیں آئی مگر اصل چور اختر سائیں چکن تائی ریکارڈ پر سامنے اگئے۔
بس ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ایکس ٹو نے اختر سائیں کی تمام ریکارڈز مع ثبوت کے کھجل سائیں کے سامنے رکھے اور اپنا صلہ لے کر چل دئے۔۔۔
کھجل سائیں کو گویا گیارہ ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔ فوراً کچھ مریدوں کا لشکر اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کرنے کے لئے بھیجا۔
جب اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کیا گیا تو کھجل سائیں نے گھورتے ہوئے سوال کیا؟
بول رے۔۔۔امرا مال چوری کرکے کاہے کو لے گیا؟..
اختر سائیں گھبراتے ہوئے قسمیں کھانے لگے کہ میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔۔
کھجل سائیں تشدد پر اتر آئے تو اختر سائیں چکن تائی تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ بتا نے پر رضامند ہو کر گویا ہوئے۔۔۔
۔
۔
آستانہ کھجلیہ سے نکل کر سیدھے جائیں آگے بس سٹاپ آئے گا۔ وہی گاڑی کا انتظار کریں۔
پہلی گاڑی چھوڑ کر ، دوسری گاڑی چھوڑ کر تیسری گاڑی میں چڑھ جائیں اور وہاں پہلی سیٹ چھوڑ کر، دوسری سیٹ چھوڑ کر تیسری سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ گاڑی روانہ ہونے کے بعد پہلا سٹاپ چھوڑ کر، دوسرا سٹاپ چھوڑ کر تیسرے سٹاپ پر اتر جائیں۔۔۔
سامنے تین گلیاں نظر آئیں گی۔۔۔۔
پہلی گلی چھوڑ کر، دوسری گلی چھوڑ کر تیسری گلی میں داخل ہوجائیں اور سیدھے آگے بڑھتے رہیں۔
آگے گلی کے نکڑ پر تین دکان آئیں گے پہلی دکان چھوڑ کر، دوسری دکان چھوڑ کر تیسری دکان کے ساتھ دائیں مڑجائیں۔۔اور چلتے رہیں۔۔۔۔
آگے تین گھر آئیں گے۔۔۔پہلا گھر چھوڑ کر، دوسرا گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں داخل ہوجائیں وہاں تین کمرے ہونگے۔۔۔
پہلا کمرہ چھوڑ کر، دوسرا کمرہ چھوڑ کر تیسرے کمرے میں داخل ہوجائیں۔
وہاں تین صندوق ہوں گے۔۔۔پہلا دوسرا چھوڑ کر تیسرے صندوق کے پاس آئیں۔۔۔تالا لگا ہوگا۔۔۔سامنے الماری میں تین چابیاں ہوں گی۔۔۔پہلی دوسری چھوڑ کر تیسرے چابی سے صندوق کھولیں۔۔
ہر چیز باہر کریں۔۔۔ سب سے آخر میں تین تصویریں ہوں گی۔۔۔پہلی چھوڑ کر دوسری چھوڑ کر تیسرے تصویر کو غور سے دیکھیں۔۔۔
یہ میری ماں کی تصویر ہے۔۔۔
مجھے ان کے سر کی قسم ! میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔
۔
۔:pagal::pagal::pagal::LOL:
ہا ہا ہا، چھاگئے:pagal:
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#29
صبیح بھائی جو اب ٹکر پہلوان کہلواتے تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس انہونی پر کافی حیران و پریشان تھے۔ الکمونیا کے ہسپتال میں اپنی جگ ہنسائی کروانے کے بعد ان کا دل اور بھی برا ہوچکا تھا۔لیکن بدلے کی آگ نے ان کا چین و سکون چھین لیا تھا(چین سے مراد چابی چین لیا جائے) ، بیڈ رسیٹ پر ہونے کے باوجود ان کا بدن آرام و سکون سے کوسوں دور تھا۔

ٹکر پہلوان نے بھی اپنے ناک کے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے اور نہ ہی وہ سلسلہ کجھلیہ بدبودیئہ کے خلیفہ اول بغیر کسی ہنر کے بن گئے تھے، انہوں نے اس وقت اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی کھیلنے کا تہیہ کر لیا۔ اور اس خطرناک چلہ کاٹنے کا سوچا جس کو کجھل سائیں خود بھی کاٹتے ہوئے کانپتےہیں۔لیکن اس کے لئے انہیں چند خاص چیزوں کی ضرورت تھی۔ اور ہسپتال میں ان کو حاصل کرنا مشکل تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنے جگاڑپنے کا شاندار استعمال کیا۔ اور ہسپتال میں موجود اشیاء سے کام چلانے کا سوچا۔

سب سے پہلے انہوں نے ساتھ والے مریض کی عیادت پر آنے والوں سے ایک عدد لائٹر اڑن چھو کیا اور جیسا کہ لوٹے تو ویسے بھی آنی جانی چیز ہیں انہوں نے واش روم سے لوٹا بھی اپنے نام کیا اور ساتھ میں یہ کہا کہ یہ لوٹا خود میری پارٹی میں آگیا ہے۔ اب جو سب سے ضروری چیز اس عمل میں رہ گئی تھی وہ تھی چرس کی۔ کیونکہ اس عمل میں چرس کی دھونی دینا پڑتی تھی۔ لیکن قربان جائیں ٹکر پہلوان کے دماغ کے کہ انہوں نے اس کا حل بھی نکال لیا اور آپریشن تھیٹر سے انیستھیزیا (نشہ کرنی والی دوائی) کی ایک بوتل چرا لی۔ تمام اشیاء پوری ہوچکی تھی۔ اب بس عمل کرنا رہ گیا تھا۔

