بے تقویم

Joined
May 9, 2018
Messages
155
Likes
111
Points
43
Location
Pakistan
#1


بے تقویم

زیر نظر اقتباس شکیل عادل زادہ صاحب کا ہے جسے یونی کوڈ میں ٹائپ کیاہے۔​


نجومی نے ہاتھ دیکھ کے کہا اے شخص تیری عمر دارز اور تیرا اقبال بلند ہے تو نوزائیدگان کو جوان و کامراں دیکھے گا ۔ایک عہد تیرے سامنے کروٹیں بدلے گا، ایک تاریخ تیرے آگے انگڑائی لیتی گزرے گی ۔تیری لکیر مستحکم اور بے عیب ہے ،نجومی نے اسے دراز عمری کی بشارت دی اور شخص مذکور آنے والے دنوں کے خواب دیکھتا ہوا اپنی راہ لگا ۔​




نجومی روز ایسی بشارتیں عام کرتے ہیں مگر ہر بار زندگی کو اعداد سے تعبیر کرتے ہیں ۔​


جب کہ اصل بات تو کمّیت جمع کیفیت کی ہے ۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کے نصیب میں کتنے دن ،کتنی راتیں لکھی ہیں ۔کتنی روشن راتیں ، کتنے بے نور دن ۔کوئی لگا بندھا حساب تو نہیں لیکن آدمی زندگی کے نصف ہی سے سیر کام ہوتاہے، بعضوں کو اس سے بھی کم ملتا ہے اور بعضوں کو ملتا ہی نہیں ۔ایک تو وہ جو نوشتہ ہے ، پر ایک وہ بھی ہے جو آدمی خود رقم کرتاہے۔​


خال خال ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے زندگی سے لمحہ لمحہ وصول کیا اور اسے ادا بھی کیا ہو؟آدھے سے مراکھلی اور بند آنکھیں ،سوتے اور جاگتے حواس نہیں ہیں ۔یہ بیداری و خوابیدگی زندگی کا لازمہ اور زندگی میں شامل ہے، خوابیدگی زندگی سے مہنانہیں کی جاسکتی مگر کھلی آنکھوں اور کھلے کانوں اور بیدار حواس کی بے نوری ،بے سمعی اوربے حسی و خوابیدگی کا شمار کس (پہر)میں ہو؟ایسے لمحے بے حدو حساب ہیں جن کاجاگنا اور سونا برابر ہے۔ کھلی آنکھوں کے معنی دیکھنا ہی نہیں اور کھلے کانوں کا مطلب سننا ہی نہیں ہے ۔کیا دیکھنا اور کیا سننا!دیکھنے اور سننے کے اس اسراف کا تخمیہ لگایاجائے تو گھاٹا ہی گھاٹا نظر آئے گا ،زیاں ہی زیاں ۔کہیں نصف سے زیادہ اور کہیں صرف چند ساعتیں ہی حاصل نکلیں گی ۔​


نفس کے الجھٹّے اعصاب کے جھٹکے ،خون کی جلن ۔آدمی ہاتھ پر کشیدہ لکیر ضرور پوری کردیتا ہے ۔مگر یوم حشر سے پہلے ایک عرصہ محشر طے کرکے ۔لمحے چپکے سے گزر جاتے ہیں ۔پتہ نہیں چلتا ۔،شاید کبھی آدمی کو لوٹ کے دیکھنے کی فرصت ہوئی ہو تو بے شمار لمحوں کے ضیاع و زیاں کا احساس ستاتا ہوگا۔جاگنے میں سونے کا زیاں ۔پس دیوار جس شخص کی باتیں کی گئیں ،جس کی خرد گیری کی گئی اور فیصلے صادر کیے گئے۔اُن ساعتوں کا زیاں ۔ کس کے چٹکی بھری ،کس کے تنکا چبھویا،کس کی نانِ جویں حرام قرار دی گئی ۔کس کے کردار پر داغ پھینکے گئے ۔کس بدنگاہی سے دیکھنے کا زیاں کیا،کسے جھوٹ سمجھا ،کسے غلط گردانا، کس کے گھر سازو سامان آنے پر خون کھولایاگیا۔یہاں کیا کہاگیا! وہاں کیا سنا گیا!کون​


تھا،کون تھا!کون کیا کررہاہے ؟کون آرہاہے ،کون جارہاہے۔جھانک کے دیکھو بھاگ کے دیکھو،ہر شخص کسوٹی پر،ہر شخص موردِ الزام ،ہدف ملامت۔ نامعتبر،گردن زدنی ،کوئی کن سوئیاں لے رہاہے ،کوئی گواہی دے رہاہے ۔فیصلہ کرنے والوں کو خبر نہیں کہ دیوار کے پار اُن کے بارے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہی حکم لگارہے ہیں اور وہ بھی زندگی نصف کررہے ہیں ،یہ بھی زندگی آدھی ۔کبھی ایسا سوچا ہے۔نجومی نے نہیں بتایانا!۔۔۔۔۔​


شکیل عادل زادہ کے ذاتی صفحہ سے اقتباس۔​


سب رنگ 1978​
 
Last edited:

Abu Dujana

Help Desk
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
257
Likes
249
Points
43
Location
Karachi, Pakistan
#5
زبردست۔ویسے آج کل کے نجومی بڑے ماہر نفسیات ہوتے ہیں۔
بہت اچھی شیئرنگ۔
کیپ اٹ اپ
 
Top