اضافت اور فعل میں تذکیر و تانیث

Afzal339

 
Advisor
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
430
Likes
601
Points
257
#1
جملے میں بوقت اضافت تذکیر و تانیث اول لفظ کے حساب سے اور فعل میں تذکیر و تانیث آخر لفظ کےحساب سے لایا جائے
ملاحظہ کیجیے
اضافت کی مثالیں

احمد کا خواب
احمد کے سوالات
احمد کی کتاب
گھر کی عورتیں

مندرجہ بالا جملوں میں پہلا لفظ اضافت میں "خواب" ، "سوالات" ، "کتاب" اور "عورتیں" تھا
تو اس حساب سے اضافت لائی گئی
مثلا
خواب مذکر تھا توحرف اضافت "کا" مذکر لایا گیا
سوالات سوال کی جمع تھی اور سوال مذکر ہے تو اَسماء جمع سے پہلے بجائے "کا"کے " کے" استعمال ہوتا ہے

کتاب مؤنث تھی توحرف اضافت "کی" مؤنث لائی گئی اور مؤنث اسم کی جمع میں "کی" ہی استعمال ہوتی ہے
فعل کی مثالیں
احمد نے خواب دیکھا
احمد نے سوالات کیے
احمد نے کتاب پڑھی
عورتیں گئیں

مندرجہ بالا جملوں میں آخری لفظ بھی "خواب" ، "کتاب" اور "سوالات" تھا تو فعل بھی اسی حساب سے لایا گیا
مثلا
خواب مذکر تھا تو فعل مذکر لایا گیا
سوالات سوال کی جمع ہونے کی وجہ سے فعل جمع مذکر لایا گیا
کتاب مؤنث تھی توفعل مؤنث لایا گیا
عورتیں عورت (مؤنث) کی جمع ہونے کی وجہ سے فعل مؤنث لایا گیا
بعض اوقات فعل کا واحد جمع احترام کی وجہ سے ہوتا ہے آخری لفظ کے واحد جمع کے حساب سے نہیں
اور ایسا بڑے شخصیات کے لیے کیا جاتا ہے جیسے کہ
استاد چلے گئے
استانی چلی گئیں

اب یہاں پر استاد واحد مذکر اور استانی واحدہ مؤنث ہونے کے باوجود فعل جمع کا لایا گیا تو اس کی وجہ صرف احترام ہے
اور بڑوں کو ہمیشہ جمع کے صیغوں سے مخاططب کیا جانا چاہیے یہ ایک اچھے ادیب /لکھاری کی نشانی ہے
فی الحال اتنی بحث کافی ہے اس میں کچھ ابحاث اور بھی ہیں جو محتاج تفصیل ہے اس کو پھر کبھی ذکر کریں
 
Top