ٹکر پہلوان جو چلہ کرنے جا رہے تھے وہ کافی عجیب عمل تھا۔سب سے پہلے انہوں نے اپنے پلنگ سے چادر اُتاری اور اسکو لوٹے میں رکھا اور اس پر انستھیزیا دوائی چھڑک دی۔اس کے بعد چرائے لائٹر سے اسکو آگ لگائی تاکہ اس کی دھو نی دی جاسکے۔ اور پھر وہ خود مرغا بن کر اس لوٹے کو لے کر ککڑوں ککڑوں کرتے ہوئے اپنے وارڈ میں چھلانگیں لگانے لگے۔ باقی تمام لوگوں کو جب تک سمجھ لگنی تھی وہ بے ہوش ہوچکے تھے لیکن صبیح بھائی کجھل سائیں کے چیلہ خاص تھے۔ ان چھوٹی موٹی نشہ آور اودیہ کا ان پر اثر ہونا نا ممکن تھا۔

یہ عمل کچھ تین چار گھنٹے تک جاری رہے لیکن کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا سوائے ٹکر پہلوان کے چھلانگیں لگانے کے۔ شاید چرس کی غیر موجودگی کی وجہ سے چلہ کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ ٹکر پہلوان بھی اب تھک چکا تھا۔ لیکن بدلہ کی آگ نے ان کو رکنے سے منع کر رہی تھی۔ اور جب حوصلہ بلکل ہی جواب دینے لگا تب ایک خوفناک چیخ سنائی دی، جس سے صبیح بھائی جیسے منجھے ہوئے مرید خاص کا بھی دل دہل گیا۔

یہ چیخ اور کسی کی نہیں بلکہ کجھل سائیں کے سب سے بڑے دشمن جن کی تھی۔ جو اس چلہ کے نتیجے میں حاضر ہوا تھا۔ جس کا نام تھا

ججمجمجمجالی خان

@Doctor @Sabih Tariq @X 2 @UrduLover @AM @LAIQUE SHAH @Abu Dujana @Afzal339 @Bail Gari @UMAR ISLAM
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @UMAR ISLAM


ہا ہا ہا، یعنی اب جمجمجمجمالی باباکھجل سائیں سے پنگا لے گا :p ۔
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,631
Likes
1,967
Points
492
Location
Rawalpindi
#30
ٹکر پہلوان جو چلہ کرنے جا رہے تھے وہ کافی عجیب عمل تھا۔سب سے پہلے انہوں نے اپنے پلنگ سے چادر اُتاری اور اسکو لوٹے میں رکھا اور اس پر انستھیزیا دوائی چھڑک دی۔اس کے بعد چرائے لائٹر سے اسکو آگ لگائی تاکہ اس کی دھو نی دی جاسکے۔ اور پھر وہ خود مرغا بن کر اس لوٹے کو لے کر ککڑوں ککڑوں کرتے ہوئے اپنے وارڈ میں چھلانگیں لگانے لگے۔ باقی تمام لوگوں کو جب تک سمجھ لگنی تھی وہ بے ہوش ہوچکے تھے لیکن صبیح بھائی کجھل سائیں کے چیلہ خاص تھے۔ ان چھوٹی موٹی نشہ آور اودیہ کا ان پر اثر ہونا نا ممکن تھا
:pagal::pagal:
 

