ڈاکٹر بھائی نے شیر مارا قسط 1

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#1
ڈاکٹربھائی اور ان کی ٹیم نے شیر کا شکارکیا؛۔

ڈاکٹربھائی کوشیر کی بربادیوں کی اطلاع بستی سے آئے چند افرادکے وفد نے دی ۔۔۔’’ پتر مَلک۔۔ چاچا گاما کہنے لگا۔۔ مجھے اس منحوس ’’ثیر‘‘کی دل دہلادینے والی دھاڑ سنائی دی پھرمیرے ’’ثریرورگوں‘‘ ڈنگر اچھلنے کودنے لگے مجبوراًدل پہ سل رکھے اس جانب بھاگاجہاں مویشی باندھے گئے تھے ، مویشیوں میں سے ایک بچھڑا کم لگا،بغور دیکھنے پرایسے نشانات ملے جیسے اس بد نصیب کوگھسیٹا گیا۔۔دوسرے دن ماسی سلیمہ کی بکری نشانہ بن گئی۔۔۔چوہدری الیاس گھمن نے دوسری بربادی کا ذکر اشدضروری سمجھا۔۔۔۔ملک صاحب۔۔۔۔ہم کیا بتائیں آپ کو۔۔شیر اسی طرح روزانہ مال مویشی کانقصان کررہاہے۔۔۔۔برخوردارملک بابو۔۔زمیندارچوہدری ایوب عرف ماما جوبا کہنے لگا۔۔اَساں تُساں نِی بڑی تعریف ُسنی اے سوہنا رب ۔۔ تساں نو لمبی حیاتی بخشے۔۔چھیتی ساڈی مدد نا کوئی فیصلہ کرو۔۔۔) ۔۔
ڈاکٹربھائی کو اپنی تعریف کی لاج رکھنی تھی اس نے ضروری سامان کی تیاری کا حکم دیا،عصر کی نمازمسجدوں میں اذان سے قبل ہی شکاری ٹیم کے ہمراہ باجماعت اداکرکےچل پڑے۔۔ڈاکٹربھائی کو اس بات کی خوشی تھی کہ وہ ایک مشہوراورماہرشکاری کے طور پر آس پاس کی بستیوں میں شہرت کیساتھ عزت
بھی رکھتے ہیں
٭٭٭٭

