آپ جو سوچیں گے اب وہ اسکرین پر دکھائی دے گا۔

Author
Doctor

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Threads
271
Messages
1,949
Likes
2,370
Points
830
Location
Rawalpindi
#1

سوچ کے عکس کو اسکرین پر دکھانے والی حیرت انگیز جاپانی ٹیکنالوجی
جاپانی ماہرین نے ایک حیرت انگیز ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا ہے جو آپ کی سوچ کو پڑھ کر اس کا عکس اسکرین پر دکھا سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا دل و دماغ مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) سے استفادہ کرنے والا ایک خصوصی سافٹ ویئر ہے جو کسی منظر کو دیکھتے یا سوچتے وقت اس کی تفصیلات جان کر انہیں ایک ٹی وی ڈسپلے پر دکھاتا ہے۔ اسے بلاشبہ دماغی آنکھ قرار دیا جاسکتا ہے۔​
اس عمل کو سائنسی کہانیوں یا فلموں کی طرح قرار دیا جاسکتا ہے جس میں لوگ اپنی یادوں کو اسکرین پر دوبارہ دیکھتے اور ریکارڈ کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی ایک فلم ’بلیک مِرر‘ بھی مقبول ہوئی جس میں انسانی یادداشت کو فارورڈ اور ریوائنڈ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔​
کیوٹو یونیورسٹی کی کامیٹانی لیبارٹری کے پروفیسر یوکائی یاسو کامیٹانی نے اپنی ٹیم کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے ایف ایم آرآئی اسکین کو دیکھتے ہوئے ایک نیورل نیٹ ورک استعمال کیا ہے جو ان اسکین کے ذریعے دماغ میں خون کی تبدیلی سے ہونے والے برقی سگنل کو پڑھتا ہے۔​
دماغی اسکین سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اسکرین پر دکھایا گیا جس میں رضاکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ایک الو، شیشے والی کھڑکی یا ڈاک کے سرخ ڈبے کو چشمِ تصور سے۔ اس کے بعد رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ ہنس، چوکور شکل، تیندوے، باؤلنگ گیند، گولڈ فش یا ضرب (کراس) کے نشان پر غور کریں۔ اس کے بعد دماغی اسکین کو پڑھتے ہوئے اس سافٹ ویئر نے اسکرین پر قریب قریب ویسی ہی تصاویر بنائیں جو لوگوں نے سوچی تھیں یا دیکھنے کے بعد ان کا تصور کیا تھا۔

مزید بہتری کرکے اس ٹیکنالوجی کو خیالات، یادیں اور دیگر دماغی تصاویر اور سوچ کو اسکرین پر دکھانے کا راستہ ہموار ہوگا۔ تاہم اس کی درستگی ہر شخص میں مختلف ہوسکتی ہے۔ ان تحقیقات پر مبنی ایک تحقیقی مقالہ ’’بایو آرکائیو‘‘ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے۔​
ماہرین نے اپنی تحقیق میں کہا ہے، ’ہم نے دماغی سوچ کی تصاویر کو ظاہر کرنے کا ایک نیا طریقہ پیش کیا ہے۔ اس میں انسان ایک منظر دیکھتا ہے اور اس کی دماغی سرگرمی کو پکسل میں دیکھا جاتا ہے جس میں گہرے نیورل نیٹ ورک کے فیچرز استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح دماغی عکس نگاری کو پرت در پرت کئی سطحوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔

جب انسانی آنکھوں سے دیکھی جانے والی تصاویر کا عکس کمپیوٹر نیورل نیٹ ورک نے بنایا تو وہ حیرت انگیز طور پر ان مناظر سے مشابہ تھا جو وہ خود دیکھ رہے تھے۔​
یوکائی یاسو کے مطابق یہ پورا نظام دماغی سرگرمی کو پڑھ کر تصاویر بناتا ہے اور اس ماڈل کو پہلے قدرتی مناظر پر تربیت دی گئی ہے لیکن یہ اگر کوئی چوکور، گول اور تکونی شے دیکھ رہا تب بھی یہ اس کا دماغ پڑھ کر اسے اسکرین پر دکھاتا ہے۔

واضح رہے کہ نیورل نیٹ ورک عین اسی طرح سیکھتا ہے جس طرح ہم کوئی شے پڑھ کر یا دیکھ کر اسے سیکھنے یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان مصنوعی نیٹ ورکس کو کسی بھی معلومات کو پہچاننے کے قابل بنایا جاسکتا ہے خواہ وہ تقریرہو، متن (ٹیکسٹ) ہو یا کوئی تصویر ہو۔ اسی بنیاد پر چہرے پہچاننے والے نیٹ ورک بھی بنائے گئے ہیں۔​
کیوٹو ماہرین کی ٹیم نے پہلے ڈیپ نیورل نیٹ ورک کو 50 قدرتی مناظر دکھائے اور تربیت دی۔ اس کے بعد رضاکاروں کو وہ مناظر دکھا کر ان کے ایف ایم آر آئی کو پڑھ کر انہی تصاویر کو دوبارہ بنانے کی کوشش کی گئی جو بہت حد تک کامیاب رہی اور ان تصاویر میں بھی بیان کی گئی ہے۔ تاہم اس نیٹ ورک کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔​
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
49
Messages
597
Likes
557
Points
299
Location
Karachi, Pakistan
#2
سائنس کے میدان میں بہت تیزی سے ترقی ہورہی ہے۔ اشتراک کا شکریہ
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Threads
433
Messages
1,745
Likes
1,200
Points
562
Location
Manchester U.K
#3

  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 
Top