PDA

View Full Version : (¯`·._.·[میری پسندیدہ شاعری]·._.·´¯)



kamrankhan143
April 14th, 2010, 07:33 AM
یہ جو دیوانے دو چار نظر آتے ھیں
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ھیں


تیری محفل کا بھرم رکھتے ھیں سو جاتے ھیں
ورنہ لوگ تو بیدار نظر آتے ھیں


دور دور تک کوئی ستارہ ھے نہ کوئی جگنو
مرگ امید کے آثار نظر آتے ھیں


میرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ نہیں
آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ھیں


جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونق بازار نظر آتے ھیں


حشر میں کون گواہی میری دے گا ساغر
سب تمہارے ھی طرفدار نظر آتے ھیں






کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی


سپرد کر کے اسے روشنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آؤں گی


بدن کے قرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں رؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی


وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھـ سکوں گی کسے مناؤں گی


وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی


سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب بھی تیری آواز سن نہ پاؤں گی


جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی



پروین شاکر




وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی
اب زندگی میں ہجر کی وحشت نیں رہی


ٹوٹا ہے جب سے اس کی مسیحائی کا طلسم
دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی


پھر یوں ہوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا
پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی


پھر یوں ہوا کہ ہو گیا مصروف وہ بہت
اور ہمیں یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی


اب کیا کسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دنوں
خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی






خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوار ہو تو
سکوں کی نیند تجھے بھی حرام ہو جائے
تری مسرّتِ پیہم تمام ہو جائے
تری حیات تجھے تلخ جام ہو جائے
غموں سے آئینۂ دل گداز ہو تیرا
ہجومِ یاس سے بیتاب ہو کے رہ جائے
وفورِ درد سے سیماب ہو کے رہ جائے
ترا شباب فقط خواب ہو کے رہ جائے
غرورِ حسن سراپا نیاز ہو تیرا
طویل راتوں میں تو بھی قرار کو ترسے
تری نگاہ کسی غمگسار کو ترسے
خزاں رسیدہ تمنا بہار کو ترسے
کوئی جبیں نہ ترے سنگِ آستاں پہ جھکے
کہ جنسِ عجزو عقیدت سے تجھ کو شاد کرے
فریبِ وعدۂ فردا پہ اعتماد کرے
خدا وہ وقت نہ لائے کہ تجھ کو یاد آئے
وہ دل کہ تیرے لیے بیقرار اب بھی ہے
وہ آنکھ جس کو ترا انتظار اب بھی ہے







یوں تیری راہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے


بیٹھے رہے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے


بہتی ہوئی یہ ندیا گھلتے ہوئے کنارے
کوئی تو پار اترے کوئی تو پار گزرے


تو نے بھی ہمکو دیکھا ہم نے بھی تجھکو دیکھا
تو دل ہی ہار گزرا ہم جان ہار گزرے


(مینا کماری )


ملی تھی زندگی ہم کو تو مرنا بھی ضروری تھا
ٹھہرنا بھی ضروری تھا، گزرنا بھی ضروری تھا


لہو میرے بدن کا صرف اس میں ہو گیا تو کیا
تیری تصویر میں یہ رنگ بھرنا بھی ضروری تھا


مجھے تجھ تک رسائی کی کوئی تدبیر کرنا تھی
بگڑنا بھی ضروری تھا، سنورنا بھی ضروری تھا


اب اس پاداش میں چنتا رہوں گا کرچیاں اپنی
سمٹنے کی تمنا میں بکھرنا بھی ضروری تھا


سمندر کے تلاطم میں کٹی تھی زندگی اپنی
کسی خاموش ساحل پر اترنا بھی ضروری تھا


تعلق قطع کرنا بھی کچھ آساں تو نہ تھا لیکن
یہ خواہش اس کی تھی، یہ کام کرنا بھی ضروری تھا


مجھے لمبی مسافت کی تھکن تو دور کرنا تھی
سفر باقی سہی لیکن ٹھہرنا بھی ضروری تھا


دِیا بجھنے سے پہلے رات کی ہموار چادر پر
کوئی نقشہ، کوئی منظر ابھرنا بھی ضروری تھا


(نسیمِ سحر)





وہ جو دعویدار ھے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ھوں
کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں*اداس ھوں


یہ مری کتاب حیات ھے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا
میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ھوں


یہ تری امید کو کیا ھوا کبھی تو نے غور نہیں *کیا
کسی شام تو نے کہا تو تھا تری سانس ھوں تری آس ھوں


یہ جو شہر فن میں *قیام ھے سو ترے طفیل ھی نام ھے
مرے شعر کیوں نہ گداز ھوں کہ ترے لبوں کی مٹھاس ھوں


یہ تری جدائی کا غم نہیں کہ یہ سلسلے تو ھیں*روز کے
تری ذات اس کا سبب نہیں کئی دن سے یونہی اداس ھوں


کسی اور کی آنکھ سے دیکھ کر مجھے ایسے ویسے لقب نہ دے
ترا اعتبار ھوں جان من نہ گمان ھوں نہ قیاس ھوں

Mudassar Mazhar
April 14th, 2010, 08:17 AM
bhot umda

Adnan Qaisar
April 14th, 2010, 09:07 AM
Moved From Design Poetry Section...

InNoCeNt GiRL
April 14th, 2010, 09:22 AM
so nice

وہ جو دعویدار ھے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ھوں
کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں*اداس
my favourite

Mubeen Ali
April 14th, 2010, 09:28 AM
zabardast collection

kamrankhan143
April 14th, 2010, 12:26 PM
جب بھی آتی ہیں خیالوں میں تمہاری آنکھیں
بھیگ جاتی ہیں کسی غم سے ہماری آنکھیں

ڈھل گئی شام، اندھیرے نے طنابیں گاڑیں
سو گئیں تھک کے تیرے ہجر کی ماری آنکھیں

تم میرے پاس نہیں پھر بھی تمہارا چہرہ
سوچتی رہتی ہیں یہ درد کی ماری آنکھیں

سلسلہ ٹوٹ بھی سکتا تھا بصارت کا کبھی
تھام لیتی نہ اگر آنکھ، تمہاری آنکھیں

منزلِ عشق میں ایسا بھی مقام آیا ہے
لے گئے آنکھوں کے بدلے وہ ہماری آنکھیں

[Only registered and activated users can see links]


آنکھوں سے میرے اس لیے لالی نہیں جاتی
یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی

اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے
اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی

مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھےدےدیں
تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی

آئے کوئی آ کر یہ تیرے درد سنبھالے
ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی نہیں جاتی

معلوم ہمیں بھی ہیں بہت سے تیرے قصے
یہ بات تیری ہم سے اچھالی نہیں جاتی

ہمراہ تیرے پھول کھلاتی تھی جو دل میں
اب شام کوئی درد سے خالی نہں جاتی

ہم جان سے جائیں گے تبھی بات بنے گی
تم سے تو کوئی راہ نکالی نہیں جاتی

غمِ زندگی تیرا شکریہ تیرے فیض ہی سے یہ حال ہے
وہی صبح و شام کی الجھنیں، وہی رات دن کا وبال ہے

نہ چمن میں بُوئے سمن رہی نہ ہی رنگِ لالہ و گل رہا
تو خفا خفا سا ہے واقعی کہ یہ صرف میرا خیال ہے

اسے کیسے زیست کہے کوئی گہے آہِ دل گہے چشمِ نم
وہی رات دن کی مصیبتیں وہی ماہ ہے وہی سال ہے

میں غموں سے ہوں جو یوں مطمئن تُو برا نہ مانے تو میں کہوں
تیرے حسن کا نہیں فیض کچھ، میری عاشقی کا کمال ہے

ہے یہ آگ کیسی لگی ہوئی میرے دل کو آج ہُوا ہے کیا
جو ہے غم تو ہے غمِ آرزو، اگر ہے تو فکرِ وصال ہے

کوئی کاش مجھ کو بتا سکے رہ و رسمِ عشق کی الجھنیں
وہ کہے تو بات پتے کی ہے میں کہوں تو خام خیال ہے