گھنےدرختوں‘ جھاڑیوں کے میدان میں داخل ہوکر انہیں خیال آیا ‘ وہ جنگلی چڑے ،مرغابیاں،تیتر ،بیٹر اور خرگوش کے شکاری ہیں۔۔۔ بحیثیت ٹیم لیڈر ہونے کے وہ اچھی طرح جانتاتھے کہ اس کی ٹیم ماہرشکاریوں سے زیادہ شکارکو بھون کر کھانے اور ہڈیاں چبانے کی مہاگروہے۔۔۔
جیسے جیسے ڈاکٹربھائی سوچتے گئےان کے ہاتھوں سے خیالی طوطے ایک ایک کرکے پھُرپھُر ہوتے گئے۔
ماہر شکاری خلاہوں میں ایسے تکنے لگا جیسے انہیں ہی بے بسی سے اڑتا دیکھ رہاہو۔۔ڈاکٹر بھائی نے تعریف کے زعم میں مبتلاحامی تو بھر لی تھی لیکن آج تک اس نے یا ٹیم میں سے کسی ایک بھی لڑکے نے شیر جیسے خوفناک درندے کا سامناتو کیا چڑیا گھر میں بھی شاید ہی ۔۔۔ کبھی آنکھیں دیکھائی ہوں۔۔۔
واپسی کا راستہ وہ وفد کو اپنی ٹھوس یقین دہانی کی بناپرخود ہی بند کرواچکاتھا۔۔۔مسلسل سوچ بچارسے آخرکاروہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنے ساتھیوں کو شیر کے متعلق قبل از وقت کچھ بھی نہ بتایاجائے۔۔۔اگر وہ بتادیتاتو پوری ٹیم تنہا لیڈر کو شیر کے واسطے چھوڑ کر بھاگ جاتی ۔۔۔
دوسرے پہلو پر سوچتے ہوئے انہیں اپنی سبکی کاپریشان کن خیال بھی آیا۔۔۔اب یہی ایک راستہ تھا کہ جیسا بھی ہو شیر کا شکار بہرحال کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔۔ بھاگنے کی ذلت سے عزت سے آگے بڑھنا بہتر ہے۔۔۔
٭٭٭
اے ایم ،حماد،ناٹی میر،عمر اسلام ،مبین علی ،لئیق شاہ،ابودجانہ، افضل ،عطاءرفیع،اورایکسٹو،ڈاکٹربھائی کے ساتھ اس مہم جوئی میں شامل تھے جبکہ بقیہ شکاری ٹیم کے ساتھی مصروفیت کے باعث نہ جاسکے۔۔۔
انہیں معلوم نہ تھا کہ آج کے شکارمیں شیر بھی شامل ہے بلکہ وہ اس کاروائی کو معمول کا شکار سمجھتے ہوئے ہنسی مزاح سے راستہ طے کررہے تھے۔۔۔۔
حماد نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہاــ’’اگرآج مرغابیوں کیساتھ جنگلی کبوتر بھی شکار ہوجائے تو میں اس کا سوپ بناکر لوں گا۔۔۔پہاڑی کبوتر توانائی کا سرچشمہ ہے۔۔۔
یار مجھے بھی سوپ دینا’’اے ایم ‘‘نے فوراً ہی کہا’’پہاڑی کبوتر کی یخنی سے میرا سینہ کھل جائے گا ۔۔۔اے ایم نے ایسے کہا جیسے راک پیجن سوپ کی افادیت پر ریسرچ کرچکاہے۔۔‘‘
لے دس پاجی’’ناٹی میر کہنے لگا‘‘تھوڑا سامجھے بھی چکھادینا۔۔۔
ایک ایک چائے کا چمچ تم دونوں کا ہوا’’حماد نے بادشاہوں جیسی بے نیازی دیکھائی‘‘۔۔لیکن افسوس۔’’ راک پے جن کا ملنااکثردشوارہوتا ہے‘‘حماد نے مایوسی سے کہا۔۔۔
ڈاکٹر بھائی کے پاس ایک عدد رائفل تھی‘ باقیوں کے پاس غلیل،شکاری چاقو،نیروں کی مانند۔۔ڈنڈے جو اس وقت تک ٹھیک نیزے کی طرح پھینکنے کی انہیں اچھی خاصی مشق ہوچکی تھی۔۔،اور ایکسٹو کے کندھوں پر سفری خیمہ لداہواتھا۔۔۔
شکاری ٹیم بستی سے ملحق جنگل میں داخل ہوگئی ڈاکٹر بھائی نے رات ویران علاقے کے گُنجان درختوں کے عقب میں واقع چشمے کے قریب قدرے محفوظ جگہ میں گزارناوفد کی موجودگی میں ہی سوچ لیاتھا ۔۔۔ کچھ دانش مند تجربہ کار لوگوں کی رائے اور ڈاکٹر بھائی کی شکارانہ تجربات کی بناپر اس جگہ کا تعین ڈاکٹربھائی نے ازخود کرلیا،جہاں ان کی دانست میں شیر کی موجود گی متوقع تھی۔چنانچہ عین وقت پر انہیںمحفوظ جگہ کے معاملے میں سوچ وبچار کی ضرورت نہ پڑی۔۔۔
مغرب سے قبل اچھے خاصے تیتر بٹیراورکچھ خرگوش بھی شکار کرلیے گئے ،شام کے وقت ایکسٹو نے سفری خیمہ نصب کیا‘۔۔۔عمر اسلام ،لئیق شاہ بھائی اور میرنے خیمہ گاہ کے اردگرد خوب پتے بچھائے اور مبین علی نے دیاسلائی سے پتوں کوسلگادیاتاکہ دھواں پھیل کر مچھروں کو بھگادے۔۔۔اے ایم نے سامان میں سے موم بتی نکال کر روشن کردی۔۔۔ایکسٹو نے چندپرندوں کی سمت کا سفر کیا اور جلد ہی انہیں پانی کا چشمہ بھی نظر آگیاچنانچہ انہوں نے وضو کیا،عمر اسلام نے اذان کئی اور عطاء رفیع بھائی کی امامت میں نماز مغرب ادا کی ۔
۔۔خشک لکڑیوں کی بہتات تھی‘ شکاری ٹیم نے اپنے سامان سے مٹی کا تیل نکالا اور آگ پر خرگوش اور پرندے بھون کر کھانے لگے۔۔۔حتٰی کہ باقی بچ جانے والا گوشت سامان کیساتھ خیمے میں رکھ دیا۔۔۔اُس جگہ پرشکار اتنی کثرت سے دستیاب تھاکہ۔۔ کھاتے کھاتے حمادکے جبڑے تھک گئے۔۔۔۔۔کچھ دیر تک گپ شپ کی آوازیں خیمے میں گونجتی رہی پھر ان پر غنودگی طاری ہوئی اور وہ بے خود اونگھتے چلے گئے۔۔۔ خرگوش،تیتروں کے گوشت نے نیند کی وادیوں میں مچھلیاں بناکر سمند ر کی گہرائیوں میں سوئمنگ پرمجبور کردیاتھا۔۔۔٭٭