Derwaish

 
VIP Member
Writer
Joined
May 18, 2018
Messages
93
Likes
141
Points
40
Location
Bruxelles
#32
کھجل سائیں چرس کے اصل چور تک پہنچنے کی ترکیبیں بنارہا تھا۔ بڑی سوچ بچار کے بعد استانہ کھجلیہ کے مجلس شوریٰ کا اجلاس بلایا۔ ایک سمجھدار مرید نے مشورہ دیا کہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ اس میں کھجل سائیں کے بغیر کش کے چلے کام نہیں کریں گے اگر کسی نتیجے تک پہنچنا ہو تو الکمونیا کے ٹاپ اور قابل اعتماد سیکرٹ ایجنٹ جناب ایکس ٹو صاحب کی خدمات حاصل کی جائیں۔
بات کھجل سائیں کے ذہن میں بیٹھ گئی۔ اگلے دن ایکس ٹو صاحب آستانہ کھجلیہ میں ناک پر رومال رکھ کر کھجل سائیں کے دو بدو دوزانو بیٹھا تھا۔ چور معلوم کرنے کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا اور معاوضہ طے پایا۔ کھجل سائیں چور معلوم کرنے کے معاملے میں اتنی جلد بازی کررہے تھے کہ ایکس ٹو کو پوری چرس گودام کی اصل رقم پیش کش کی بس شرط یہ تھی کہ شام سے پہلے پہلے اصل چور کا پتہ لگانا ہے۔ کیوں کہ کھجل سائیں ٹکر پہلوان باباجی کے خدو خال سے اندازہ لگا چکے تھے کہ چور کوئی اور ہے۔
ایکس ٹو صاحب نے آستانہ کھجلیہ سے نکلتے ہی الکمونیا کا رخ کیا۔ تمام سیکرٹ سروس ایجنٹس کے سامنے معاملہ رکھا گیا ۔ اے ایم بھائی کا کہنا تھا کہ اصل چور تک پہنچنا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ الکمونیا کو آستانہ کھجلیہ کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ لہذا جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آستانہ کھجلیہ کے پچھلے ایک ہفتے کے تمام ٹیلی فون ریکارڈز سنے گئے۔ کمال حیرت سے ناعمہ سسٹر نے ایسی شکتی حاصل کی تھی جس کی بدولت وہ ٹریک ہونے میں نہیں آئی مگر اصل چور اختر سائیں چکن تائی ریکارڈ پر سامنے اگئے۔
بس ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ایکس ٹو نے اختر سائیں کی تمام ریکارڈز مع ثبوت کے کھجل سائیں کے سامنے رکھے اور اپنا صلہ لے کر چل دئے۔۔۔
کھجل سائیں کو گویا گیارہ ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔ فوراً کچھ مریدوں کا لشکر اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کرنے کے لئے بھیجا۔
جب اختر سائیں چکن تائی کو حاضر کیا گیا تو کھجل سائیں نے گھورتے ہوئے سوال کیا؟
بول رے۔۔۔امرا مال چوری کرکے کاہے کو لے گیا؟..
اختر سائیں گھبراتے ہوئے قسمیں کھانے لگے کہ میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔۔
کھجل سائیں تشدد پر اتر آئے تو اختر سائیں چکن تائی تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے کچھ بتا نے پر رضامند ہو کر گویا ہوئے۔۔۔
۔
۔
آستانہ کھجلیہ سے نکل کر سیدھے جائیں آگے بس سٹاپ آئے گا۔ وہی گاڑی کا انتظار کریں۔
پہلی گاڑی چھوڑ کر ، دوسری گاڑی چھوڑ کر تیسری گاڑی میں چڑھ جائیں اور وہاں پہلی سیٹ چھوڑ کر، دوسری سیٹ چھوڑ کر تیسری سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ گاڑی روانہ ہونے کے بعد پہلا سٹاپ چھوڑ کر، دوسرا سٹاپ چھوڑ کر تیسرے سٹاپ پر اتر جائیں۔۔۔
سامنے تین گلیاں نظر آئیں گی۔۔۔۔
پہلی گلی چھوڑ کر، دوسری گلی چھوڑ کر تیسری گلی میں داخل ہوجائیں اور سیدھے آگے بڑھتے رہیں۔
آگے گلی کے نکڑ پر تین دکان آئیں گے پہلی دکان چھوڑ کر، دوسری دکان چھوڑ کر تیسری دکان کے ساتھ دائیں مڑجائیں۔۔اور چلتے رہیں۔۔۔۔
آگے تین گھر آئیں گے۔۔۔پہلا گھر چھوڑ کر، دوسرا گھر چھوڑ کر تیسرے گھر میں داخل ہوجائیں وہاں تین کمرے ہونگے۔۔۔
پہلا کمرہ چھوڑ کر، دوسرا کمرہ چھوڑ کر تیسرے کمرے میں داخل ہوجائیں۔
وہاں تین صندوق ہوں گے۔۔۔پہلا دوسرا چھوڑ کر تیسرے صندوق کے پاس آئیں۔۔۔تالا لگا ہوگا۔۔۔سامنے الماری میں تین چابیاں ہوں گی۔۔۔پہلی دوسری چھوڑ کر تیسرے چابی سے صندوق کھولیں۔۔
ہر چیز باہر کریں۔۔۔ سب سے آخر میں تین تصویریں ہوں گی۔۔۔پہلی چھوڑ کر دوسری چھوڑ کر تیسرے تصویر کو غور سے دیکھیں۔۔۔
یہ میری ماں کی تصویر ہے۔۔۔
مجھے ان کے سر کی قسم ! میں نے چوری نہیں کی ہے۔۔۔
۔
۔:pagal::pagal::pagal::LOL:
:pagal::pagal::pagal::pagal:
بہت خوب افطاری کے بعد سارا تھریڈ ریڈ کروں گا انشاءاللہ
کہانی نے زور پکڑ کیا ہے
:ROFLMAO:
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,558
Likes
1,120
Points
287
Location
Manchester U.K
#33

جن دوستوں نے کہانی پسند کی ان کا بہت شکریہ:)،مجھے ڈاکٹر بھائی کی کہانی پوسٹ نمبر4 بہت پسند آئی(y) ویلڈن
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan


جس دیوار سے ان چاروں نے بیک وقت ٹکر ماری تھی اس کے اندر بڑا سا شگاف پڑچکاتھاجہاں سے بوایسی خارج ہونے لگی جیسے وہاں کھجل سائیں قید تھا،صبیح نےان سے کہا کہ کراہیں بند کرو،اور گہرے سانس لے کر بو کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرو۔۔۔تھوڑی دیر کے بعد نظر آناشروع ہوجائےگا،۔۔۔۔صبیح کی ہدایت پر عمل کرنے سے واقعی انہیں شگاف سے نکلنے والی بو نے ان کا دکھ درد دور کردیاکہ وہ پرسکون اٹھ کر کھڑے ہوگئے،
کچھ دیر کے بعد صبیح نے کہا، اب ہم شگاف کے اندر جائیں گے،او۔۔۔کیا وہاں دودھ کی نہر ہے :eek:؟ناعمہ سسٹر نے خوشی سے پوچھا۔۔۔
شاید:sneaky:،۔۔۔صبیح نے کہا تو سب چل دئیے۔۔۔
وہ ایک کشادہ کھو تھا جونیچے گہرائی کی جانب جاتاہوادیکھائی دے رہاتھاچنانچہ وہ آہستہ آہستہ اس کے اندر اترتے چلے گئے۔۔۔
لیکن کھو میں پہنچ کر سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے:eek:۔۔۔۔
جگہ جگہ قدیم زمانے کے صندوق کھلے ڈھکن کے رکھےتھے جن کے اندر چمکتے ہوئے ہیرے جواہرات، سونااورقیمتی پتھروں نےکھو کو طلسماتی دنیا بنارکھاتھا ،ان کی ملی جلی چمک سے کھو کے اندر لال، سنہری اور سبز رنگوں کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے جلدی سے آگے بڑھ کر ایک ہار لینا چاہاتو انہیں ایک پھنکار سنائی دی۔۔۔۔سُسووووووو۔۔۔۔اوئے یہ تو سانپ کی آواز ہے ،ایکسٹو نے:mad: چونک کر کہا۔
ڈاکٹر بھائی ، ناعمہ سسٹر، اور اے ایم نے ایکسٹو کے کہنے پر چونکتے ہوئے آواز کو غور سے سنا۔۔۔سسووووو۔۔۔
ہاں،صبیح نے ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئےکہا،ایکسٹو ٹھیک کہہ رہاہے، اورسنو !ہر خزانے کے اندر سانپ ہوتے ہیں،۔۔۔یہ بھی سانپ کی پھنکار ہے،احتیاط کرناo_O۔۔۔صبیح کی تنبیہی آواز کی گونج ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک قہقہہ سنائی دیا:D۔۔۔ھاھاھا۔۔ایک بہت بڑا ناگ جو انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھاکھو کے شمال میں رکھے صندوق کے پیچھے سے نکل کر سامنے آکر قہقہہ لگانے لگا۔۔۔۔ھاھاھاھا۔:pagal:میں ہوں شیش ناگ،۔۔۔۔۔خبر دار کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا،ورنہ میں زہر کا میزائل مار کر جلاڈالوں گا۔۔۔میں وہ ناگ ہوں جوزہر پھینکتاہے۔​

اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ سے پوچھا۔۔۔سر جی یہ خزانہ لالہ لئیق شاہ کاہے؟:oops:،۔۔۔۔۔
سانپ نے حیرانی :eek:سے پوچھا،اوئےجوان تمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟کیا تم بھی سانپ وانپ کا دماغ رکھتے ہو؟اے ایم نےسوال سن کر جلدی سے وضاحت دیتے ہیں کہا ،صبیح کہہ رہا تھا کہ لالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر ہوگی لیکن ہم نے یہاں خزانہ پایاہے،توہوسکتا ہے کہ یہ خزانہ بھی انہی کا ہو،اے سانپ:pagal:۔۔۔

ھاھاھا۔۔۔۔شیش ناگ نے ہنس کرکہا،تمہاری وضاحت سے آج شیش ناگ بہت خوش ہوا ہے جوان:D ۔۔۔۔سنو!آج سے تم میرے نمبر ٹو ہو:pagal:۔۔۔آؤ میرے گلے ملو۔۔۔اے ایم خوشی خوشی آگے بڑھ کر سانپ سے لپٹ جاتاہے اور سانپ بھی اے ایم کے جسم کے گرد لپٹ جاتاہے،یہ منظر دیکھ کر ایکسٹو کہتا ہے،مزا آگیاہماری ٹیم میں ایسا بندہ بھی ہے جو اپنی زبان کے جادو سے سانپ کو بھی رام کرسکتا :devilish:۔۔۔​

اے ایم کاپورا جسم سانپ نےاپنی گرفت میں لےلیا تھا،منظر ایسے تھا جیسے رسّے سے کسی کوپاؤں سے سر تک جھکڑ دیاگیاہو۔۔، اے ایم نے گھگھیاتے ہوئے سانپ کو خوش کرنے کی خاطر کہا۔۔۔ بڑی دیر کردی لپٹتے لپٹتے۔۔کلیجے وچ ٹھنڈ پے گئی اے:p۔۔۔۔
سانپ نے کہا ، فکر نہ کرجوان،اب تینوں میں چھڈوں گا بھی نئیں۔:pagal:۔۔ ۔

یہ معانقہ کافی طویل ہوگیاتو اے ایم نے دوبارہ گھگھیاتے ہوئے کہا،اے سانپ ،اب مجھے چھوڑ دو۔۔۔سانپ نے کہا، میں تمیں ایک شرط پر چھوڑوں گا،کون سی شرط؟اے ایم نے پوچھا،تمیں ہماری ایک دوست شیش ناگ دیوتا کی خوبصورت بیٹی ناگن سے شادی کرناہوگی۔۔۔
یہ سن کر اے ایم اچھل پڑا:eek::eek::eek:۔۔۔اسے بڑی زور کا کرنٹ لگا،لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے چالاکی سے کہا اے سانپ میں تو شادی شدہ ہوں۔۔۔(اس کیفیت میں بھی اے ایم نے شادی یاد رکھی ہوئی تھی;))۔۔۔اسی دوران بہت سارے سانپ نکل کر آگئے جن میں ایک خوبصورت سی ناگن بھی تھی،اس نے اے ایم کو دیکھا تو آنکھیں چھپکانا ہی بھول گئی۔۔;)۔۔۔
اے ایم نے چیخ کر کہا،نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔ناگن سے میری شادی نہیں ہوسکتی:giggle::p:D۔۔۔۔

سانپوں نے اے ایم کے گرد گھیراڈال دیاتاکہ وہ بھاگ نہ جائے البتہ شیش ناگ سانپ نے اسے بری طرح جھکڑاہواتھا۔۔۔اے ایم نے دل کی گہرائیوں سے آواز ماری۔۔۔باباکھجل سائیں ۔۔۔جان ن ن ن ۔۔:pagal:۔۔،​
بابا کھجل سائیں جان ن ن ن
ہم آگئے بالک۔۔۔۔۔۔شگاف کے منہ سےایک انتہائی غصیلی آواز سنائی دی۔۔۔یہ آواز کھجل سائیں کی تھی۔۔۔ہم ان مورکھ سانپوں کو جلا کر بھسم کرڈالیں گے،کھجل سائیں نے غصے سےدہاڑتے ہوئے کہا،۔۔۔۔ناعمہ سسٹر ،ڈاکٹر بھائی ، ایکسٹو، اے ایم اور صبیح ،کھجل سائیں کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے۔:D۔۔۔

کھجل سائیں نےجلدی سے اپنے تھیلے سے بانسری نکال کر بجائی تو سانپوں پہ بانسری کا اثر پڑنے لگا، ۔۔کچھ ہی دیر میں ماحول پر بانسری کی آواز کا سحر چھانے لگا ۔۔۔ناعمہ سسٹر نے بڑی مشکل سے خود کوجھومنے سے روکا;)۔۔۔آواز ایسی تھی کہ خود بخود جسم جھومنے پر مجبور ہورہاتھا۔۔۔۔انسان تو جبر کرگئے لیکن سانپ بے قابو ہوکرناچ اٹھے۔۔۔۔ان کاڈانس دیکھ کرسب خوش ہوئے لیکن پھراے ایم بے قابو ہوگیا۔:pagal:۔۔کھجل بانسری ماسٹر کے پھیپھڑوں سے چرسیلی پھونکوں کا اثر اے ایم پرایساپڑا کہ ۔۔۔ اس نے بھی ناچنا شروع کردیا۔۔۔۔اے ایم کالچکیلا پھرتیلاچھیل چھبیلا ڈانس جس میں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کرکےسانپ کا منہ بناتھا اس پوز نےسانپوں کو باؤلہ کردیا۔:pagal:اے ایم کی جانب سےیہ ایک واضح پیغام اور طنز تھاکہ کھجل سائیں کے بالک کا بال بھی بیکا نہ کرسکو گے۔:p۔اسی پوز میں اے ایم نے اپنے جسم کو ایسےگھمایا جیسے بچے کمر میں بڑی رنگ ڈال کر کمر کو ہلاتے ہیں۔:Dاے ایم کے ان مست ہچکولوں بھرے ناچ نے سانپوں کے ناچ کو شکست فاش دے دی۔۔۔انہیں اپنےناچ پر سخت شرمندگی ہوئی اوروہ آہستہ آہستہ الٹے رینگ کراے ایم کو سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہوئے بھاگنے لگے۔۔۔حتیٰ کہ کھو میں ایک سانپ بھی نہ رہا۔۔۔

