ڈاکٹر بھائی نے شیر مارا آخری قسط

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#1
داستان نہیں ہوگی داستانوں میں۔۔۔۔
ان جملوں نے ایکسٹو کیساتھ سب کی نیندبھک سے اڑادی۔۔ خوف۔۔ڈر نے بھرپور حملہ کردیا ۔۔
ڈاکٹر بھائی نے انکشاف کیاکہ تین چار۔۔نہیں۔اوئے اوئے ۔۔یہ تو درجن بھر کے قریب چیتے ہیں جنہوں نے بچے ہوئے شکار پر ہلہ بول دیا ہے،اگر ڈاکٹر ماہر شکاری ہوتےتووہ بخوبی سمجھتے کہ شیر خود شکار کرتے ہیں کسی کے جھوٹے شکار کو نہیں کھایاکرتے۔۔۔لیکن ڈاکٹر بھائی کو ماہر شکاری مشہور کرنے میں بھی ایکسٹو کی افواہوں کا کمال تھا۔۔۔۔

کیمپ کابیرونی حصہ لرزا، غالباً بہت سارے "چیتے "گوشت کی بو پاکر خیمے کے کپڑے سے ٹکرائےتھے۔۔۔یہ سب کچھ ڈاکٹر بھائی کی ٹیم کے لیے خوفناک تجربہ تھا۔۔گاؤں کی آبادی سےدورجنگل کے اندر۔۔۔رات کی تنہائی اور نیند میں جب وہ سب سوئے تھے ان پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ،درجن بھر چیتوں کا یوں براہ راست حملہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔۔۔چنانچہ مبین علی نے چیتوں سے محفوظ حصے والی سمت سے خیمہ چاقو کی مدد سے پھاڑا،حماداور دیگر ساتھی،وہاں سے نکل بھاگے۔۔انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ باہر بھی خطرات ہیں ۔۔۔ڈاکٹربھائی اورلئیق شاہ لالہ کو کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ وہ تنہاچیتوں کے نرغے میں رہ گئے (ایکسٹو اس وقت صبیح کا لباس پہننے گیا تھا لیکن اسے لومڑیوں نے اغواکرلیا۔۔۔۔۔۔۔
ایکسٹو کا اغوا
اچانک موم بتی بجھ گئی اوران پر مزید خوف چھاگیا۔۔۔ڈاکٹر بھائی نے رائفل تیار کرلی‘ اس وقت وہ صرف ایک چیتے کو نشانہ بناسکتاتھا تاہم اس نے سن رکھاتھا کہ شیر وغیرہ زخمی ہوکر پہلے سے زیادہ خطرناک ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔
لئیق شاہ لالہ نے ڈاکٹر بھائی کے پہلو میں رہتے ہوئے نیزا نما ڈنڈے سے ڈھال سی بنالی۔۔۔اسے رہ رہ کر خیال آرہاتھا کہ وہ اپنے ساتھیوں کوتنہا اور اکیلے بھاگتاہوا دیکھتارہا بیچارے وہ خطرے میں ہوں گے وہ بھی ان کے پیچھے کیوں نہ نکل سکا۔۔۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اب تک تووہ دور نکل چکے ہوں گے۔۔چنانچہ لئیق شاہ لالہ۔۔ڈاکٹربھائی کیساتھ ہی رہا۔