آہٹ کی آواز پرڈاکٹربھائی کی نیند کھل گئی ۔۔۔چند لمحات تک وہ ایسے ہی لیٹا رہا پھر۔۔۔ اسے خیال آیا اس وقت وہ بستی سے دور ایسے جنگل میں ہے جہاں خوفناک شیرکو مارنے آیاہے۔۔۔نیند سے قبل کے واقعات پل کے اندر اس کے ذہن سے گزرگئے۔۔۔۔
۔۔۔’’ نیند کھلنے کی وجہ کوئی پراسرار آواز بنی تھی‘‘ ۔۔۔اس نے غور کیا‘پھر اپنے ساتھیوں کی جانب نگاہ ڈالی ۔۔جو بے سدھ پڑے سورہے تھے ، اس نے لمبے سائز کی موم بتی پر نگاہ ڈالی جو آخری ہچکیوں میں تھی ۔۔او۔۔ڈاکٹربھائی نے خود کلامی کی۔۔۔رات کا تہائی حصہ بیت چکاہے۔۔۔اچانک کسی خیال کے تحت وہ پھرتی سے اٹھا۔۔۔ خیمے کے کنارے کی مٹی سے تیمم کیا اور نماز عشاء اداکرنے لگا۔۔۔۔٭٭
باہر سے چپڑ چپڑ کی سی آواز سنائی دی ڈاکٹر بھائی نے احتیاطً خیمے کی درز سے دیکھا تو ہوش اڑگئے۔۔۔وہ بھول گئے تھے کہ ان کا شکار کیاہوا گوشت جس میں پرندے اور خرگوش بھی شامل تھا‘ جب بھون کر کھایا تو ان سے بچ جانے والی ہڈیاںان کے لیے وبال جان بھی بن سکتی تھیں۔۔ صورتحال خاصی خوفناک تھی ۔۔۔کوئی تین چار چیتے وہی ہڈیاں چبانے میں مصروفِ عمل تھے۔۔۔رات کی تاریکی کے باعث ان کی آنکھوں میں خوفناک چمک تھی۔۔۔ڈاکٹربھائی کو لگا وہ خیمے کی جانب دیکھ کر ہلکی آواز میں غرابھی رہے ہیں۔۔۔۔
ڈاکٹربھائی نے اپنے ساتھیوں کو اٹھایااس وقت وہ سب خطرے سے دوچار تھے ۔۔۔اے ایم۔۔۔ناٹی میر۔۔۔حماد۔مبین علی۔۔اٹھو ۔۔۔ ہماراخیمہ تین چار چیتوں کے نرغے میں ہے۔۔۔ڈاکٹربھائی نے پریشان کن انداز سے کہا۔۔۔البتہ اس نے رائفل کو تیار کرلیاتھا۔۔۔
اس ماحول میں ،مبین علی ،۔۔لئیق شاہ بھائی اور دیگر ساتھی کیسے سوئے رہتے انہیں چیتوں پر سخت غصہ آیا جو ان کی نیند آدھی رات خراب کرنے آگئے۔۔۔
ارے چیتے بھائیو۔۔ جائو۔۔۔ سونے دو۔۔۔ایکسٹو نے خماد آلودمگر بیٹھ کرباہر کی جانب آوازلگائی اور پھر لیٹ گیا۔۔
ابے اٹھ۔۔۔ڈاکٹر بھائی نے ایکسٹو کو جھنجھوڑڈالا۔۔اگر وہ چیتے خیمہ پھاڑ کراندر آگئے تو نہ تُو بچے گا نہ ہی تیری داستان ہوگی داستانوں میں۔۔۔

