سمارٹ فون خریدنے سے پہلے اس کو ضرور پڑھیں قسط چہارم

Afzal339

 
Advisor
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
448
Likes
628
Points
257
#1
تمام آئی ٹی ممبران کو محمد افضل کا سلام
دوستو سمارٹ فون کے حوالے سے اس آخری قسط میں میں فونزکی قیمتوں کے متعلق آسان فارمولا بتاؤں گا جسے اگر آپ یاد رکھیں تو امید ہے کبھی آپ کو سمارٹ فون خریدتے وقت مار نہیں پڑے گی
نمبر ایک
وہ فونز جو زیرو یوز یعنی نیو ہیں ان کی قیمتیں تو آن لائن نیٹ پر موجود ہوتی ہیں اس لیے ایسے فونز لینے سے پہلے ان کی قیمتیں آن لائن ضرور چیک کیا کریں
نمبر دو
وہ فونز جو سیکنڈ ہینڈ ہیں لیکن "ان وارنٹی" ہے تو اگر یہ وارنٹی چھ ماہ سے زائد ہیں تو ایسے فونز ڈائریکٹ کسی بھی کسٹمر سے نیو کی قیمت کے حساب سے پینتیس فیصد کٹوتی کے بعد خریدے جائیں اور اگر کسی شاپ والے سے لینا پڑجائے تو پھر نیو کی قیمت کے حساب سے پچیس فیصد کٹوتی کے بعد خریدے جائیں
نمبر تین
وہ فونز جو سیکنڈ ہینڈ ہیں اور ان وارنٹی بھی ہیں لیکن چھ ماہ سے کم وارنٹی ہے تو اگر کنڈیشن صاف ستھری ہے اور رننگ بھی اچھی ہے تو ایسے فونز بھی نمبر دو کے اصول کے حساب سے خریدے جائیں لیکن اگر کنڈیشن اچھی نہیں تو ایسے فونز ڈائریکٹ کسی بھی کسٹمر سے نیو کی قیمت کے حساب سے پینتالیس فیصد کٹوتی کے بعد خریدے جائیں اور شاپ والے سے پینتیس فیصد کے بعد
نمبر چار
وہ فونز جو سیکنڈ ہونے کے ساتھ وارنٹی میں نہیں ہیں لیکن کنڈیشن اچھی ہے توایسے فونز ڈائریکٹ کسی بھی کسٹمر سے نیو کی قیمت کے حساب سے پچاس سے ساٹھ فیصد کٹوتی کے بعد خریدے جائیں اور شاپ والے سے چالیس سے پچاس فیصد کے بعد
نمبر پانچ
وہ فونز جو سیکنڈ ہونے کے ساتھ نہ تو وارنٹی میں ہیں اور نہ ہی کنڈیشن اچھی ہے توایسے فونز ڈائریکٹ کسی بھی کسٹمر سے نیو کی قیمت کے حساب سے ساٹھ فیصد کٹوتی کے بعد خریدے جائیں اور شاپ والے سے پچاس فیصد کے بعد
تمام فونز کی خرید و فروخت اس فارمولے کے تحت ہوتی ہے اس لیے اس فارمولے کو خوب سمجھیں نیز یہ فارمولا مارکیٹ کا ہے یعنی اگر ایک عام یوزر اس فارمولے تحت سیل فون کے خرید و فروخت پر نہ آئے تو اس کا کچھ نہیں کہ سکتا ہوں
نیز کسٹمر سے ڈائریکٹ لینے کی صورت فونز کے ارزان ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ کسٹمر شاپ والے کو فون بیچنا چاہے تو اس کی قیمت اسی حساب سے لگتی ہے جو اوپر کی سطور میں نقل کی گئی اور پھر شاپ والے اپنا دس فیصدمنافع رکھ کر فروخت کرتے ہیں
اس لیے شاپ والے اور کسٹمر سے ڈائریکٹ لینے میں دس فیصد کا فرق ہوتا ہے
آخری بات وہ یہ ہے کہ اس فارمولے کا استعمال اکثر ہوتا ہے کبھی کبھی مارکیٹ والے بھی کسی سیٹ کے ناپیدگی کا ناجائز فائدہ اٹھاکر اصول کے خلاف مہنگے داموں بیچتاہے ۔اس لیے یہ فارمولا اس وقت بھی دم توڑ دیتاہے جب سیٹ مارکیٹ میں عام نہ ملتا ہو کیوں کہ مشہور ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس

 

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#3
زبردست فارمولا۔
اچھا اس صورتحال کا فارمولا کیا ہوگا؟
ایک ڈبہ پیک سیٹ ہےمگر وارنٹی ایکسپائر ہے۔تو اب ڈائریکٹ یوزر سے اور مارکیٹ سے کتنے فیصد کٹوتی کے ساتھ لیا جائے۔؟
 