درجن بھر "چیتے" بھلا کیسے گوشت چھوڑ کر بھاگ جاتے انہوں نے جلد ہی پنجوں کے ناخنوں سے خیمہ کی چادر پھاڑ دی۔۔ڈاکٹربھائی اب تک کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکاتھا۔۔۔لئیق شاہ لالہ نے کہا۔۔اب تو فائر کردو۔۔۔شاید کہ وہ ڈر کر بھاگ جائیں۔۔۔۔۔جلدی کرو لئیق شاہ لالہ نے کہا۔۔۔۔
جلدی فائرکرو کی آوازپر ڈاکٹر بھائی نے لبیک یا حبیبی کہا، پھر ماہر شکاری ڈاکٹربھائی کی انگلی نے رائفل کا ٹریگردبادیا۔۔۔’’ٹھاہ‘‘بہت زور کا تھا ایک شعلہ لپکامحض چند فٹ کے فاصلے پر خیمے کی چادر پھاڑ کر دوسری جانب ایک چیتے کے اچھل کر گرنے اورتڑپنے کی آوازآئی وہ سمجھے کہ گولی سیدھی چیتے کے اندر گھس گئی ہے۔۔۔ڈاکٹربھائی نے جلدی سے رائفل لوڈ کی اورٹریگر دبانے لگا کہ انہیں لئیق شاہ لالہ کی آواز سنائی دی "رکو!مجھے نسوار ڈالنے دو"چل اب فائر کر،لئیق شاہ لالہ نے نسوار ڈالنے کے بعد کہا اورڈاکٹر بھائی نے ایک مرتبہ پھر ٹریگر دبادیا۔۔۔۔ٹھاہ
تڑپنے والا جانوراب بے سدھ ہوگیا۔۔۔دو فائروں کے بعدباہر خاموشی چھاگئی ۔۔کچھ دیر تک لئیق شاہ لالہ اور ڈاکٹر بھائی خوف کے مارے خیمے کے کنارے سکڑے سمٹے اورگنگ سے کھڑے رہے۔۔۔ڈاکٹر بھائی نے سوچا ’’کیا کارتوس کے دو فائروں سے درجن بھر چیتے مر گئے؟‘‘ کوئی جواب نہ بن پڑا۔۔۔کچھ دیر کے بعد۔۔لئیق شاہ لالہ نے ڈاکٹربھائی کی قیادت میں بقیہ رات جنگل سے باہر آبادی میں گزارنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔وہ اسی دہانے سے نکلے جو مبین علی نے خیمے کی چادر پھاڑ کر بنائی تھی۔۔۔
باہر نکلے تووہ بری طرح سے اچھل پڑے، ایکسٹوصاحب!دم دار ستارے کی طرح لومڑیوں کی کھال میں وجاہت کا نمونہ بنے کھڑے تھے،۔
٭
بستی سے ملحقہ جنگل سے باہر ،بقیہ ٹیم کےساتھی رک گئے وہ ایسے بھاگے تھے کہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےتھے۔چند منٹ تو سانسوں کی بحالی میں گزرے لیکن ان کا دل ابھی تک دھک دھک کی آوازوں سے اودھم برپا کیے تھا۔
یار تم نے دھماکوں کی آواز سنی تھی۔۔۔ابودجانہ نے ہانپتے ہوئے تصدیق چاہی۔۔میں کچھ پیچھے۔۔۔تھا۔مجھ سے بھاگا نہیں جارہا۔حماد نے کہا۔۔۔کمبخت خرگوش اور تیتروں کے گوشت نے بھاگنے کی صلاحیت پرپتہ نہیں کیا اثر کرڈالاہے۔۔۔پھر حماد نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا انداز ایسے ہی تھا جیسے خرگوش اور تیتروں کے گوشت کو پیٹ کے اندر معذرت کرتے ہوئے سلارہاہو۔۔۔
ہاں یار میں نے بھی سنی تھی مبین علی نے پہل کی اورپھر سب نے سنی تھی کی تصدیق کرڈالی۔۔ایک صاف جگہ پر انہوں نے آرام کرنے کی ٹھانی۔۔ اب خطرہ نہ تھا۔۔وہ آبادی کے قریب میدان میں تھے۔۔۔کچھ دیرکے بعد ڈاکٹربھائی، لئیق شاہ لالہ اور ایکسٹو کی آمد سے ٹیم بخیریت یکجاہوگئی۔۔ایکسٹو کو دیکھ کر سب ہشاش بشاش ہوگئے ،وہ سمجھے ایکسٹو نے ان کا خوف دور کرنے کی خاطر یہ روپ دھارا ہے۔