دوسری آخری قسط پڑھنا نہ بھولیں
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#3
ویسے بڑی بات ہے کہ ساری ٹیم میرے ہمراہ کردی اور خود کان بچا کر نکل گئے۔

الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا​
آپ نے مجھے ایک خفیہ ڈیوٹی دی تھی کہ چھپ چھپ کر ہماری نگرانی کرتے رہو۔
:p
اگر ٹیم خطرے میں پھنس جائے تو مدد کرناورنہ گاؤں والوں کو اطلاع دے دینا
:LOL:
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#5
اتنی لائق فائق ٹیم کو غلیل کے ساتھ شکار پر بھیجنا
اور وہ بھی شیر کے شکار کے لیے
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
غلیل سے چڑیاں اور پرندے مارے جاسکتے ہیں، ۔
جو انہوں نے شکار کیے
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#6
ڈاکٹربھائی اور ان کی ٹیم نے شیر کا شکارکیا؛۔

ڈاکٹربھائی کوشیر کی بربادیوں کی اطلاع بستی سے آئے چند افرادکے وفد نے دی ۔۔۔’’ پتر مَلک۔۔ چاچا گاما کہنے لگا۔۔ مجھے اس منحوس ’’ثیر‘‘کی دل دہلادینے والی دھاڑ سنائی دی پھرمیرے ’’ثریرورگوں‘‘ ڈنگر اچھلنے کودنے لگے مجبوراًدل پہ سل رکھے اس جانب بھاگاجہاں مویشی باندھے گئے تھے ، مویشیوں میں سے ایک بچھڑا کم لگا،بغور دیکھنے پرایسے نشانات ملے جیسے اس بد نصیب کوگھسیٹا گیا۔۔دوسرے دن ماسی سلیمہ کی بکری نشانہ بن گئی۔۔۔چوہدری الیاس گھمن نے دوسری بربادی کا ذکر اشدضروری سمجھا۔۔۔۔ملک صاحب۔۔۔۔ہم کیا بتائیں آپ کو۔۔شیر اسی طرح روزانہ مال مویشی کانقصان کررہاہے۔۔۔۔برخوردارملک بابو۔۔زمیندارچوہدری ایوب عرف ماما جوبا کہنے لگا۔۔اَساں تُساں نِی بڑی تعریف ُسنی اے سوہنا رب ۔۔ تساں نو لمبی حیاتی بخشے۔۔چھیتی ساڈی مدد نا کوئی فیصلہ کرو۔۔۔) ۔۔
ڈاکٹربھائی کو اپنی تعریف کی لاج رکھنی تھی اس نے ضروری سامان کی تیاری کا حکم دیا،عصر کی نمازمسجدوں میں اذان سے قبل ہی شکاری ٹیم کے ہمراہ باجماعت اداکرکےچل پڑے۔۔ڈاکٹربھائی کو اس بات کی خوشی تھی کہ وہ ایک مشہوراورماہرشکاری کے طور پر آس پاس کی بستیوں میں شہرت کیساتھ عزت
بھی رکھتے ہیں
٭٭٭٭

