سورۃ فاتحہ کی تفسیر

Afzal339

 
Advisor
Expert
Engineer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
373
Likes
439
Points
63
#1
(تفسیر سورۃ الفاتحہ)

ہر تعریف اللہ کی ہے: یعنی سب تعریفیں عمدہ سے عمدہ اول سے آخر تک جو ہوئی ہیں اور جو ہوں گی خدا ہی کو لائق ہیں۔ کیونکہ ہر نعمت اور ہر چیز کا پیدا کرنے اور عطا کرنے والا وہی ہے خواہ بلا واسطہ عطا فرمائے یا بالواسطہ جیسے دھوپ کی وجہ سے اگر کسی کو حرارت یا نور پہنچے تو حقیقت میں آفتاب کا فیض ہے۔
عالمین کے معنی:۔ مجموعہ مخلوقات کو عالم کہتے ہیں اور اسی لئے اس کی جمع نہیں لاتے۔ مگر آیت میں عالم سے مراد ہر ہر جنس (مثلاً عالم جن، عالم ملائکہ، عالم انس وغیرہ) ہیں۔ اس لئے جمع لائے تاکہ جملہ افراد عالم کا مخلوق جناب باری ہونا خوب ظاہر ہو جائے۔
اس کے خاص کرنے کی اول وجہ تو یہی ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور پیش آئیں گے ایسا خوفناک روز نہ پہلے ہوا نہ بعد میں ہوگا دوسرے اُس روز بجز ذات پاک حق تعالیٰ کے کسی کو ملک و حکومت ظاہری بھی تو نصیب نہ ہو گی لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار۔
صرف اللہ تعالیٰ سے مدد:۔ اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے۔
اہل انعام اوراہل غضب:۔ جن پر انعام کیا گیا وہ چار فرقے ہیں نبیین، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ کلام اللہ میں دوسرے موقع پر اس کی تصریح ہے اور المغضوب علیہم سے یہود اور ضالین سے نصارٰی مراد ہیں۔دیگر آیات و روایات اس پر شاہد ہیں اور صراط مستقیم سے محرومی کل دو طرح ہوتی ہے۔ عدم علم یا جان بوجھ کر،انسانوں کی کوئی بھی جماعت ان دو حالات سے خارج نہیں ہو سکتا سو نصارٰی تو وجہ اول ہے اور یہود دوسری میں ممتاز ہے۔
قرآن میں سورہ فاتحہ کی حیثیت:۔ یہ سورۃ خدا تعالیٰ نے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ جب ہمارے دربار میں حاضر ہو تو ہم سے یوں سوال کیا کرو اس لئے اس سورۃ کا ایک نام تعلیم مسئلہ بھی ہے۔ اس سورۃ کے ختم پر لفظ آمین کہنا مسنون ہے۔ اور یہ لفظ قرآن شریف سے خارج ہے۔ معنی اس لفظ کا یہ ہے کہ ”الٰہی ایسا ہی ہو“ یعنی مقبول بندوں
کی پیروی اور نافرمانوں سے علیحدگی میسر ہواس سورۃ کے اول نصف میں اللہ تعالیٰ کی ثناء و صفت اور دوسرے حصہ میں بندہ کے لئے دعا ہے۔
 
Top