-----



کہاں کہاں سے مٹائے گا، خوش گماں میرے
تیرے بدن سے تیری روح تک، نشاں میرے

کہیں بھی جا کے بسا لے تُو بھول کی بستی
محیط ہیں تیرے، یادوں کے آسماں میرے

اگرچہ فاصلہ دو چند کر لیا تو نے
رواں دواں ہیں تیری سمت کارواں میرے

میں جاؤں بھی تو کہاں، چھوڑ کر تیری گلیاں
تُو کر گیا سبھی رستے دھواں دھواں میرے

عبور ہوتے نہیں، روز طے تو کرتا ہوں
یہ ہجر فاصلے، یہ بحرِ بے کراں میرے

ہوا کے بیڑے کسی اور سمت بہتے ہیں
کھلے ہیں اور کسی سمت بادباں میرے

میں اپنے جذبوں کی شدت سے خوف کھاتا ہوں
کہ دشمنوں سے ہیں بڑھ کر، یہ مہرباں میرے

میں خواب زار کی کرتا تو ہوں چمن بندی
اجاڑ دے نہ کوئی آ کے گلستاں میرے

شگوفے آ گئے پلکوں پہ درد کے آخر
چھپا سکے نہ میرے راز، راز داں میرے

-----

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے

دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے

یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے

----

کسی اور غم میں اتنی خلش نہا ں نہیں ہے
غم دل! میرے رفیقو ، غم رائگاں نہیں ہے

کوئی ھم نفس نہیں ہے، کوئی راز داں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک، سو وہ مہرباں نہیں ہے

مری روح کی حقیقت میرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم، مرا ترجماں نہیں ہے

کسی آنکھ کو صدا دو، کسی زلف کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سا ئبا ں نہیں ہے

انہی پتھروں پہ چل کراگر آ سکو تو آؤ
میرےگھر کے راستے میں کہیں کہکشاں نہیں ہے



----

اونچے اونچے ناموں کی تختییاں جلا دینا
ظلم کر نے والوں کی وردیاں جلا دینا

ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہے
دیکھنے میں آسان ہے بستیاں جلا دینا

در بدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
بیلچے اٹھا لینا ڈ گریاں جلا دینا

موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو کشتیاں جلا دینا

پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا

ظلم کے اندھیروں سےتم نہ ہارنا منظر
جب چراغ بجھ جائے انگلیاں جلا دینا


----

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اُٹھا رکھا ہے

اُس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

پتھرو آج میرے سر پر برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے

اب میری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے

پی جا ایام کی تلخی کو ہنس کر ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے



----

میرا کوٹھا میرا مقدر ہے
کون کہتا ہے یہ میرا گھر ہے

ہار کے زندگی سے آئی ہوں
میں*یہاں کب خوشی سے آئی ہوں

میں نے پہنے جو پاؤں میں گھنگرو
مجھ کو کہنے لگا طوائف تو

یہ نہ سوچ کہ غم کی ماری ہوں
اپنی مجبوریوں سے ہاری ہوں

جب بغاوت میں سر اُٹھایا ہے
میں* نے ظالم کا کوڑا کھایا ہے

اک پل بھی جو پاؤں روک لیا
مجھ کو سب نے لہو لہان کیا

یاد آتا ہے مجھ کو بھی بچپن
میرے ماں باپ اُن کا وہ آنگن

میرے دل پر بھی مستی چھائی تھی
میں* نے بھی اک پتنگ اُڑائی تھی

آج خود بن گئی ہوں اک پتنگ
روز اڑتی ہوں اک ڈور کے سنگ

میرے پاؤں ہیں اور گھنگرو ہیں
اب یہ آنکھیں ہیں اور آنسو ہیں

مسکراہٹ کا اب نہ کوئی نشان
نام تو اب بھی ہے میرا مسکان

کون ہے جس سے اپنا حال کہوں
سب یہ کہتے ہیں میں طوائف ہوں


(نیرا راج پال)



----

انکار ہی کر دیجئیے اقرار نہیں تو
اُلجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو

لگتا ہے کہ پنجرے میں* ہوں دنیا میں نہیں ہوں
دو روز سے دیکھا کوئی اخبار نہیں تو

دنیا ہمیں نابود ہی کر ڈالے گی اِک دن
ہم ہوں گے اگر اب بھی خبردار نہیں تو

کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو
ٹوپی ہی لگا لیجئیے دستار نہیں *تو

ہم برسرِ پیکار ستمگر سے ہمیشہ
رکھتے ہیں قلم ہاتھ میں تلوار نہیں تو

بھائی کو ہے بھائی پہ بھروسہ تو بھلا ہے
آنگن میں* بھی اُٹھ جائے گی دیوار نہیں تو

بے سود ہر اک قول ہر اک شعر ہے راغب
گر اس کے موافق ترا کردار نہیں تو

bint-e-hawa
April 14th, 2010, 12:34 PM
یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
nice collection

kamrankhan143
April 14th, 2010, 12:37 PM
thx for liking brother

Ismail Shah
April 14th, 2010, 06:39 PM
VerrY nIce shaRing+keep it up...!!


[Only registered and activated users can see links]
[Only registered and activated users can see links]

M.Waseem
April 15th, 2010, 12:09 AM
Nice Collection

kamrankhan143
April 15th, 2010, 06:46 AM
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہےتو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیرے آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے؟
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے
یوں نہ تھا، میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اَن گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشمِ و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے
جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں*جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے
اب بھی دلکش ہے تیرا حسن، مگر کیا کیجئے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

فیض احمد فیض


-----

حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جدا نہ ہوا
وہ میرے ساتھ رہا پر کبھی مرا نہ ہوا

خزاں نصیب رہے ہم گلوں کی رُت میں بھی
بہار آئی پر اپنا چمن ہرا نہ ہوا

زمانے بھر کی جفاؤں کا شکوہ کر نہ سکے
تری جفا کا بھی ہم سے کبھی گلہ نہ ہوا

ہمیں یقیں تھا تمہاری تمام باتوں پر
تمہارا ایک بھی وعدہ مگر وفا نہ ہوا

میں جی ہی لیتی تری یاد کے سہارے پر
ترے بغیر بھی جینے کا حوصلہ نہ ہوا

ندامتوں کا تو ہر آن مینہ برستا رہا
شجر وفا کا جوسوکھا تو پھر ہرا نہ ہوا

----

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
حُسنِ یزداں تُجھے ، حُسنِ بُتاں تک دیکھوں

تُو نے یوں دیکھا ہے *جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

صرف اس شوق سے پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں ترا حُسن، ترے حُسنِ بیاں تک دیکھوں

میرے ویرانہءِ جاں میں تری یادوں کے طفیل
پھول کِھلتے نظر آتے ہیں جہاں تک دیکھوں

وقت نے ذہن میں دھندلا دیئے تیرے خدوخال
یوں تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں

دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

اک حقیقت سہی فردوس میں حُوروں کا وجود
حُسنِ انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں


----

کیسے میں تیری یاد کو دل سے نکال دوں
کیونکر میں اپنی روح جسم سے نکال دوں

آ میرے ستمگر ، میرے پاس آ کے مانگ
کر اپنی وفاؤں سے تجھے مالامال دوں

اس مکتبِ جہان میں اتنا سبق ملا
ہو*گا عروج جسقدر خود کو زوال دوں

چندا کی روشنی مجھے مدھم سی ہے لگے
جی چاہے اسکے حسن کو ترا جمال دوں

جب بھی کبھی خدا نے فرمایا آج مانگ
رکھ اسکی بارگاہ میں تیرا سوال دوں

یہ تابناک شمس و قمر جس کے زیرِ پا
اسکے حُسن کی اور رضا کیا مثال دوں

کیسے میں تیری یاد کو دل سے نکال دوں


----





خدا کے واسطے

خدا کے واسطے یوں بے رُخی سے کام نہ لے
تڑپ کے پھر کوئی دامن کو تیرے تھام نہ لے

بس اِک سجدہِ شکرانہ پائے نازک پر
یہ میکدہ ہے یہاں پر خدا کا نام نہ لے

زمانے بھر مین ہے چرچا میری تباہی کا
میں ڈر رہا ہوں کہین کوئی تیرا نام نہ لے

مٹا دو شوق سے مجھ کو مگر کہیں تم سے
زمانہ میری تباہی کا انتقام نہ لے

جسے تو دیکھ لے اِک بار مست نظروں سے
وہ عمر بھر ہاتھون میں اپنے جام نہ لے

رکھوں اُمیدِ کرم اُس سے اب میں کیا ساحر
کہ جب نظر سے بھی ظالم میرا سلام نہ لے


----



تیری گلیوں میں صدا دے کر گزر جائیں گے
تجھ کو اے دوست دعا دے کر گزر جائیں گے

ہم وفاؤں کے جزیروں کے ہیں رہنے والے
ہم تو پیغام وفا دے کر گزر جائیں گے

ہم کبھی تجھ کو ستم گر نہ کہیں گے
اپنی قسمت کا لکھا کہہ کر گزر جائیں گے

لوگ پوچھیں گے فقیروں کا ٹھکانہ کہاں ہے
تیرے قدموں کا پتہ دے کر گزر جائیں گے



----

ایسے میں جب چاند ستارے سو جاتے ہیں
ہم بھی تیری یاد سہارے سو جاتے ہیں

اے دل رات بھی بیت چلی ہے نیند بھی ہے
آہم دونوں درد کنارے سو جاتے ہیں

بے چینی گھٹتی ہے اور نہ تم آتے ہو
تھک کے آخر غم کے مارے سو جاتے ہیں

موت بھی کیسی ظالم نیند ہے اور پھر دیکھو
کیسے کیسے جان سے پیارے سو جاتے ہیں

اب تو اک مدت سے یہ معمول ہوا ہے
دشمن جاگتا ہے ہم سارے سو جاتے ہیں



----

بدل سکا نہ جدائی کے غم اٹھا کر بھی
کہ میں تو میں رہا تجھ سے دور جا کر بھی

میں سخت جان تھا اس کرب سے بھی بچ نکلا
میں جی رہا ہوں تجھے ہاتھ سے گنوا کر بھی

خدا کرے تجھے دوری ہی راس آجائے
تو کیا کرے گا بھلا یہاں آ کر بھی

ابھی تو میرے بکھرنے کا کھیل باقی ہے
میں خوش نہیں ہوں اپنا گھر لٹا کر بھی

میں اس کو سطح سے محسوس کر کے بھی خوش ہوں
وہ مطمئن ہی نہیں میری تہہ کو پا کر بھی

ابھی تک اس نے کوئی بھی تو فیصلہ نہ کیا
وہ چپ ہے مجھ کو ہر اک طرح آزما کر بھی

اس طرح ہجوم میں لڑ بھڑ کے زندگی کر لو
رہا نہ جائے گا دنیا سے دور جا کر بھی

کھلا یہ بھید تنہائیاں ہی قسمت ہیں
اک عمر دیکھ لیا محفلیں سجا کر بھی

رکا نہ ظلم میرے راکھ بننے پر بھی ریاض
ہوا کی خو تو وہی ہے مجھے جلا کر بھی


----


تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
کون سا لفظ ھے جو کھولے گا در معنی کا
اسکا پتا کون کرے
تم تو خو شبو ھو، ستاروں کی گزر گاہ ھو تم
تم کہاں آؤ گے اس دشت پراسرار کی پہنائی میں
کیسے اترو گے تمناؤں کی گہرائی میں
تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
کون سے خواب کے جگ مگ میں نہاں ھیں ھم تم
کیسے گرداب تمنا میں رواں ھیں ھم تم
لفظ کے پار جو دیکھیں تو کوئی راہ نہیں
اور تم لفظ پس لفظ سے آگاہ نہیں
تم میرے ساتھ ھو ھمراہ نہیں
—امجد اسلام امجد


---






یہ محبت، یہ عقیدت، یہ وفا کچھ بھی نہیں
ہے وفا طولِ ہوس اس کے سِوا کچھ بھی نہیں

پیار کرنے پہ یہاں بہت سی تعزیریں ہیں
دل کوئی توڑے اگر، اس کی سزا کچھ بھی نہیں

ہم بھی کہتے تھے کہ بچھڑیں گے تو مر جائیں گے
ہم میں فرقت بھی ہوئی اور ہُوا کچھ بھی نہیں

جس نے چاہا ہی نہیں اس سے شکایت کیسی
وہ اگر چھوڑ چلا، اس سے گِلا کچھ بھی نہیں

پیار کہتے ہیں جہاں بھر کا خزانہ ہے انعام
کر کے بھی دیکھ چکے اور مِلا کچھ بھی نہیں

[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
April 15th, 2010, 08:51 AM
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے

ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے

حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے

بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے

kamrankhan143
April 15th, 2010, 11:57 AM
جانِ جاں کچھ کہو

خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
جانتا ہوں محبت میں اظہار کب کھوکھلے حرف و معنی کا محتاج ہے
مانتا ہوں محبت وہ احساس ہے
جس میں خاموشیاں بات کرنے لگیں
نِت نئے خواب آنکھوں میں سجنے لگیں
رُوح سننے لگے دھڑکنوں کی زباں
پھر بھی اب جانِ جاں
خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے
کچھ کہو
شرمگیں مسکراہٹ میں لپٹی ہوئی ہجر کی داستاں
وسوسوں میں گِھرا، آنسوؤں سے لکھا، دھڑکنوں کا بیاں
اپنے جذبوں کو لفظوں کی پوشاک دو
ٹوٹا پھوٹا سہی، اُلجھا اُلجھا سہی
کوئی اظہار ہو
کیونکہ اب جان جاں
خامشی کی زباں سنتے سنتے مرے کان تھکنے لگے

Cheeta
April 15th, 2010, 12:25 PM
Very Nice Sharing

kamrankhan143
April 17th, 2010, 06:38 AM
thx 4 liking

Zain UltimateX
April 17th, 2010, 09:40 AM
buhat achi sharing ki hai :)

kamrankhan143
April 18th, 2010, 06:33 AM
ہوں ابھی آر کہ پار آیا ہوں
عمر ساری تو گزار آیا ہوں
میرے بس میں یہ کہاں تھا،کوئی
لہر تھی جس پہ سوار آیا ہوں
ہے یہ دیکھی ہوئی ہر شے،جیسے
میں یہاں دوسری بار آیا ہوں
وہ کہیں تھا کہ نہیں تھا موجود
ہر جگہ اس کو پکار آیا ہوں
جیت اور اس سے بڑی کیا ہو گی
اپنا سب کچھ اسے ہار آیا ہوں
بیٹھ جاؤں گا ابھی دم بھر میں
شہر پر مثلِ غبار آیا ہوں
دوست ہیں میرے مقابل اب کے
اپنے دشمن کو تو مار آیا ہوں
اور بھی لوگ ہیں کچھ ساتھ میرے
ایک آنا تھا،سو چار آیا ہوں
میں اعلانِ محبت کر کے
بوجھ اِک سر سے اتار آیا ہوں!!

[Only registered and activated users can see links]


کٹھن ہے راہگزر تھوڑی دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو

تمام عُمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے
یہ جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

نشے میں چُور ہوں میں بھی تمہیں بھی ہوش نہیں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں میں
ابھی ہے دور سحر تھوڑی دور ساتھ چلو

یہ ایک شب کی مُلاقات بھی غنیمت ہے
کِسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو

طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے
فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو


(احمد فراز)

----

چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے

مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے

فراز ِعرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے

بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھےیقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے
ساغر صدیقی

----

تجھ کو میں نے کھو دیا اِک نظر پانے کے بعد
دل تڑپتا ہی رہا تیرے چلے جانے کے بعد

حسرتیں جو دل میں تھیں وہ دل ہی میں رہ گیئں
کیا ملا جو تم ملے حسرت نکل جانے کے بعد

تجھ کو ڈھونڈا ہر جگہ تیرا پتہ نہ مل سکا
اپنے ہی اندر ملا پر ٹھوکریں کھانے کے بعد

ساقی میخانہ نے تجھکو ہے نوازا جام سے
کیوں پیاسا رہ گیا پھر جام ہاتھ آنیکے بعد

اپنے تھے سب قدرداں جب تم سے نہ تھے آشنا
سب نے آنکھیں پھیر لیں ترِے قریب آنے کے بعد

اس جہاں کی محفلوں نے کیا دیا تجھ کو مغل
پر حقیقت بھی کھلی ہر شے چھن جانے کے بعد!