گھنےدرختوں‘ جھاڑیوں کے میدان میں داخل ہوکر انہیں خیال آیا ‘ وہ جنگلی چڑے ،مرغابیاں،تیتر ،بیٹر اور خرگوش کے شکاری ہیں۔۔۔ بحیثیت ٹیم لیڈر ہونے کے وہ اچھی طرح جانتاتھے کہ اس کی ٹیم ماہرشکاریوں سے زیادہ شکارکو بھون کر کھانے اور ہڈیاں چبانے کی مہاگروہے۔۔۔
جیسے جیسے ڈاکٹربھائی سوچتے گئےان کے ہاتھوں سے خیالی طوطے ایک ایک کرکے پھُرپھُر ہوتے گئے۔
ماہر شکاری خلاہوں میں ایسے تکنے لگا جیسے انہیں ہی بے بسی سے اڑتا دیکھ رہاہو۔۔ڈاکٹر بھائی نے تعریف کے زعم میں مبتلاحامی تو بھر لی تھی لیکن آج تک اس نے یا ٹیم میں سے کسی ایک بھی لڑکے نے شیر جیسے خوفناک درندے کا سامناتو کیا چڑیا گھر میں بھی شاید ہی ۔۔۔ کبھی آنکھیں دیکھائی ہوں۔۔۔
واپسی کا راستہ وہ وفد کو اپنی ٹھوس یقین دہانی کی بناپرخود ہی بند کرواچکاتھا۔۔۔مسلسل سوچ بچارسے آخرکاروہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنے ساتھیوں کو شیر کے متعلق قبل از وقت کچھ بھی نہ بتایاجائے۔۔۔اگر وہ بتادیتاتو پوری ٹیم تنہا لیڈر کو شیر کے واسطے چھوڑ کر بھاگ جاتی ۔۔۔
دوسرے پہلو پر سوچتے ہوئے انہیں اپنی سبکی کاپریشان کن خیال بھی آیا۔۔۔اب یہی ایک راستہ تھا کہ جیسا بھی ہو شیر کا شکار بہرحال کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔۔ بھاگنے کی ذلت سے عزت سے آگے بڑھنا بہتر ہے۔۔۔
٭٭٭
اے ایم ،حماد،ناٹی میر،عمر اسلام ،مبین علی ،لئیق شاہ،ابودجانہ، افضل ،عطاءرفیع،اورایکسٹو،ڈاکٹربھائی کے ساتھ اس مہم جوئی میں شامل تھے جبکہ بقیہ شکاری ٹیم کے ساتھی مصروفیت کے باعث نہ جاسکے۔۔۔
انہیں معلوم نہ تھا کہ آج کے شکارمیں شیر بھی شامل ہے بلکہ وہ اس کاروائی کو معمول کا شکار سمجھتے ہوئے ہنسی مزاح سے راستہ طے کررہے تھے۔۔۔۔
حماد نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہاــ’’اگرآج مرغابیوں کیساتھ جنگلی کبوتر بھی شکار ہوجائے تو میں اس کا سوپ بناکر لوں گا۔۔۔پہاڑی کبوتر توانائی کا سرچشمہ ہے۔۔۔
یار مجھے بھی سوپ دینا’’اے ایم ‘‘نے فوراً ہی کہا’’پہاڑی کبوتر کی یخنی سے میرا سینہ کھل جائے گا ۔۔۔اے ایم نے ایسے کہا جیسے راک پیجن سوپ کی افادیت پر ریسرچ کرچکاہے۔۔‘‘