ھاھاھا واہ ایکسٹو،تسی گریٹ ہو،یہ ابودجانہ کی آواز تھی۔۔
٭٭
جب ان کی آنکھ کھلی صبح کی روشنی پھیل چکی تھی ۔۔۔۔دیہاتی ان کے ارگرد جمع تھے۔۔۔پھر اچانک ایکسٹو صاب کا دماغ جاگ گیا اس نے پہل کرتے ہوئے ڈاکٹر بھائی کے شکار کی تعریفوں کے پل باندھ کر دیہاتوں کے دل جیت لیے،ایکسٹو نے خوب مرچ مصالحہ لگاکر چیتے کے شکار کی کہانی سنائی کہ خود ڈاکٹر بھائی بھی حیران رہ گئے، البتہ ایکسٹو کی زبان کا جادو تھا کہ وہ فرض کرچکے کہ ویسا ہی ہواہوگا جیسا کہ وہ بیان کررہاہے۔۔۔۔۔ایکسٹوکی وضاحت سے ڈاکٹر بھائی کے ذہن کے شکوک دور ہوگئے،وہ خوشی و احساسِ تفاخر سے پھیل گیا۔۔آخر زندگی میں پہلی بار اس نے چیتا شکارکیاتھا۔۔درحقیقت درجن بھر "چیتوں" کو ڈرانے کے لیے ڈاکٹربھائی نے بس ٹریگر دبایا۔۔لیکن خوش قسمتی سے گولی کی زد میں آنے والے" چیتے "کی موت نے ان کے کیرئیر میں ایک عدد شیر مارنے کا کارنامہ بھی سجاڈالاتھالیکن یہ خوش فہمی زیادہ دیر تک نہ رہ سکی۔۔۔۔
٭٭
گاؤں کے لوگ بچے اور بڑی بوڑھی خواتین بھی ایکسٹو،لئیق شاہ بھائی اور ڈاکٹربھائی کی قیادت میں خیمہ گاہ کے مقام تک چلی آئیں۔۔راستے بھر لوگوں نے ڈاکٹر بھائی اور ان کی ٹیم کی تعریفیں کیں جس سے ان کی تھکان اور رات کا تلخ واقعہ محو ہوگیا۔شکاری ٹیم انپے لیڈر ڈاکٹربھائی کی بہادری سے بہت خوش ہوئی ۔۔۔اور مفت میں اپنی تعریفوں کو بھی خوب انجوائے کیا۔
اس نئی صورت حال سے ڈاکٹربھائی نے اپنے دل کو اچھی طرح مطمئن کرتے ہوئے سوچا۔۔’’بہرحال اس نے چیتا شکار کیاہے تعریفیں جھوٹیں تو نہیں ہورہیں‘‘تعریفوں میں ایکسٹو کی زبان ایسے رواں تھی جیسے پہاڑی پانی ہوتاہے ۔۔۔رہی سہی کسر لئیق شاہ لالا نے مکمل کرڈالی۔۔’’اگر ڈاکٹر بھائی کی رائفل کانشانہ خطا جاتا تو میں نیزا پھینک کا چیتے کا دل چیر ڈالتا‘‘۔۔لالہ نے کہا۔۔۔لیکن اس کی نوبت نہ آسکی اور ڈاکٹر بھائی نے دو عدد فائر ٹھیک نشانے پر کیے۔۔اور چیتا ۔۔پھنڈر ہوگیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔لالہ اور ایکسٹو بھی چشم دید گواہ تھے۔۔۔۔۔شکاری ٹیم کی بنی بنائی عزت میں ایکسٹو نے کئی چاند لگائے۔۔ایک خوشی کا ساساماں تھا۔۔۔
٭٭٭
خیمہ گاہ کے قریب پہنچنے پرلوگوں کیساتھ شکاری ٹیم نے بھی دیکھا کہ پھیلے ہوئے خون کے چھینٹے کے پاس ہی ایک عدد مراہواگیڈر خون میں لت پت پڑاہے۔۔تو شکاری ٹیم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کوپیغام منتقل کردیا۔۔کہ ٹیم لیڈر ماہرشکاری ملک
ڈاکٹر بھائی کی عزت کو بچانے میں فعال کردار اداکرنےکا وقت آن پہنچا ہے۔۔
بستی سے آئے لوگوں میں سے ایک نے بلندآواز سے کہا۔۔ارے یہ تو گیڈرہے۔۔۔۔۔۔چیتا کہاں ہے۔۔؟۔۔۔