[Only registered and activated users can see links]

وہ بُلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشہ ہو

آج ہم بھی تیری وفاؤں پر
مُسکرائیں تو کیا تماشہ ہو

تیری صُورت جو اتفاق سے ہم
بُھول جائیں تو کیا تماشہ ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لَوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

ساغر صدیقی

----




اس جہاں میں خوشی سے زیادہ ہے غم
قہقوں سے پوچھ لو
آنسوؤں سے پوچھ لو

سیدھے راستے ذیادہ ہیں کہ پیچ وخم
حادثوں سے پوچھ لو
منزلوں سے پوچھ لو

زندگی پہ یوں تو ہر کوئی نثار ہے
آدمی کو آدمی سے کتنا پیار ہے
کون کس کے واسطے ہے محترم
دوستوں سے پوچھ لو
دشمنوں سے پوچھ لو

ان ہی خوبیوں میں ہیں خرابیاں بڑی
وقت سے کریں خطاب روک کر گھڑی
بے حسی بھی کھا رہی ہے ہوش کی قسم
نیتوں سے پوچھ لو
مقصدوں سے پوچھ لو

کس کے دل کی آگ نے ضمیر کو چھوا
کون اپنے سامنے جواب دہ ہوا
جرم بے شمار ہیں ،عدالتیں ہیں کم
مجرموں سے پوچھ
منصفوں سے پوچھ لو!
[Only registered and activated users can see links]

تم ایسا کرنا کہ کوئی جگنو ،کوئی ستارہ سنبھال رکھنا
میرے اندھیروں کی فکر چھوڑو، بس اپنے گھر کا خیال رکھنا

اجاڑ موسم میں ریت دھرتی پہ ، فصل بوئی تھی چاندنی کی
اب اس میں اگنے لگے اندھیرے تو کیسا جی ملال رکھنا

دیارِ الفت میں اجنبی کو، سفر یے درپیش ظلمتوں کا
کہیں وہ راہوں میں کھو نہ جائے ذرا دریچہ اجال رکھنا

وہ رسم و راہ ہی نہیں، تو پھر یہ اثاثے کس کام کے تمھارے
ادھر سے گذرا کبھی تو لے لوں گا، تم میرے خط نکال رکھنا

بچھڑنے والے نے وقتِ رخصت کچھ اس نظر سے پلٹ کے دیکھا
کہ جیسے وہ بھی ہی کہہ رہا ہو، تم اپنے گھر کا خیال رکھنا

یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے، یاں خزاں بہاروں کی گھات میں ہے
نصیب صبح عروج ہو تو نظر میں شام ذوال رکھنا

کسے خبر ہے کہ کب یہ موسم اڑا کے رکھ دے خاک آذر
تم احتیاّطا زمیں پہ فلک کی چادر ہی ڈال رکھنا


(اعزاز احمد آزر)
[Only registered and activated users can see links]




مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دُعا نہ دے

میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں
جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خُدا نہ دے

نہ یہ زندگی مری زندگی، نہ یہ داستاں مری داستاں
میں خیال و وہم سے دور ہوں، مجھے آج کوئی صدا نہ دے

مرے گھر سے دور ہیں راحتیں، مجھے ڈھونڈتی ہیں مصیبتیں
مجھ خوف یہ کہ مرا پتہ کوئی گردشوں کو بتا نہ دے

مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے

مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتشِ گُل سے ہے کہیں یہ چمن کو جلا نہ دے

درِ یار پہ بڑی دھوم ہے ، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ابھی نیند آئی ہے حُسن کو کوئی شور کر کے جگا نہ دے

مرے داغِ دل سے ہے روشنی یہی روشنی مری زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تُو ہی بُجھا نہ دے

وہ اُٹھے ہیں لے کے خم و سبو، ارے اے شکیل کہاں ہے تُو
ترا جام لینے کو بزم میں ، کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

(شکیل)


----

گاؤں کی تہذیب کی اب پاسداری چھوڑ دی
شہر میں رہنے کی خاطر انکساری چھوڑ دی

اتفاقاً دشمنوں نے حال کیا پوچھا میرا
اتنقاماً دوستوں نے غمگساری چھوڑ دی

لاڈلے بیٹے کی بربادی کا ساماں ہو گیا
ماں نے بے جا حرکتوں پر ناگواری چھوڑ دی

بارشیں کرتا ہے وہ خشک پیڑوں کے لیئے
باغباں نے قصداً آبیاری چھوڑ دی!

kamrankhan143
April 18th, 2010, 12:51 PM
مجھے سارے رنج قبول ہیں اُسی ایک شخص کے پیار میں
مری زیست کے کسی موڈ پر جو مجھے ملا تھا بہار میں

وہی اک امید ہے آخری اسی ایک شمع سے روشنی
کوئی اور اس کے سوا نہیں, میری خواہشوں کے دیار میں

وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں, کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے مجھے تیری بانہوں کے ہار میں

یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے یہ تو صرف بخت کی بات ہے
کوئی فاصلہ تو نہیں, تیری جیت میں میری ہار میں

ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے پرے بھی کوئی جہان ہے
کسی شام کوئی دیا جلا کسی دل جلے کے مزار میں

کسی چیز میں کوئی ذائقہ کوئی لطف باقی نہیں رہا
نہ تیری طلب کے گداز میں نہ میرے ہنر کے وقار میں

اعتبار ساجد
[Only registered and activated users can see links]




آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی
در بدر پھرائے گی رات پورے چاند کی

بام و در کی قید میں روح پھڑ پھڑائے گی
وحشتیں بڑھائے گی رات پورے چاند کی

جس طرف میں جاؤں گا میرے سائے کی طرح
میرے ساتھ جائے گی رات پورے چاند کی

یہ سمندری ہوا، اس پہ قرب کا نشہ
کتنے ظلم ڈھائے گی رات پورے چاند کی

ایسا لگ رہا ہے اب ، تو اگر بچھڑ گیا
لوٹ کر نہ آئے گی رات پورے چاند کی

قمقموں کے شہر میں اپنی اپنی سیج پر
صبح تک جگائے گی رات پورے چاند کی

آج ہی سے چھوڑ دے میرا ہاتھ ورنہ پھر
عمر بھر رلائے گی رات پورے چاند کی
اعتبار ساجد




----

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے، میں وہ ایک مُشت غبار ہوں

میرا رنگ روپ بگڑ گیا، میرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
جو چمن خزاں سے اجڑ گیا، میں اسی کی فصل بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
کوئی آ کے شمع جلائے کیوں، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں

میں نہیں ہوں نغمہ، جاں فزا، مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
میں بڑے ہی روگ کی ہوں صدا، میں بڑے دکھوں کی پکار ہوں

بہادر شاہ ظفر


----

یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا

غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا

امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا

ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا

حسرت چراغ حسن

[Only registered and activated users can see links]



ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات ایسی یاد نہ تُم کو آ سکے
تم نے ہمیں بُھلا دیا، ہم نہ تمہیں بھلا سکے

تم ہی اگر نہ سُن سکے قصئہ غم، سنے گا کون
کِس کی زباں کھلے گی پِھر ہم نہ اگر سنا سکے

ہوش میں آ چُکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم
بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے

رونقِ بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں
دِل میں شکائتیں رہیں لب نہ مگر ہلا سکے

شوقِ وصال ہے یہاں لب پہ سوال ہے یہاں
کس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے

ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھرسکے
سُن کے یقین کرسکے، جا کے انہیں سنا سکے