لے دس پاجی’’ناٹی میر کہنے لگا‘‘تھوڑا سامجھے بھی چکھادینا۔۔۔
ایک ایک چائے کا چمچ تم دونوں کا ہوا’’حماد نے بادشاہوں جیسی بے نیازی دیکھائی‘‘۔۔لیکن افسوس۔’’ راک پے جن کا ملنااکثردشوارہوتا ہے‘‘حماد نے مایوسی سے کہا۔۔۔
ڈاکٹر بھائی کے پاس ایک عدد رائفل تھی‘ باقیوں کے پاس غلیل،شکاری چاقو،نیروں کی مانند۔۔ڈنڈے جو اس وقت تک ٹھیک نیزے کی طرح پھینکنے کی انہیں اچھی خاصی مشق ہوچکی تھی۔۔،اور ایکسٹو کے کندھوں پر سفری خیمہ لداہواتھا۔۔۔
شکاری ٹیم بستی سے ملحق جنگل میں داخل ہوگئی ڈاکٹر بھائی نے رات ویران علاقے کے گُنجان درختوں کے عقب میں واقع چشمے کے قریب قدرے محفوظ جگہ میں گزارناوفد کی موجودگی میں ہی سوچ لیاتھا ۔۔۔ کچھ دانش مند تجربہ کار لوگوں کی رائے اور ڈاکٹر بھائی کی شکارانہ تجربات کی بناپر اس جگہ کا تعین ڈاکٹربھائی نے ازخود کرلیا،جہاں ان کی دانست میں شیر کی موجود گی متوقع تھی۔چنانچہ عین وقت پر انہیںمحفوظ جگہ کے معاملے میں سوچ وبچار کی ضرورت نہ پڑی۔۔۔
مغرب سے قبل اچھے خاصے تیتر بٹیراورکچھ خرگوش بھی شکار کرلیے گئے ،شام کے وقت ایکسٹو نے سفری خیمہ نصب کیا‘۔۔۔عمر اسلام ،لئیق شاہ بھائی اور میرنے خیمہ گاہ کے اردگرد خوب پتے بچھائے اور مبین علی نے دیاسلائی سے پتوں کوسلگادیاتاکہ دھواں پھیل کر مچھروں کو بھگادے۔۔۔اے ایم نے سامان میں سے موم بتی نکال کر روشن کردی۔۔۔ایکسٹو نے چندپرندوں کی سمت کا سفر کیا اور جلد ہی انہیں پانی کا چشمہ بھی نظر آگیاچنانچہ انہوں نے وضو کیا،عمر اسلام نے اذان کئی اور عطاء رفیع بھائی کی امامت میں نماز مغرب ادا کی ۔
۔۔خشک لکڑیوں کی بہتات تھی‘ شکاری ٹیم نے اپنے سامان سے مٹی کا تیل نکالا اور آگ پر خرگوش اور پرندے بھون کر کھانے لگے۔۔۔حتٰی کہ باقی بچ جانے والا گوشت سامان کیساتھ خیمے میں رکھ دیا۔۔۔اُس جگہ پرشکار اتنی کثرت سے دستیاب تھاکہ۔۔ کھاتے کھاتے حمادکے جبڑے تھک گئے۔۔۔۔۔کچھ دیر تک گپ شپ کی آوازیں خیمے میں گونجتی رہی پھر ان پر غنودگی طاری ہوئی اور وہ بے خود اونگھتے چلے گئے۔۔۔ خرگوش،تیتروں کے گوشت نے نیند کی وادیوں میں مچھلیاں بناکر سمند ر کی گہرائیوں میں سوئمنگ پرمجبور کردیاتھا۔۔۔٭٭