Afzal339

 
Advisor
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
448
Likes
628
Points
257
#4
زبردست فارمولا۔
اچھا اس صورتحال کا فارمولا کیا ہوگا؟
ایک ڈبہ پیک سیٹ ہےمگر وارنٹی ایکسپائر ہے۔تو اب ڈائریکٹ یوزر سے اور مارکیٹ سے کتنے فیصد کٹوتی کے ساتھ لیا جائے۔؟
فارمولہ اور اصول وہی ہے یعنی اصول 4
لیکن اخلاقا
اصول 2 پر عمل کیا جائے
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#5
باہر ممالک میں سکینڈ ہینڈز سٹس کی اپنی اپنی قیمتیں ہیں،کسی شاپ پر وہی سیٹ ساتھ والی دکان سے سستا یا مہنگا لگا ہوتاہے۔
براہ راست خریدوفروخت کے لیے قسمت اور سیلیر پر منحصر ہے کہ وہ اپنا سیٹ بتائی گئی قیمت سے کتنے ریٹ کم پر فروخت کرتاہے۔بعض لوگ بڑے پتھر دل واقع ہوتے ہیں وہ بتائی گئی قیمت پر ایک پیسہ بھی کم قیمت پر فروخت نہیں کرتے چاہے ہفتوں گزرجائیں۔

جب ایمرجنسی ضرورت درپیش ہو تو پھر الگ معاملہ ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے مجبور لوگ ہوتے ہیں جو اپنی کسی ضرورت کے عوض نہایت کم قیمت پر بھی کوئی بھی چیز فروخت کردیتے ہیں۔
 

Afzal339

 
Advisor
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
448
Likes
628
Points
257
#6
باہر ممالک میں سکینڈ ہینڈز سٹس کی اپنی اپنی قیمتیں ہیں،کسی شاپ پر وہی سیٹ ساتھ والی دکان سے سستا یا مہنگا لگا ہوتاہے۔
براہ راست خریدوفروخت کے لیے قسمت اور سیلیر پر منحصر ہے کہ وہ اپنا سیٹ بتائی گئی قیمت سے کتنے ریٹ کم پر فروخت کرتاہے۔بعض لوگ بڑے پتھر دل واقع ہوتے ہیں وہ بتائی گئی قیمت پر ایک پیسہ بھی کم قیمت پر فروخت نہیں کرتے چاہے ہفتوں گزرجائیں۔

جب ایمرجنسی ضرورت درپیش ہو تو پھر الگ معاملہ ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ایسے مجبور لوگ ہوتے ہیں جو اپنی کسی ضرورت کے عوض نہایت کم قیمت پر بھی کوئی بھی چیز فروخت کردیتے ہیں۔
یہاں پر بعض اوقات ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آپ کہہ رہے ہیں لیکن اکثر ذکر کردہ فارمولہ کے تحت ہوتا ہے
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#7
یہاں پر بعض اوقات ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آپ کہہ رہے ہیں لیکن اکثر ذکر کردہ فارمولہ کے تحت ہوتا ہے
یہاں پر ایک چیز اور بھی نہیں ہوتی لیکن پاکستان میں بہت اچھی طرح سے اس کا رواج ہے،جوکہ بہت مفید ہے، مثلاً صارف کوئی سکینڈ ہینڈ فون خریدنے کا ارادہ کرتاہے تو وہ کوئی سا بھی ماڈل باری باری شاپ میں اچھی طرح دیکھتا ہے، اگر کوئی نقص بعد میں بھی نکل آئے تو واپسی ممکن ہوتی ہوگی۔
یہاں پر کھڑے کھڑے سیٹ دیکھ کر فوراً فیصلہ کرناپڑتاہے بعد میں کسی قسم کے نقص پر واپسی تو ممکن ہی نہیں البتہ بڑی مشکلوں کے بعد سیٹ تبدیل کرتے ہیں، اس میں بھی ان کا اپنا ہی فائدہ شامل ہوتاہے ، وہ کہتے ہیں کہ فون کی مالیت جتنی قیمت کا سیٹ نہیں ہے تو اس سے مہنگے والا ماڈل لو، ۔

اس بری مارکیٹ کی وجہ سے لوگ نیا فون لینا پسند کرتے ہیں،لیکن پرانے فون لینے والوں کی کمی بھی نہیں ہے ،بازار اور دکانیں بھری پڑیں ہیں۔

پہلے نان ریموایبل بیٹری کے ماڈلز کا معلوم پڑجاتا تھاکہ فون اروجنل حالت میں ہے کھلا ہوانہیں، اب جو ماڈلز ہیں ان کا معلوم نہیں پڑتا۔

میرے پاس ایچ ٹی سی ایم 8 تھا جس کا کیمرا خراب ہوا،چپ خراب ہوئی ، بیٹری خراب ہوئی اور پھر ایک اور چپ خراب ہوگئی۔

کوئی چار سے پانچ مرتبہ فون کھلا لیکن گمان نہیں ہوتاتھاکہ فون کھلا بھی ۔
 
Top