کھجل سائیں نے بانسری بجانا روک کر اے ایم کو پکارا،بالکے!!! دل خوش کردتا۔۔۔واہ۔۔۔ آ۔۔۔آ۔۔گلےلگ جا۔۔:pagal::pagal::pagal:ان خوفناک سانپوں کے چنگل سے کھجل سائیں نے اسے آزادی دلائی تھی، چنانچہ آج اے ایم کھجل سائیں کا انتہائی ممنون تھا۔۔۔اس نےکھجل سائیں کی جانب سو کلو میٹر کی رفتار سے دوڑ لگائی۔۔۔۔۔
:pagal:



 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#35
صبیح بھائی جو اب ٹکر پہلوان کہلواتے تھے۔ اپنے ساتھ ہونے والی اس انہونی پر کافی حیران و پریشان تھے۔ الکمونیا کے ہسپتال میں اپنی جگ ہنسائی کروانے کے بعد ان کا دل اور بھی برا ہوچکا تھا۔لیکن بدلے کی آگ نے ان کا چین و سکون چھین لیا تھا(چین سے مراد چابی چین لیا جائے) ، بیڈ رسیٹ پر ہونے کے باوجود ان کا بدن آرام و سکون سے کوسوں دور تھا۔

ٹکر پہلوان نے بھی اپنے ناک کے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے تھے اور نہ ہی وہ سلسلہ کجھلیہ بدبودیئہ کے خلیفہ اول بغیر کسی ہنر کے بن گئے تھے، انہوں نے اس وقت اپنی زندگی کی سب سے بڑی بازی کھیلنے کا تہیہ کر لیا۔ اور اس خطرناک چلہ کاٹنے کا سوچا جس کو کجھل سائیں خود بھی کاٹتے ہوئے کانپتےہیں۔لیکن اس کے لئے انہیں چند خاص چیزوں کی ضرورت تھی۔ اور ہسپتال میں ان کو حاصل کرنا مشکل تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنے جگاڑپنے کا شاندار استعمال کیا۔ اور ہسپتال میں موجود اشیاء سے کام چلانے کا سوچا۔

سب سے پہلے انہوں نے ساتھ والے مریض کی عیادت پر آنے والوں سے ایک عدد لائٹر اڑن چھو کیا اور جیسا کہ لوٹے تو ویسے بھی آنی جانی چیز ہیں انہوں نے واش روم سے لوٹا بھی اپنے نام کیا اور ساتھ میں یہ کہا کہ یہ لوٹا خود میری پارٹی میں آگیا ہے۔ اب جو سب سے ضروری چیز اس عمل میں رہ گئی تھی وہ تھی چرس کی۔ کیونکہ اس عمل میں چرس کی دھونی دینا پڑتی تھی۔ لیکن قربان جائیں ٹکر پہلوان کے دماغ کے کہ انہوں نے اس کا حل بھی نکال لیا اور آپریشن تھیٹر سے انیستھیزیا (نشہ کرنی والی دوائی) کی ایک بوتل چرا لی۔ تمام اشیاء پوری ہوچکی تھی۔ اب بس عمل کرنا رہ گیا تھا۔

ٹکر پہلوان جو چلہ کرنے جا رہے تھے وہ کافی عجیب عمل تھا۔سب سے پہلے انہوں نے اپنے پلنگ سے چادر اُتاری اور اسکو لوٹے میں رکھا اور اس پر انستھیزیا دوائی چھڑک دی۔اس کے بعد چرائے لائٹر سے اسکو آگ لگائی تاکہ اس کی دھو نی دی جاسکے۔ اور پھر وہ خود مرغا بن کر اس لوٹے کو لے کر ککڑوں ککڑوں کرتے ہوئے اپنے وارڈ میں چھلانگیں لگانے لگے۔ باقی تمام لوگوں کو جب تک سمجھ لگنی تھی وہ بے ہوش ہوچکے تھے لیکن صبیح بھائی کجھل سائیں کے چیلہ خاص تھے۔ ان چھوٹی موٹی نشہ آور اودیہ کا ان پر اثر ہونا نا ممکن تھا۔

یہ عمل کچھ تین چار گھنٹے تک جاری رہے لیکن کچھ بھی نہیں ہو رہا تھا سوائے ٹکر پہلوان کے چھلانگیں لگانے کے۔ شاید چرس کی غیر موجودگی کی وجہ سے چلہ کامیاب نہیں ہو رہا تھا۔ ٹکر پہلوان بھی اب تھک چکا تھا۔ لیکن بدلہ کی آگ نے ان کو رکنے سے منع کر رہی تھی۔ اور جب حوصلہ بلکل ہی جواب دینے لگا تب ایک خوفناک چیخ سنائی دی، جس سے صبیح بھائی جیسے منجھے ہوئے مرید خاص کا بھی دل دہل گیا۔

یہ چیخ اور کسی کی نہیں بلکہ کجھل سائیں کے سب سے بڑے دشمن جن کی تھی۔ جو اس چلہ کے نتیجے میں حاضر ہوا تھا۔ جس کا نام تھا