عجز سے اور بڑھ گئی برہمئیِ مزاجِ دوست
اَب وہ کرے علاجِ دوست جس کی سمجھ میں آ سکے

اہلِ زباں تو ہیں بہت، کوئی نہیں ہے اہلِ دل
کون تیری طرح حفیظ درد کے گیِت گا سکے

حفیظ جالندھری





----

ابھی تو میں جوان ہوں


ہوا بھی خوشگوار ہے
گُلوں پہ بھی نکھار ہے
ترنّمِ ہزار ہے
بہار پھر بہار ہے
کہاں چلا ہے ساقیا
اِدھر تو لوٹ اِدھر تو آ
ارے یہ دیکھتا ہے کیا
اُٹھا سُبو، سبُو اٹھا
سبو اٹھا پیالہ بھر
پیالہ بھر کے دے ادھر
چمن کی سمت کر نظر
سماں تو دیکھ بے خبر
وہ کالی کالی بدلیاں
افق پہ ہوگئیں عیاں
وہ اک ہجوم میکشاں
ہے سوئیے میکدہ رواں
یہ کیا گماں ہے بدگماں
سمجھ نہ مجھ کو ناتواں
خیالِ زہد ابھی کہاں
ابھی تو میں جوان ہوں
نہ غم کشور و بست کا
بلند کا نہ پست کا
نہ بو د کا نہ ہست کا
نہ وعدئہ الَست کا
اُمید اور یاس گُم
حواس گُم، قیاس گُم
نظر سے آس پاس گُم
ہُما ، بُجز گلاس گُم
نہ مے میں کچھ رمی رہے
قدح سے ہمدمی رہے
نشست یہ جمی رہے
یہی ہما ہمی رہے
وہ راگ چھیڑ مطُربا
طرب فزا، الم رُبا
اثر صدائے ساز کا
جگر میں آگ دے لگا
ہر ایک لب پہ ہو صدا
نہ ہاتھ روک ساقیا
پلائے جا پلائے جا
ابھی تو میں جوان ہوں

(حفیظ جالندھری)

[Only registered and activated users can see links]


بھولے سے محبّت ّکر بیٹھا ، ناداں تھا بیچارا ، دل ہی تو ہے
ہر دل سے خطا ہو جاتی ہے ، بگڑو نا خدا را دل ہی تو ہے

اس طرح نگاہیں مت پھیرو ، ایسا نہ ہو دھڑکن رک جائے
سینے میں کوئی پتھر تو نہیں ، احساس کا مارا دل ہی تو ہے

جزبات بھی ہندو ہوتے ہیں ، چاہت بھی مسلماں ہوتی ہے
دنیا کا اشارہ تھا ، لیکن سمجھا نہ اشارہ ، دل ہی تو ہے

بیداد گروں کی ٹھوکر سے ، سب خواب سہانے چُور ہوئے
اب دل کا سہارا غم ہی تو ہے، اب غم کا سہارا دل ہی تو ہے

ساحر لدھیانوی


----

مرے گیت

مرے سرکش ترانے سن کر دنیا یہ سمجھتی ہے
کہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں*سے نفرت ہے

مجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہے
مری فطرت کو خوں ریزی کے افسانوں سے رغبت ہے

مری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کی
مرا محبوب نغمہ شورِ آہنگِ بغاوت ہے

مگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کو
میں*جب تاروں* پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوں

تصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیں
تو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوں

کوئی خوابوں میں* خوابیدہ امنگوں*کو جگاتی ہے
تو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں *پاتا ہوں

میں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہے
مرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں*سکتا

مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے
مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا

جواں* ہوں میں، جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہے
مری باتوں* میں رنگ پارسائی ہو نہیں*سکتا

مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے، تو اتنی ہے
کہ جب میں*دیکھتا ہوں*بھوک کے مارے انسانو*ں* کو

غریبوں، مفلسوں*کو بےسکوں*کو بے سہاروں*کو
سسکتی نازنینوں کو، تڑپتے نوجوانوں کو

حکومت کے تشدد کو، امارت کے تکبر کو
کسی کے چیتھڑوں کو، اور شہنشاہی خزانوں کو

تو دل تابِ بزم عشرت لا نہیں سکتا
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا

ساحر لدھیانوی
[Only registered and activated users can see links]

----

بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں
رنگ میں ڈوبی ہوئی ، نیند سے بھاری آنکھیں

میری ہر سوچ نے ، ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں
جب سے دیکھا ہے تمہیں ، تب سے سراہا ہے تمہیں
بس گئی ہیں میری آنکھوں میں ، تمہاری آنکھیں

تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں
تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں
کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں

جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے
تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے
اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں


ساحر لدھیانوی
[Only registered and activated users can see links]


رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کرو
یہ مُرادوں کی حسین، رات کسے پیش کروں

میں نے جذبات نبھائے ہیں اصولوں کی جگہ
اپنے ارمان پرو لایا ہوں پُھولوں کی جگہ
تیرے سہرے کی یہ سوغات کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

یہ مرے شعر مرے آخری نذرانے میں
میں ان اپنوں میں ہوں جو آج سے بیگانے ہیں
بے تعلق سی ملاقات کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

سُرخ جوڑے کی تب و تاب مبارک ہو تجھے
تیری آنکھوں کا نیا خواب مبارک ہو تجھے
میں یہ خواہش یہ خیالات کِسے پیش کروں
یہ مرادوں کی حَسیں رات کسے پیش کروں

کون کہتا ہے کہ چاہت پہ سبھی کا حق ہے
تو جسے چاہے ترا پیار اسی کا حق ہے
مجھ سے کہہ دے میں ترا ہاتھ کسے پیش کروں
یہ مُرادوں کی حسیں رات کسے پیش کروں

ساحر لدھیانوی
[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
April 19th, 2010, 08:15 AM
تمہاری ڈائری میں لکھا وہ نام کس کا ہے
بڑے ادب سے لکھا وہ سلام کس کا ہے

جو اشعار پڑھ کے جناب مسکرا رہے تھے
کیا پوچھ سکتا ہوں میں، وہ کلام کس کا ہے

تمہاری پرواز تو بلندیوں کو عبور کرتی رہی
تمہارے دل کو جو چھو گیا وہ مقام کس کا ہے

چشم بد دور! بڑے بن ٹھن کے بیٹھے ہو آج
منتظر نگاہوں میں چھپا یہ اہتمام کس کا ہے

ہاتھوں میں اُٹھاتے ہو تو کبھی سینے لگاتے ہو
کچھ بتلا بھی دو پیام رساں کون ہے پیام کس کا ہے

kamrankhan143
April 19th, 2010, 01:56 PM
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو۔
ہائے مر جائیں گے
ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
آج جانے کی ضد نہ کرو

تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمھیں
جان جاتی ہے جب اٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر میری جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
ہائے مر جائیں گے
ہم تو مٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو

کتنا معصوم رنگین ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں
روک لو آج کی رات کو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو



سنو اچھا نہیں لگتا
مجھے اچھا نہیں لگتا

کرے جب تذکرہ کوئی ۔۔۔ کرے جب تبصرہ کوئی
تمہاری ذات کو کھوجے۔۔۔۔ تمہاری بات کو سوچے

مجھے اچھا نہیں لگتا

کہ کوئی دوسرا دیکھے ۔۔۔۔۔ تمہاری شربتی آنکھیں
لب ورخسار اور پلکیں۔۔۔۔۔۔ سیاہ لمبی گھنی زلفیں

مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہاری مسکراہٹ پر ۔۔۔ ہزاروں لوگ مرتے ہیں
تمہاری ایک آہٹ پر ۔۔۔۔ہزاروں دل دھڑکتے ہیں

کسی کا تم پہ یوں مرنا
مجھے اچھا نہیں لگتا

ہوا گزرے تمہیں چھو کر۔۔۔۔ نہ ہوگا ضبط یہ مجھ سے
کرے گستاخی کوئی تم سے۔۔۔۔ تمہاری زلفیں بکھر جائیں

مجھے اچھا نہیں لگتا

کہ تم کو پھول بھی دیکھیں۔۔۔۔ تمہاری باس سے مہکیں
کہ چندا بھی تیرے رخ کو ۔۔۔۔۔ نظر بھر کے کبھی دیکھے

مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔
اے سنو !!!
مجھے اچھا نہیں لگتا


[Only registered and activated users can see links]

اگر کبھی میری یاد آۓ
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخل فلک سے اتر کر
تمہارے قدموں میں آ گرے تو
یہ جان لینا
وہ استعارہ تھا میرے دل کا
اوراگرکبھی میری یاد نہ آۓ!
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے؟
کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اس کی دیوار جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جاۓ!!
اگر کبھی میری یاد آۓ
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خشبووں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینے میں تمہیں ملوں گا
اوراگر ستاروں میں، گلابوں میں اوراوس قطروں میں
نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا

[Only registered and activated users can see links]
(امجد اسلام امجد)



زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا مجھ کو
یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے
اک ذرا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر
میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے
تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے
میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے
میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں
میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں*سے چرایا ہے تجھے
پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں*میں چراغ
جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے
تجھ کو چھو لوں*تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو
دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے
تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا


[Only registered and activated users can see links]




یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی
یہی ہم سوچتے تھے آج سے کچھ سال پہلے بھی

ردائے خواب سے باہر نہیں نکلے ہیں ہم اب تک
ستاروں سے بھری اوڑھے ہوئے تھے شال پہلے بھی

اسی دامن سے آنسو پونچھتے تھے خلوتوں میں ہم
اس مٹی میں رلتے تھے ہمارے لال پہلے بھی

درو دیوار ہی سنتے تھے سارے شہر کے دکھڑے
یہی تھا دامعینِ محترم کا کال پہلے بھی

یہی دامن تھا جس کی دھجیوں پر شعر لکھتے تھے
ہمارا شہر میں تھا میر جیسا حال پہلے بھی

یہ عشق آرزو پہلے بھی گلیوں میں پھراتا تھا
گلے کا طوق تھا کم بخت یہ جنجال پہلے بھی

نئی اب کون سی حالات کی صورت نکل آئی
یہی ہم تھے ، یہی تم تھے ، یہی احوال پہلے بھی

اعتبار ساجد

[Only registered and activated users can see links]


یاد

اس موسم ميں جتنے پھول کھليں گے
ان ميں تيري ياد کي خوشبو ہر سو روشن ہوگي
پتہ پتہ بھولے بسرے رنگوں کي تصوير بناتا گزرے گا
اک ياد جگاتا گزرے گا

اس موسم ميں جتنے تارے آسمان پہ ظاہر ہوں گے
ان ميں تيري ياد کا پيکر منظر عرياں ہوگا
تيري جھل مل ياد کا چہرا روپ دکھاتا گزرے گا

اس موسم ميں
دل دنيا ميں جو بھي آہٹ ہوگي
اس ميں تيري ياد کا سايا گيت کي صورت ڈھل جائے گا
شبنم سے آواز ملا کر کلياں اس کو دوہرائيں گي
تيري ياد کي سن گن لينے چاند ميرے گھر اترے گا

آنکھيں پھول بچھائيں گي
اپني ياد کي خوشبو کو دان کرو اور اپنے دل ميں آنے دو
يا ميري جھولي کو بھر دو يا مجھ کو مرجانے دو


(امجد اسلام امجد)

[Only registered and activated users can see links]

ہیں آباد لاکھوں جہاں میرے دل میں
کبھی آؤ دامن کشاں میرے دل میں

اترتی ہے دھیرے سے راتوں کی چپ میں
ترے روپ کی کہکشاں میرے دل میں

اُبھرتی ہیں راہوں سے کرنوں کی لہریں
سسکتی ہیں پرچھائیاں میرے دل میں

وہی نور کی بارشیں کاخ و کو پر
وہی جھٹپٹے کا سماں میرے دل میں

زمانے کے لب پر زمانے کی باتیں
مری دکھ بھری داستاں میرے دل میں

کوئی کیا رہے گا جہانِ فنا میں
رہو تو رہو جاوداں میرے دل میں

[Only registered and activated users can see links]

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے

خدا مجھے یہ تحمل یہ حوصلہ بھی نہ دے

مرے بیان صفائی کے درمیاں مت بول

سنے بغیر مجھے اپنا فیصلہ بھی نہ دے

یہ عمر میں نے ترے نام بے طلب لکھ دی

بھلے سے دامن دل میں کہیں جگہ بھی نہ دے

یہ دن بھی آئیں گے ایسا کبھی نہ سوچا تھا

وہ مجھ کو دیکھ بھی لے اور مسکرا بھی نہ دے


“ اعتبار ساجد“

[Only registered and activated users can see links]

یونہی سی ایک بات تھی اس کا ملال کیا کریں
میرِ خراب حال سا اپنا بھی حال کیا کریں

ایسی فضا کے قہر میں ، ایسی ہوا کے زہر میں
زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں

اور بہت سی الجھنیں طوق و رسن سے بڑھ کے ہیں
ذکر جمال کیا کریں ، فکرِ وصال کیاکریں

ڈھونڈ لئے ہیں چارہ گر، ہم نے دیارِ غیر میں
گھر میں ہمارا کون ہے ، گھر کا خیال کیا کریں

چنتے ہیں دل کی کرچیاں ، بکھری ہیں جو یہاں وہاں
ہونا تھا ایک دن یہی، رنجِ مآل کیا کریں


اعتبار ساجد



مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں


مرے ہم سفر ! تری نذر ہیں مری عمر بھر کی یہ دولتیں

مرے شعر ، میری صداقتیں ، مری دھڑکنیں ، مری چاہتیں

تجھے جذب کرلوں لہو میں میں کہ فراق کا نہ رہے خطر

تری دھڑکنوں میں اتار دوں میں یہ خواب خواب رفاقتیں

یہ ردائے جاں تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے

تجھے دکھ نہ دیں مرے جیتے جی سرِ دشت غم کی تمازتیں

مری صبح تیری صدا سے ہو ، مری شام تیری ضیا سے ہو

یہی طرز پرسشِ دل رکھیں تری خوشبوں کی سفارتیں

کوئی ایسی بزم بہار ہو میں جہاں یقین دلا سکوں

کہ ترا ہی نام ہے فصلِ گل ، کہ تجھی سے ہیں یہ کرامتیں

ترا قرض ہیں مرے روز و شب ، مرے پاس اپنا تو کچھ نہیں

مری روح ، میری متاعِ فن ، مرے سانس تیری امانتیں


اعتبار ساجد



[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
May 9th, 2010, 08:13 AM
ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ

تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر را ہے مرا سر گردشِ ایا م کے ساتھ

سن کر نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں!
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ

پرورش پاتی ہے دامانِ رفاقت میں ریا
اہلِ عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ

کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دلِ ناکام کے ساتھ

یاس آئینہ ء امید میں نقاشِ الم
پختہ کاری کا تعلق ہوسِ خام کے ساتھ

سلسلہ تونگر کے شبستاں میں چراغانِ بہشت
وعدہ ء خلدِ بریں کشتۂ آلام کے ساتھ

کون معشوق ہے ، کیا عشق ہے ، سودا کیا ہے؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا کیا ہے

[Only registered and activated users can see links]

احسان دانش


---
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے

دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے

یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے


[Only registered and activated users can see links]


دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار میرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

صبح دم چھوڑ گیا نکہت گل کی صورت
رات کو غنچہ دل میں سمٹ آنے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو ایک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا

کیا خبر تھی جو میر ی جاں میں گُھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سر دار بھی لانے والا

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

[Only registered and activated users can see links] 0uid%25201188124b.jpg
احمد فراز



---

waleed mughal
May 9th, 2010, 08:15 AM
Nice yaar

kamrankhan143
May 9th, 2010, 08:15 AM
خود سے روٹھوں تو کئی روز نہ خود سے بولوں
پھر کسی درد کی دیوار سے لگ کے رو لوں

تو سمندر ہے تو پھر اپنی سخاوت بھی دِکھا
کیا ضروری ہے کہ میں پیاس کا دامن کھولوں

میں کہ اِک صبر کا صحرا نظر آتا ہوں تجھے
تو جو چاہے تو تیرے واسطے دریا رو لوں

اور معیار رفاقت کے ہیں ایسے بھی نہیں
جو محبت سے ملے ساتھ اُسی کے ہو لوں

خود کو عمروں سے مقفل کئے بیٹھا ہوں فراز
وہ کہ ابھی آئے تو خلوت کدئہ جاں کھولوں

احمد فراز


---


تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ تیرے دوستوں میں ہوں

مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل
میں سنگِ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں

تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں
بے درد میں ابھی انہی گہرائیوں میں ہوں

اے یارِ خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں
کب سے اداسیوں کے گھنے جنگلوں میں ہوں