آہٹ کی آواز پرڈاکٹربھائی کی نیند کھل گئی ۔۔۔چند لمحات تک وہ ایسے ہی لیٹا رہا پھر۔۔۔ اسے خیال آیا اس وقت وہ بستی سے دور ایسے جنگل میں ہے جہاں خوفناک شیرکو مارنے آیاہے۔۔۔نیند سے قبل کے واقعات پل کے اندر اس کے ذہن سے گزرگئے۔۔۔۔
۔۔۔’’ نیند کھلنے کی وجہ کوئی پراسرار آواز بنی تھی‘‘ ۔۔۔اس نے غور کیا‘پھر اپنے ساتھیوں کی جانب نگاہ ڈالی ۔۔جو بے سدھ پڑے سورہے تھے ، اس نے لمبے سائز کی موم بتی پر نگاہ ڈالی جو آخری ہچکیوں میں تھی ۔۔او۔۔ڈاکٹربھائی نے خود کلامی کی۔۔۔رات کا تہائی حصہ بیت چکاہے۔۔۔اچانک کسی خیال کے تحت وہ پھرتی سے اٹھا۔۔۔ خیمے کے کنارے کی مٹی سے تیمم کیا اور نماز عشاء اداکرنے لگا۔۔۔۔٭٭
باہر سے چپڑ چپڑ کی سی آواز سنائی دی ڈاکٹر بھائی نے احتیاطً خیمے کی درز سے دیکھا تو ہوش اڑگئے۔۔۔وہ بھول گئے تھے کہ ان کا شکار کیاہوا گوشت جس میں پرندے اور خرگوش بھی شامل تھا‘ جب بھون کر کھایا تو ان سے بچ جانے والی ہڈیاںان کے لیے وبال جان بھی بن سکتی تھیں۔۔ صورتحال خاصی خوفناک تھی ۔۔۔کوئی تین چار چیتے وہی ہڈیاں چبانے میں مصروفِ عمل تھے۔۔۔رات کی تاریکی کے باعث ان کی آنکھوں میں خوفناک چمک تھی۔۔۔ڈاکٹربھائی کو لگا وہ خیمے کی جانب دیکھ کر ہلکی آواز میں غرابھی رہے ہیں۔۔۔۔
ڈاکٹربھائی نے اپنے ساتھیوں کو اٹھایااس وقت وہ سب خطرے سے دوچار تھے ۔۔۔اے ایم۔۔۔ناٹی میر۔۔۔حماد۔مبین علی۔۔اٹھو ۔۔۔ ہماراخیمہ تین چار چیتوں کے نرغے میں ہے۔۔۔ڈاکٹربھائی نے پریشان کن انداز سے کہا۔۔۔البتہ اس نے رائفل کو تیار کرلیاتھا۔۔۔
اس ماحول میں ،مبین علی ،۔۔لئیق شاہ بھائی اور دیگر ساتھی کیسے سوئے رہتے انہیں چیتوں پر سخت غصہ آیا جو ان کی نیند آدھی رات خراب کرنے آگئے۔۔۔
ارے چیتے بھائیو۔۔ جائو۔۔۔ سونے دو۔۔۔ایکسٹو نے خماد آلودمگر بیٹھ کرباہر کی جانب آوازلگائی اور پھر لیٹ گیا۔۔
ابے اٹھ۔۔۔ڈاکٹر بھائی نے ایکسٹو کو جھنجھوڑڈالا۔۔اگر وہ چیتے خیمہ پھاڑ کراندر آگئے تو نہ تُو بچے گا نہ ہی تیری داستان ہوگی داستانوں میں۔۔۔