ججمجمجمجالی خان

@Doctor @Sabih Tariq @X 2 @UrduLover @AM @LAIQUE SHAH @Abu Dujana @Afzal339 @Bail Gari @UMAR ISLAM
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @UMAR ISLAM
ججمجمجمجالی خان!جب حاضرہوا تو صبیح نے اس کےکندھوں پردونوں ہاتھوں سے زور سےدھکا دیاتو وہ پیچھے کی دیوار سےجا ٹکرایا،بقول کھجل سائیں اس عمل سے بڑے سے بڑا شیطانی جن کمزور پڑکر قابو میں آجاتاہے۔۔۔۔
اگرچہ اس عمل کا فائدہ تبھی ملتاہے جب مخالف کے پاس بھی طاقت ور شکتیاں ہوں:devilish:۔
ججمجمجمجالی خان کی شکتیاں بھی ہواہوگئیں اس نے بوکھلائے ہوئے کہا ،میرےآقا ،کیسے یاد کیا:pagal:؟
اوئے لخ لعنت شیطان تے، جا ہسپتال میں اپنے قدو قامت کے بندے میں گھس کر آ۔۔۔تیری شکل بڑی خوفناک ہے،صبیح اس ہیبت ناک طاقت ورجن کو دبانے میں کامیاب ہوگیاتھا;)۔۔

ججمجمجمجالی خان نے سر تسلیم خم کرتے ہوئےکسی بندے کی تلاش میں نکلا تواسے ہسپتال کے عملے میں موجود ایک جوان "سائلنٹ جان" پسند آگیا:pagal:،اس نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور گہرائی تک سائلنٹ جان کے اندر اترتاچلا گیا۔۔۔

سائلنٹ جان کے دل دماغ پر ججمجمجمجالی خان نے مکمل قبضہ کرلیا تو وہ سوچنے لگا کہ صبیح اسے کیا حکم دیں گے کہ اسے اونچی آواز سنائی دی جو ہسپتال کے عملے کو بلارہی تھی۔
ججمجمجمجالی خان نے سوچا کہ سائلنٹ جان کی نوکری تیل کرنے سے بہتر ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرے ۔۔:Dچنانچہ وہ ایمرجنسی کی نوعیت جاننے ایکسڈنٹ اور ایمرجنسی کی جانب تیزی سے ڈاکٹروں کیساتھ بڑھنے لگا۔

ایمرجنسی میں ،کھجل سائیں ہسپتال کے عملے کی مدد سے، اے ایم ،ڈاکٹر بھائی، ایکسٹو اور ناعمہ سسٹر کو سٹریچر پر ڈالے آرہاتھاجنہوں نے علی بابا دیوار سے ٹکر ماری تھی:pagal:، کھجل سائیں نے کہا کہ ان چاروں کو حادثے میں چوٹیں آئیں ہیں، ان کا فوری علاج کرو۔۔۔۔۔
ججمجمجمجالی خان اپنے علم سے سمجھ گیا کہ اصل کہانی کیا ہے، لیکن وہ کھجل سائیں کا دشمن تھا اس لیے ان چاروں کو سزا دے کر وہ کھجل سائیں کو تکلیف دینے کے اس نادر موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتاتھا۔:eek:۔
نرسوں نے سٹریچر دھکیل کر انہیں کمروں میں شفٹ کردیا تو سائلنٹ جان عرف ججمجمجمجالی خان تیزی سے اپنے شیطانی منصوبے پر عمل کرنے کا سوچنے لگا۔۔۔
وہ سب سے پہلے ایکسٹو کی جانب بڑھا تاکہ اسےجادو کے ذریعےسے طوطا بناکر فٹ پاتھ پر بیٹھے فال والے کو دے کر سائلنٹ جان سے اس کی دوستی کروادے:pagal:، ججمجمجمجالی خان، سائلنٹ جان کے اندر رہ کر اس کا دماغ پڑھ چکاتھا کہ وہ طوطا فال والے سے دوستی کا خواہاں ہے جو اصل میں چرس کا بہت بڑا بیوپاری ہے اور ہال ہی میں اس نے گل خان کے زریعے سےچرس کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل کیا۔
سائلنٹ جان راتوں رات امیر بننے کے چکر میں طوطا فال والے سے دوستی لگا کر چرس بزنس میں اس کا پارٹنر بننا چاہتاتھا۔:cool:۔۔۔
ججمجمجمجالی خان نے چند لمحوں میں تحقیق کرلی، طوطا فال والا اختر سائیں ملنگ چکی تائی تھا جو بھیس بدل کر فال نکالنے کی آڑمیں چرس فروخت کرتااور پولیس کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھا، حال ہی میں گل خان نے چرس کی بڑی مقدار کھجل سائیں کے گودام سے چوری کی تھی۔۔۔۔اے ایم ،ایکسٹو، ڈاکٹر بھائی ،گل خان اور :pagal:چکی تائی ،یہ سارے کھجل سائیں کی حالیہ واردات میں،گردن ،سینے اور گوڈوں تک ملوث تھے۔
لیکن دوسری طرف اپنی چرب زبانی اور سازش میں صبیح کو گھسیٹ کر سارا الزام اس پر تھوپنے کے چکروں میں اوٹ پٹانگ حرکات کرتے ہوئے لالہ لئیق شاہ کے خزانے تک بھی پہنچ چکے تھے تاکہ ان کے ہاتھ صاف رہیں اور وہ موقع واردات سے خود کو دور ثابت کرسکیں۔:pagal::pagal::pagal:۔۔

صبیح بے گناہ تھا اور ججمجمجمجالی خان نے فیصلہ کرلیاتھاکہ وہ اس ساری گھناؤنی سازش کو بے نقاب کرے گا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ سائلنٹ جان کے جسم سے نکل گیا تو سائلنٹ جان ،نڈھال ہوکر گرپڑا، اس کا رنگ زرد پڑاچکا تھا ۔۔۔۔