تو لُوٹ کر بھی اہل تمنا کو خوش نہیں
میں لٹ کے بھی وفا کے انہیں قافلوں میں ہوں

بدلا نہ میرے بعد بھی موضوعِ گفتگو
میں جا چکا تھا پھر بھی تیری محفلوں میں ہوں

مجھ سے بچھڑ کر تو بھی تو روئے گا عمر بھر
یہ سوچ لے کہ میں تیری خواہشوں میں ہوں

تو ہنس رہا ہے مجھ پہ میرا حال دیکھ کر
اور پھر بھی میں شریک تیرے قہقہوں میں ہوں

خود بھی مثالِ لالۂ صحرا لہو لہو
اور خود فراز اپنے تماشائیوں میں ہوں

[Only registered and activated users can see links]

جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں* بھی نہ ہو اور تم بدل جانا

یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا تیرے پیرہن کا جل جانا

تم کرو تو کوئی درماں *یہ وقت آ پہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا

ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا

سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں*
مورخوں نے مقابر کو بھی محل جانا

یہ کیا کہ تو بھی اس ساعت زوال میں*ہے
کہ جس طرح *ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا

ہر ایک عشق کے بعد اور اُس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا

[Only registered and activated users can see links]

خامشی رنگ ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے

خامشی رنگ ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے
ایک تصویر بنی جاتی ہے دھیرے دھیرے
وقت کے سیل میں یہ خواب سی بہتی ساعت
خود ہی تعبیر ہوئی جاتی ہے دھیرے دھیرے
زندگی تجھ کو کوئی کیسے کرے تیز قدم
باد تلخ تو پی جاتی ہے دھیرے دھیرے
پوچھ مت، کیسے سنبھالی ہے بدن کی دیوار
ریت گرتی ہی چلی جاتی ہے دھیرے دھیرے
زندگی کی جو بنائی تھی خیالی تصویر
اس پہ اب گرد جمی جاتی ہے دھیرے دھیرے
وہ جو اک خواہشِ خوش بستہ تھی اپنے جی میں
برف کی طرح گھلی جاتی ہے دھیرے دھیرے
تم نے اقرارِ محبت کو زباں کھولی ہے
اور یہاں سانس رکی جاتی ہے دھیرے دھیرے


طارق بٹ


[Only registered and activated users can see links]

کیا روگ پال بیٹھے محبت کے شوق میں
دنیا سے کٹ گئے تری قربت کے شوق میں

گزرے ھیں*کتنے لوگ ہمیں*روندتے ھوئے
پامال ھو گئے ھیں رفاقت کے شوق میں

خوش کر رہی ھے آتشِ خانہ پڑوس کی
گھر اپنا جل نہ جائے عداوت کے شوق میں

"پھرتے ھیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں"
بدنام لوگ ھو گیے ھیں شہرت کے شوق میں

دیکھ اے عروس شعر وادب اہلِ شوق کو
کیا حال کر لیا تری خدمت کے شوق میں

اب وہ بھی ھم کو جانتے پہچانتے نہیں
رسواھوئے ھیں جن کی وکالت کے شوق میں

---

آنکھوں سے دور ہو گیا جو جھوٹ بول کے
میں راہ دیکھتی رہی دروازہ کھول کے

اب سوچتی ہوں میں کہ یہی میری بھول تھی
دیکھا نہیں جو اس کو ترازو میں تول کے

وہ جلد باز اس طرح واپس ہوا کہ ہم
مفہوم بھی سمجھ نہ سکے میل جول کے

اس بےوفا کے واسطے خود کو کروں تباہ
پاگل تو میں نہیں کہ پیوں زہر گھول کے

چاروں طرف ہے ایک اندھیرا سا اے انا
اس کے بغیر لگتے ہیں دن تارکول کے



(انا دہلوی)

---


اجبنی شہر کے اجنبی راستے میرے تنہائی پر مسکراتے رہے
میں بہت دیر تک یونہی چلتا رہا تم بہت دیر تک یاد آتے رہے

زخم جب بھی کوئی ذہن و دل پر لگا زندگی کی طرف اک دریچہ کھلا
ہم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں چوٹ کھاتے رہے گنگناتے رہے

زہر ملتا رہا زہر پیتے رہے روز مرتے رہے روز جیتے رہے
زندگی بھی ہمیں آزماتی رہی اور ہم بھی اسے آزماتے رہے

سخت حالات کے تیز طوفان میں گھر گیا تھا ہمارا جنوں وفا
ہم چراغ تمنا جلاتے رہے وہ چراغ تمنا بجھاتے رہے

کل کچھ ایسا ہوا میں بہت تھک گیا اس لیے سن کے بھی ان سنی کر گیا
کتنی یادوں کے بھٹکے ہوئے کارواں دل کے زخموں کے در کھٹکھاتے رہے


[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
May 11th, 2010, 08:49 AM
کبھی تونے خود بھی سوچا کہ یہ پیاس ھے تو کیوں ھے
تجھے پا کے بھی مرادل جو اداس ھے تو کیوں ھے

مجھے کیوں عزیز تر ھے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ھوائے شام ہجراں مجھے راس ھے تو کیوں ھے

تجھے کھو کے سوچتا ھون مرے دامن طلب میں
کوئی خواب ھے تو کیوں ھے کوئی آس ھے تو کیوں ھے

میں اجر کے بھی ھوں تیرا تو بچھڑ کے بھی ھے میرا
یہ یقین ھے تو کیوں ھے یہ قیاس ھے تو کیوں ھے

مرے تن برہنہ دشمن اسی غم میں*گھل رھے ھیں
کہ مرے بدن پہ سالم یہ لباس ھے تو کیوں ھے

کبھی پوچھ اس کے دل سے کہ یہ خوش مزاج شاعر
بہت اپنی شاعری میں جو اداس ھے تو کیوں ھے

ترا کس نے دل بجھایا مرے اعتبار ساجد
یہ چراغ ہجر اب تک ترے پاس ھے تو کیوں ھے



اعتبار ساجد

----



یہ نہیں کہ سارے جہان میں مجھے ھمسفر ہی نہیں*ملا
سبھی اعتبار کے ساتھ تھے کوئی معتبر ہی نہیں ملا

مری نبض چھو کے تو دیکھتا کہ شکستہ دل کی صدا ھے کیا
مرا لاعلاج مرض نہ تھا کوئی چارہ گر ہی نہیں ملا

کبھی شہر چھان لئے گئے کہیں*خیمے تان لئے گئے
جسے دیکھتا تھا میں*خواب میں مجھے وہ نگر ہی نہیں ملا

مجھے وہ مکیں ہی نہیں ملے جنہیں میری ذات سے پیار ھو
جسے اپنا گھر میں سمجھ سکوں مجھے ایسا گھر ہی نہیں ملا

رھا مضطرب مرا شوق بھی مرا سجدہ کرنے کا ذوق بھی
مجھے سنگ رہ تو بہت ملے ترا سنگ در ہی نہیں ملا

سبھی اپنے اپنے گروہ کے غم آرزو کا شکار تھے
کسے میں دکھاتا یہ زخم دل کوئی دیدہ ور ہی نہیں ملا

----

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ھے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ھے

یہ تجھ کو جاگتے رھنے کا شوق کب سے ھوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ھے

وہ مسکرا کے وسوسوں میں*ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا ھے

ترے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
کہ شغل شب تو ستارے شمار کرنا ھے

خدا خیر یہ کوئی ضد کہ شوق ھے محسن
خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا ھے

محسن نقوی

[Only registered and activated users can see links]



درد ھوتے ھیں کئی دل میں چھپانے کے لئے
سب کے سب آنسو نہیں*ھوتے بہانے کے لئے

عمر تنہا کاٹ دی وعدہ نبھانے کے لئے
عہد باندھا تھا کسی نے آزمانے کے لئے

یہ قفس ھے گھر کی زیبائش بڑھانے کے لئے
یہ پرندے تو نہیں ھیں آشیانے کے لئے

کچھ دیے دیوار پر رکھنے ھیں وقت انتظار
کچھ دیے لایا ھوں پلکوں پر جلانے کے لئے

وہ بظاہر تو ملا تھا ایک لمحے بھر کو عدیم
عمر چاھیے اس کو بھلانے کے لئے

لوگ زیر خاک بھی تو ڈوب جاتے ھیں عدیم
اک سمندر ہی نہیں ھے ڈوب جانے کے لئے

تو پس خندہ لبی آہوں کی آوازیں تو سن
یہ ہنسی تو آئی ھے آنسو چھپانے کے لئے

کوئی غم ہو کوئی دکھ ہو درد کوئی ہو عدیم
مسکرانا پڑ ہی جاتا ھے زمانے کے لیے

[Only registered and activated users can see links]