دوسری آخری قسط پڑھنا نہ بھولیں
دوسری قسط کا شدت کیساتھ انتظار رہے گا۔شیر کا شکا ر ٹریگر دبا کر ۔۔۔۔۔​
 

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#7
اتنی لائق فائق ٹیم کو غلیل کے ساتھ شکار پر بھیجنا
اور وہ بھی شیر کے شکار کے لیے
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
اگر ایسا نہ کرتے تو کہانی میں جان کیسے پڑتی
:geek:
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,593
Likes
1,960
Points
492
Location
Rawalpindi
#8
آپ نے مجھے ایک خفیہ ڈیوٹی دی تھی کہ چھپ چھپ کر ہماری نگرانی کرتے رہو۔
:p
اگر ٹیم خطرے میں پھنس جائے تو مدد کرناورنہ گاؤں والوں کو اطلاع دے دینا
:LOL:
جی جناب، اور پھر کیا ہوا۔ یہ جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔
X2 here once again
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#12
اتنی لائق فائق ٹیم کو غلیل کے ساتھ شکار پر بھیجنا
اور وہ بھی شیر کے شکار کے لیے
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
دوسری قسط کا شدت کیساتھ انتظار رہے گا۔شیر کا شکا ر ٹریگر دبا کر ۔۔۔۔۔​
اگر ایسا نہ کرتے تو کہانی میں جان کیسے پڑتی
:geek:
جی جناب، اور پھر کیا ہوا۔ یہ جاننے کے لئے اس لنک پر کلک کریں۔
X2 here once again
ایکسٹو کا اغوا
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#14
لیکن پول کھلنے پر اب کہانی کو ادھر اُدھر کھمانا پڑ رہا ہے
بڑی مشکل میں پڑگئے ہیں صبیح بھائی

ہا ہا ہا
:D:D:D:D:D
میں آپ کاشکرگزار ہوں کہ آپ کے بے بنیاد ایکسٹو کے ٹائیٹل کو جسٹفائی کرنے پر صبح صبح ایک کہانی برق رفتاری سے جنم پا کر درسگاہ کے انڈکس پر سج گئی

:p
شکریہ
 

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#16
ماشاءاللہ۔ بہت خوب کہانی ہے۔ درسگاہ پر خوشگوار فضاء پیدا کرنے کا شکریہ۔
مزہ اس لئے بھی دوبالا ہے کہ ایکس ٹو نے ایکس ٹو ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایکس ٹو ہونے کی زبردست وضاحت کی ہے ۔
الفت کا جب مزہ ہے کہ وہ بھی ہو بے قرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی۔
یہاں بھی صورتحال کچھ یوں ہے
:)
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,593
Likes
1,960
Points
492
Location
Rawalpindi
#17
ایکس ٹو نے ایکس ٹو ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایکس ٹو ہونے کی زبردست وضاحت کی ہے ۔
واہ جی واہ کیا شاعرانہ انداز میں تبصرہ کیا ہے
زبردست
 

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#18
واہ جی واہ کیا شاعرانہ انداز میں تبصرہ کیا ہے
زبردست
ویسے ڈاکٹر پاجی۔ کہانی کوئی سابھی رخ اختیار کرے مگر ایک بات یقینی معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ شیر مارنے کا کریڈٹ آپ ہی کو ملے گا ٹیم بے چاری تو ویسے رگڑے میں آ رہی ہے۔
:p:D:D
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,593
Likes
1,960
Points
492
Location
Rawalpindi
#19
ویسے ڈاکٹر پاجی۔ کہانی کوئی سابھی رخ اختیار کرے مگر ایک بات یقینی معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ شیر مارنے کا کریڈٹ آپ ہی کو ملے گا ٹیم بے چاری تو ویسے رگڑے میں آ رہی ہے۔
:p:D:D
اور تو اور لائق شاہ بھی اس ٹیم میں غلیل سے چڑیاں مارتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ بٹن دباکے
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,593
Likes
1,960
Points
492
Location
Rawalpindi
#20
ٹیم بے چاری تو ویسے رگڑے میں آ رہی ہے
یہ اصل میں بھاگنے کے لئے چور راستہ چھوڑا ہے صبیح بھائی نے، ورنہ اصل ٹارگٹ تو مجھے ہی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے
 
Top