کھجل سائیں نے دیکھا کہ ایک صحت مند جوان جو ابھی اس کے لائے ہوئے مریضوں کے علاج میں جوش وخروش :Dاور تندہی سے مستعد کھڑا تھا کہ اچانک کیا ہوا کہ گنڈیری کی طرح چوسا اور چبایا ہوا ہوگیاہے۔

اوئے بالک! کھجل سائیں نے سائلنٹ جان سے پوچھا، کہیں تجھے دست تونہیں لگ گئے جو تو چھڑا ہوکر خشک پھپھندرا بن گیاہے،اوئے توتو ایسا ہوگیا جیسے تلی پرملا ہوا تمباکو۔:pagal:۔۔جسے پھونک ماریں تو بھس کی طرح اڑجائے۔
:pagal::pagal:
سائلنٹ جان جو گھم صم پتھر سا بناہواتھابابا کھجل سائیں کے شفیق چہرے اورجسم سے اٹھتی ہوئی چرسیلی مہک سےمتاثر ہوکر کھجل سائیں کا گرویدہ ہوگیا۔۔۔اس کا ایسا حال ہوا کہ آنسو ٹپک کر ڈھلکتاہوا آنکھ کے گوشے :Dسے باہرنکل آیاجیسا مرغی نے انڈادیاہو۔۔۔۔

کھجل سائیں ہسپتال میں اپنےچیلوں! جو اب مریض تھے کو داخل کرواکر مطمئن ہوگیاتھا،وہ سائلنٹ جان کے لیے اپنے دل میں اچانک ویسے ہی ہمدردی محسوس کرنے لگا جیسا کہ اے ایم کے لیے تھی۔۔۔۔

کھجل سائیں اپنے دیگر چیلوں کی مدد سے سائلنٹ جان کو اپنی جھونپڑی میں لے آیا۔۔۔۔کھجل سائیں نے فوری طور پر خشک مگرمچھ کی ٹانگوں کا سوپ بنواکر سائلنٹ جان کو پلایاتو اس کا ایسااثر ہواکہ اس کے آنسو بہنا ;)بند ہوگئے۔

پھر کھجل سائیں نے کش لگاتے ہوئے اپنےدو طاقت ور چیلوں کواشارا کیا جنہوں نے سائلنٹ جان کو پکڑ کر اس کا منہ کھلوایااور اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے ،۔۔۔ کھجل سائیں نے اپنا جھوٹاچرسیلہ ،کھجلیہ،بدبووِیہ کش کادھواں سائلنٹ جان کے کھلے منہ کے اندر پھونک دیا۔۔۔۔۔:pagal:۔۔۔
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,631
Likes
1,967
Points
492
Location
Rawalpindi
#37
صبیح نے اس کےکندھوں پردونوں ہاتھوں سے زور سےدھکا دیاتو وہ پیچھے کی دیوار سےجا ٹکرایا،
یہ تو وہی بات ہوئی جیسا ریسلنگ میں ہوتا ہے کہ اگلا پہلوان ابھی ریڈی بھی نہیں ہوپاتا کہ پہلے سے رنگ میں موجود جانکیارڈ ڈاگ اسے مار مار کر ادھ موا کردیتا ہے اور مقابلہ جیت جاتا ہے
:pagal::pagal::pagal::pagal:
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
:cool::cool::cool:
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#39


ججمجمجمجالی خان!جب حاضرہوا تو صبیح نے اس کےکندھوں پردونوں ہاتھوں سے زور سےدھکا دیاتو وہ پیچھے کی دیوار سےجا ٹکرایا،بقول کھجل سائیں اس عمل سے بڑے سے بڑا شیطانی جن کمزور پڑکر قابو میں آجاتاہے۔۔۔۔
اگرچہ اس عمل کا فائدہ تبھی ملتاہے جب مخالف کے پاس بھی طاقت ور شکتیاں ہوں:devilish:۔
ججمجمجمجالی خان کی شکتیاں بھی ہواہوگئیں اس نے بوکھلائے ہوئے کہا ،میرےآقا ،کیسے یاد کیا:pagal:؟
اوئے لخ لعنت شیطان تے، جا ہسپتال میں اپنے قدو قامت کے بندے میں گھس کر آ۔۔۔تیری شکل بڑی خوفناک ہے،صبیح اس ہیبت ناک طاقت ورجن کو دبانے میں کامیاب ہوگیاتھا;)۔۔

ججمجمجمجالی خان نے سر تسلیم خم کرتے ہوئےکسی بندے کی تلاش میں نکلا تواسے ہسپتال کے عملے میں موجود ایک جوان "سائلنٹ جان" پسند آگیا:pagal:،اس نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور گہرائی تک سائلنٹ جان کے اندر اترتاچلا گیا۔۔۔

سائلنٹ جان کے دل دماغ پر ججمجمجمجالی خان نے مکمل قبضہ کرلیا تو وہ سوچنے لگا کہ صبیح اسے کیا حکم دیں گے کہ اسے اونچی آواز سنائی دی جو ہسپتال کے عملے کو بلارہی تھی۔
ججمجمجمجالی خان نے سوچا کہ سائلنٹ جان کی نوکری تیل کرنے سے بہتر ہے کہ ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرے ۔۔:Dچنانچہ وہ ایمرجنسی کی نوعیت جاننے ایکسڈنٹ اور ایمرجنسی کی جانب تیزی سے ڈاکٹروں کیساتھ بڑھنے لگا۔