اس کی لاش درجن بھر چیتے جو اس کے خاندان ہی کے تھے اٹھاکر لے گئے ۔۔۔ڈاکٹر بھائی نے نہایت مطمئن انداز سے جواب دیا۔
اور یہ گیڈر؟ ۔۔۔مجمع سے ایک اور معقول سوال بلند ہوا۔۔۔
یہ گیڈر بھی چیتے کا دشمن تھاایکسٹو نے کہا، لیکن ڈاکٹر بھائی جیسے ماہر شکاری کے ہاتھوں چیتے کا عبرت ناک انجام دیکھ کر اسے ہارٹ اٹیک ہوااور مر گیا۔۔۔

واہ،سب نے نعرہ مار کر ڈاکٹر بھائی کو اپنے کندھوں پر اٹھالیا،دیگر ٹیم بھی نعروں اوربڑھکوں میں شریک ہوگئی

۔۔۔ایسا ماہر شکاری جوجانوروں کی دنیا سے بھی واقف ہے۔(ملک ہوراں نے تہ کمال کرچھڈا۔۔)۔۔چاچاگامے نے خوش ہوکردیہاتی زبان میں کہا۔۔۔بہت ودیا۔۔بہت خوب۔۔آنے والے سب سادہ لوح دیہاتیوں نے ان کی خوب تعریف کرڈالی۔۔اس خوشی کے موقع پر۔۔۔چوہدری الیاس گھمن نے فوراً ہی ملک ڈاکٹر اور اس کی ٹیم کے اعزاز میں صبح کے ناشتے کا اعلان کردیا۔۔۔
بستی والے گیڈر کی لاش اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن ڈاکٹر بھائی نے جلدی سےاپنے ساتھیوں کو حکم دیاکہ گیڈر کی لاش کو وہی دفن کردو۔۔تاکہ عزت قائم رہے۔

آئندہ ڈاکٹر بھائی کے ناشتے کااحوال بیان ہوگا۔

 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,631
Likes
1,967
Points
492
Location
Rawalpindi
#7
۔کوئی تین چار چیتے وہی ہڈیاں چبانے میں مصروفِ عمل تھے

سب سے پہلے تو قارئین فیصلہ کریں کہ ہڈیاں چبانے والوں کو کس نے چیتا قرار دیا تھا
جب مصنف نے خود انہیں چیتا کہا تو کہانی کے سارے کرداروں نے اس کی تقلید ہی کرنی تھی

ہا ہا ہا
:pagal:
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
608
Likes
726
Points
337
Location
Islamabad
#8

سب سے پہلے تو قارئین فیصلہ کریں کہ ہڈیاں چبانے والوں کو کس نے چیتا قرار دیا تھا
جب مصنف نے خود انہیں چیتا کہا تو کہانی کے سارے کرداروں نے اس کی تقلید ہی کرنی تھی

ہا ہا ہا
:pagal:
صبیح بھائی تو اب تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ آپ نے چیتا مار دیا ہے ورنہ اختتام کی درگت کو عزت میں نہ بدلتے
:pagal:
ویسے ایک بات اور سمجھ نہیں آئی یہ خود کدھر چھپ گئے ، کہیں اصلی شکار ہوئے چیتے کو صبیح بھائی ہی نے تو گیدڑ سے نہیں بدل دیا
:unsure::unsure:
 