ایمرجنسی میں ،کھجل سائیں ہسپتال کے عملے کی مدد سے، اے ایم ،ڈاکٹر بھائی، ایکسٹو اور ناعمہ سسٹر کو سٹریچر پر ڈالے آرہاتھاجنہوں نے علی بابا دیوار سے ٹکر ماری تھی:pagal:، کھجل سائیں نے کہا کہ ان چاروں کو حادثے میں چوٹیں آئیں ہیں، ان کا فوری علاج کرو۔۔۔۔۔
ججمجمجمجالی خان اپنے علم سے سمجھ گیا کہ اصل کہانی کیا ہے، لیکن وہ کھجل سائیں کا دشمن تھا اس لیے ان چاروں کو سزا دے کر وہ کھجل سائیں کو تکلیف دینے کے اس نادر موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتاتھا۔:eek:۔
نرسوں نے سٹریچر دھکیل کر انہیں کمروں میں شفٹ کردیا تو سائلنٹ جان عرف ججمجمجمجالی خان تیزی سے اپنے شیطانی منصوبے پر عمل کرنے کا سوچنے لگا۔۔۔
وہ سب سے پہلے ایکسٹو کی جانب بڑھا تاکہ اسےجادو کے ذریعےسے طوطا بناکر فٹ پاتھ پر بیٹھے فال والے کو دے کر سائلنٹ جان سے اس کی دوستی کروادے:pagal:، ججمجمجمجالی خان، سائلنٹ جان کے اندر رہ کر اس کا دماغ پڑھ چکاتھا کہ وہ طوطا فال والے سے دوستی کا خواہاں ہے جو اصل میں چرس کا بہت بڑا بیوپاری ہے اور ہال ہی میں اس نے گل خان کے زریعے سےچرس کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل کیا۔
سائلنٹ جان راتوں رات امیر بننے کے چکر میں طوطا فال والے سے دوستی لگا کر چرس بزنس میں اس کا پارٹنر بننا چاہتاتھا۔:cool:۔۔۔
ججمجمجمجالی خان نے چند لمحوں میں تحقیق کرلی، طوطا فال والا اختر سائیں ملنگ چکی تائی تھا جو بھیس بدل کر فال نکالنے کی آڑمیں چرس فروخت کرتااور پولیس کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھا، حال ہی میں گل خان نے چرس کی بڑی مقدار کھجل سائیں کے گودام سے چوری کی تھی۔۔۔۔اے ایم ،ایکسٹو، ڈاکٹر بھائی ،گل خان اور :pagal:چکی تائی ،یہ سارے کھجل سائیں کی حالیہ واردات میں،گردن ،سینے اور گوڈوں تک ملوث تھے۔
لیکن دوسری طرف اپنی چرب زبانی اور سازش میں صبیح کو گھسیٹ کر سارا الزام اس پر تھوپنے کے چکروں میں اوٹ پٹانگ حرکات کرتے ہوئے لالہ لئیق شاہ کے خزانے تک بھی پہنچ چکے تھے تاکہ ان کے ہاتھ صاف رہیں اور وہ موقع واردات سے خود کو دور ثابت کرسکیں۔:pagal::pagal::pagal:۔۔

صبیح بے گناہ تھا اور ججمجمجمجالی خان نے فیصلہ کرلیاتھاکہ وہ اس ساری گھناؤنی سازش کو بے نقاب کرے گا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی وہ سائلنٹ جان کے جسم سے نکل گیا تو سائلنٹ جان ،نڈھال ہوکر گرپڑا، اس کا رنگ زرد پڑاچکا تھا ۔۔۔۔

کھجل سائیں نے دیکھا کہ ایک صحت مند جوان جو ابھی اس کے لائے ہوئے مریضوں کے علاج میں جوش وخروش :Dاور تندہی سے مستعد کھڑا تھا کہ اچانک کیا ہوا کہ گنڈیری کی طرح چوسا اور چبایا ہوا ہوگیاہے۔

اوئے بالک! کھجل سائیں نے سائلنٹ جان سے پوچھا، کہیں تجھے دست تونہیں لگ گئے جو تو چھڑا ہوکر خشک پھپھندرا بن گیاہے،اوئے توتو ایسا ہوگیا جیسے تلی پرملا ہوا تمباکو۔:pagal:۔۔جسے پھونک ماریں تو بھس کی طرح اڑجائے۔
:pagal::pagal:
سائلنٹ جان جو گھم صم پتھر سا بناہواتھابابا کھجل سائیں کے شفیق چہرے اورجسم سے اٹھتی ہوئی چرسیلی مہک سےمتاثر ہوکر کھجل سائیں کا گرویدہ ہوگیا۔۔۔اس کا ایسا حال ہوا کہ آنسو ٹپک کر ڈھلکتاہوا آنکھ کے گوشے :Dسے باہرنکل آیاجیسا مرغی نے انڈادیاہو۔۔۔۔

کھجل سائیں ہسپتال میں اپنےچیلوں! جو اب مریض تھے کو داخل کرواکر مطمئن ہوگیاتھا،وہ سائلنٹ جان کے لیے اپنے دل میں اچانک ویسے ہی ہمدردی محسوس کرنے لگا جیسا کہ اے ایم کے لیے تھی۔۔۔۔

کھجل سائیں اپنے دیگر چیلوں کی مدد سے سائلنٹ جان کو اپنی جھونپڑی میں لے آیا۔۔۔۔کھجل سائیں نے فوری طور پر خشک مگرمچھ کی ٹانگوں کا سوپ بنواکر سائلنٹ جان کو پلایاتو اس کا ایسااثر ہواکہ اس کے آنسو بہنا ;)بند ہوگئے۔

پھر کھجل سائیں نے کش لگاتے ہوئے اپنےدو طاقت ور چیلوں کواشارا کیا جنہوں نے سائلنٹ جان کو پکڑ کر اس کا منہ کھلوایااور اس کے دائیں بائیں بیٹھ گئے ،۔۔۔ کھجل سائیں نے اپنا جھوٹاچرسیلہ ،کھجلیہ،بدبووِیہ کش کادھواں سائلنٹ جان کے کھلے منہ کے اندر پھونک دیا۔۔۔۔۔:pagal:۔۔۔
@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM @silentjan

ہا ہا ہا۔۔ پہلے اے ایم کو کھجل سائیں کا گرویدہ بنایا اور اب سائلنٹ جان کو، لگتا ہے ایک ایک کرکے سبھی کھجل کے مرید ہونے والے ہیں :D ۔
 
Top