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#9
ہاہاہاہا۔۔
کیا خوب چال چلی ہے صبیح بھائی نے۔ کہانی میں اونچ نیچ صورتحال نے بڑے سسپنس کو جنم دیا ہے۔بڑی "مصلحت" سے کہیں گھیرا تنگ کیا گیا ہے اور کہیں رعایت دی گئی ہے۔
زبردست انداز صبیح بھائی
اب ایکس ٹو کے کٹھے میٹھے ریمارکس کا انتظار ہے۔۔۔ لطف اندوز ہونے کا دوسرا سیشن تو جانبین کا کٹھا میٹھا بحث و مباحثہ ہے۔۔۔
۔
پر مزاح تحریر۔۔۔
:)
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#12
بہت خوب
:D

ویسے کہانی کے اختتام میں کچھ مصلحت پسندی کی بو آرہی ہے
:rolleyes:
کہیں آپ بھی تو ڈاکٹر انکل کی شکارانہ صلاحیتوں کے قائل نہیں ہو گئے
:D:p
ھاھاھا
پسند اور رائے کا شکریہ
اگر میں واقعی لکھتاکہ ڈاکٹر بھائی نے شیر مارا ہے تو یہ کہانی تو ہوتی جس میں تگ دو بھی ،خوف اور مزاح کے واقعات بھی،لیکن وہ مزہ نہیں ہوتا،ہم یوں سمجھ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر بھائی ماہر شکاریوں کے قریب ہیں۔اسی قسم کے کچھ تجربات کے بعد وہ اچھے شکاری بن جائیں گے۔
البتہ اس کہانی میں کوشش (بھاگنے کی) اور مدد کا جذبہ (ڈاکٹر بھائی پر پردہ پوشی کا) موجود ہے۔
:LOL:
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#14

سب سے پہلے تو قارئین فیصلہ کریں کہ ہڈیاں چبانے والوں کو کس نے چیتا قرار دیا تھا
جب مصنف نے خود انہیں چیتا کہا تو کہانی کے سارے کرداروں نے اس کی تقلید ہی کرنی تھی

ہا ہا ہا
:pagal:
:pagal:
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#15
صبیح بھائی تو اب تک یہی سمجھ رہے ہیں کہ آپ نے چیتا مار دیا ہے ورنہ اختتام کی درگت کو عزت میں نہ بدلتے
:pagal:
ویسے ایک بات اور سمجھ نہیں آئی یہ خود کدھر چھپ گئے ، کہیں اصلی شکار ہوئے چیتے کو صبیح بھائی ہی نے تو گیدڑ سے نہیں بدل دیا
:unsure::unsure:
کہانی میں عزت
:pagal:

ہمارے سامنے تو اصل کہانی ہے، ویسے ڈاکٹر بھائی نے انسانی ہمدردی کی بناپر شیر کے شکار کی حامی بھری تھی۔،البتہ جنگل میں ان کی دلیرانہ کاروائیوں ;)کے طفیل شیر کچھ عرصے کے لیے روپوش ہوگیا،
:pagal::D:p
شیر کو معلوم ہوگیا کہ بستی والوں کے سرپرستوں میں "سرفروش"شکاری کی پوری ایک کرکٹ کی ٹیم جتنی تعداد کے شکاری موجود ہیں،جو غلیل سے اس کی آنکھ پھوڑ کر اسے کانا یا اندھا کرکے عمر بھر کے لیے اپائج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں:pagal: ۔
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#16
ہاہاہاہا۔۔
کیا خوب چال چلی ہے صبیح بھائی نے۔ کہانی میں اونچ نیچ صورتحال نے بڑے سسپنس کو جنم دیا ہے۔بڑی "مصلحت" سے کہیں گھیرا تنگ کیا گیا ہے اور کہیں رعایت دی گئی ہے۔
زبردست انداز صبیح بھائی
اب ایکس ٹو کے کٹھے میٹھے ریمارکس کا انتظار ہے۔۔۔ لطف اندوز ہونے کا دوسرا سیشن تو جانبین کا کٹھا میٹھا بحث و مباحثہ ہے۔۔۔
۔
پر مزاح تحریر۔۔۔
:)
بہت بہت شکریہ شاہ جی۔
پسند اور رائے کابھی شکریہ

اس کہانی کے بعد چچا گامے کی دعوت والا تھریڈ بھی ضرور پڑھئے گا،اس کہانی کو لکھنے کے لیے میں نے کچھ حکیمی ویب سائیٹوں سے کشتوں اور جڑی بوٹیوں کے نام لیے ہیں تاکہ ڈاکٹر بھائی کے لیے بھرپور ناشتہ سرو ہواور ان کی تھکان دور ہوجائے۔
:pagal:
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
608
Likes
726
Points
337
Location
Islamabad
#18
ھاھاھا
پسند اور رائے کا شکریہ
اگر میں واقعی لکھتاکہ ڈاکٹر بھائی نے شیر مارا ہے تو یہ کہانی تو ہوتی جس میں تگ دو بھی ،خوف اور مزاح کے واقعات بھی،لیکن وہ مزہ نہیں ہوتا،ہم یوں سمجھ لیتے ہیں کہ ڈاکٹر بھائی ماہر شکاریوں کے قریب ہیں۔اسی قسم کے کچھ تجربات کے بعد وہ اچھے شکاری بن جائیں گے۔
البتہ اس کہانی میں کوشش (بھاگنے کی) اور مدد کا جذبہ (ڈاکٹر بھائی پر پردہ پوشی کا) موجود ہے۔
:LOL:
ہمم یعنی جب ڈاکٹر انکل واقعی ماہر شکاری بن جائیں گے تو وہ سچ مچ شیر کا شکار کریں گے؟
:D

یہ کوشش اور مدد کا جذبہ ہی ہے جو آپکو مستقبل میں بچائے گا
:pagal:
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,631
Likes
1,967
Points
492
Location
Rawalpindi
#19
ہمم یعنی جب ڈاکٹر انکل واقعی ماہر شکاری بن جائیں گے تو وہ سچ مچ شیر کا شکار کریں گے؟
:D

یہ کوشش اور مدد کا جذبہ ہی ہے جو آپکو مستقبل میں بچائے گا
:pagal:
کاکی جو بات صبیح بھائی چھپانا چاہتے ہیں وہ آپ ہر بار بیان کر دیتی ہیں
بٹن دباکے
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
608
Likes
726
Points
337
Location
Islamabad
#20
کہانی میں عزت
:pagal:

ہمارے سامنے تو اصل کہانی ہے، ویسے ڈاکٹر بھائی نے انسانی ہمدردی کی بناپر شیر کے شکار کی حامی بھری تھی۔،البتہ جنگل میں ان کی دلیرانہ کاروائیوں ;)کے طفیل شیر کچھ عرصے کے لیے روپوش ہوگیا،
:pagal::D:p
شیر کو معلوم ہوگیا کہ بستی والوں کے سرپرستوں میں "سرفروش"شکاری کی پوری ایک کرکٹ کی ٹیم جتنی تعداد کے شکاری موجود ہیں،جو غلیل سے اس کی آنکھ پھوڑ کر اسے کانا یا اندھا کرکے عمر بھر کے لیے اپائج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں:pagal: ۔
وہ تو شکر ہے کہ یہ سرفروش جاتے ہوئے کھجل سائیں کی دعائیں لیتے ہوئے نہیں گئے ورنہ گیدڑ کی بجائے صبح کو بلی ہی مری پڑی ملتی
:pagal:
 
Top