دیکھو پھر تم ہمیں رلانے بیٹھ گئے ھو
کاغذ لے کر چند پرانے بیٹھ گئے ھو

پہلے اپنی سانسوں کو ترتیب تو دے لو
دل کا کیا احوال سنانے بیٹھ گئے ھو

تھکن سے چور بدن کا بوجھ نہیں اٹھتا
اس کے لوٹ آنے کے بہانے بیٹھ گئے ھو

سایہ دار درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں
سورج پر الزام لگانے بیٹھ گیے ھو

ابھی ابھی گزرے ھیں پتھر مارے والے
پھر اس راہ پہ پتھر کھانے بیٹھ گئے ھو

پھر کاغذ اور قلم سے ناطہ جوڑ لیا ھے
دیوانے! کیا حشر اٹھانے بیٹھ گئے ھو


[Only registered and activated users can see links]




جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ ویران ھوا
اپنا کیا ھے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ھوا

یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رھا ھوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ھوا

صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ھوئیں
مفت میں ھم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ھوا

اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ھوا


یوں بھی کم آمیز تھا محسن وہ اس شہر کےلوگوں میں
لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ھوا


[Only registered and activated users can see links]


زمین جب بھی ھوئی کربلا ھمارے لئے
تو آسمان سے اترا خدا ھمارے لئے

انھیں*غرور کہ رکھتے ھیں طاقت وکثرت
ھمیں یہ ناز بہت ھے خدا ھمارے لئے

تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے
وہ آگ پھول ھے وہ کیمیا ھمارے لئے

بس ایک لو میں اسی کے گرد گھومتےھیں
جلا رکھا ھے جو اس نے دیا ھمارے لئے

وہ جس پہ رات ستارے لئے اترتی ھے
وہ ایک شخص دعا ہی دعا ھمارے لئے

وہ نور نور دمکتا ھوا سا اک چہرہ
وہ آئینوں میں*حیاہی حیا ھمارے لئے

دردود پڑھتے ھوئے اس کی دید کو نکلیں
توصبح پھول بچھائے صبا ھمارے لئے

عجب کیفیت جذب وحال رکھتی ھے
تمہارے شہر کی آب و ہوا ھمارے لئے

دئیے جلائے ھوئے ساتھ ساتھ رھتی ھے
تمہاری یاد تمہاری دعا ھمارے لئے

زمین ھے نہ زماں نیند ھے نہ بیداری
وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ھمارے لئے

سخن وروں میں کہیں ایک ھم بھی تھےلیکن
سخن کا اور ہی تھا ذائقہ ھمارے لئے


عبیداللہ علیم


----

فقیر بن کر تم ان کے در پر ہزار دھونی رما کے بیٹھو
جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو

اے ان کی محفل میں آنے والو اے سو دو سو دا بتانے والو
جو ان کی محفل میں آکے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیتھو

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے مگر کرد گے نباہ ہم سے
ذرا ملاؤ نگاہ ہم سے ، ہمارے پہلو میں آکے بیٹھو

جنوں پرانا ہے عاشقوں کا جو یہ بہانہ ہے عاشقوں کا
تو اک ٹھکانا ہے عاشقوں کا حضور جنگل میں جا کے بیٹھو

ہمیں دکھاؤ زرد چہرا ، لیے یہ وحشت کی گرد چہرا
رہے گا تصویر درد چہرا جو روگ ایسے لگا کے بیٹھو

جناب انشا یہ عاشقی ہے جناب انشا یہ زندگی ہے
جناب انشا جو ہے یہی ہے نہ اس سے دامن چھڑا کے بیٹھو


ابن انشا

----

میں ازل سے تمہاری ہوں پیارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ابد تک تمہاری رہوں گی

مجھ کو چھوڑا ہے کس کے سہارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے جاؤ گے ،جانے نہ دوں گی

آسماں پر ستارے کہاں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔اور جو ہیں وہ ہمارے کہاں ہیں

زندگی تازگی کھو چکی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات ہونی تھی جو ہو چکی ہے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابن انشا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔







ان نینوں میں پیت بھری ہے ان کی انوکھی ریت
کھوٹے کا کبھی کھوٹ نہ دیکھیں دیکھیں پیت ہی پیت

کاگوں کو ابھی نوچ کھلاؤں پاؤں جو بگڑے طور
یہ نیناں کچھ ا ور جو دیکھیں پیت بنا کچھ ا ور

پیاروں کی جہاں سنگیت دیکھے جم کر رہے نگاہ
تم من کو مرے صحبت انکی کعبے کی درگاہ

دن بھر دیکھیں سیر نہ ہو ویں پیت کو ان کی پیاس
پیت جو پائیں تب کہیں آئیں لو ٹ کے میرے پاس

تیغیں پیت کے دن میں ہاریں نینوں کی وہاں جیت
کس کس کا دکھ درد اپنائیں ان کی انوکھی ریت

[Only registered and activated users can see links]

ڈرتے ڈرتے آج کسی کو دل کا بھید بتایا ہے
اتنے دنوں کے بعد لبوں پر نام کسی کا آیا ہے

اب یہ داغ بھی سورج بن کر انبر انبر چمکے گا
جس کو ہم نے دامن دل میں اتنی عمر چھپایا ہے

کون کہے گا وہ کان ملاحت چارہ درد محبت ہے
چارہ گری کی آرٹیں جس نے خود کو روگ لگایا ہے

ٹوٹ گیا جب دل کا رشتہ اب کیوں ریزے چنتی ہو
ریزوں سے بھی کبھی کسی نے شیشہ پھر سے بنایا ہے



ابن انشا

Idreesia
May 13th, 2010, 08:06 AM
zaberdast

InNoCeNt GiRL
May 13th, 2010, 08:20 AM
Very nice collection

InNoCeNt GiRL
May 13th, 2010, 08:22 AM
Boht khoooob
zbrdst collection...

MARWAT
May 13th, 2010, 08:54 AM
Wah kamran kia baat hay.zaberdast selections hay....thanks for sharing

Irfan Hassan
May 13th, 2010, 09:06 AM
VERY NICE WORK
KAMRAN KHAN ROORa

kamrankhan143
May 13th, 2010, 01:52 PM
zaberdast

thx 4 liking

:teaching:


Boht khoooob
zbrdst collection...

thx 4 liking

:teaching:

thx for all of u for liking it

kamrankhan143
May 16th, 2010, 07:30 AM
ماں جیسی ہستی دُنیامیں ہے کہاں
نہیں ملے گابدل چاہے ڈھونڈلے ساراجہاں
شفقت بھراتیراچہرا
جھکلے محبت کاجذبہ
قائم رہے سایہ تیرا
قدموں میں ہے جنت کاپتہ
ہردُکھ کوخودسہامیرے لئے تونے
ماں جیسی ہستی دُنیامیں ہے کہاں
نہیں ملے گابدل چاہے ڈھونڈلے ساراجہاں
جب بھی وہ دن یادآتے ہیں
آنکھیں میری بھرآتی ہے
کہ میری سُکھ کی خاطر
تونے کتنی راتیں جاگی ہیں
غصہ تھاجن آنکھوں میں
وہی میری یادمیں روئی ہیں
جوقرض ہے تیری محبت کا
کیاکرپائیں گئے ہم وہ ادا
ہردُکھ کوخودسہامیرے لئے تونے
ماں جیسی ہستی دُنیامیں ہے کہاں
نہیں ملے گابدل چاہے ڈھونڈلے ساراجہاں



تجھ سے پہلے جو تمنا تھی، وہی ہے اب تک
تجھ کو پا کر بھی کسی شے کی کمی ہے اب تک

ہمیں جینا ہے ابھی، نِت نئے الزام نہ دو
ہم نے کب بات تمہیں دل کی کہی ہے اب تک

تجھ سے مل کر بھی تیرے ہجر کے صدمے نہ گئے
اس مسّرت میں بھی احساسِ غمی ہے اب تک

ایسی تنہائی کہ آنسو بھی نہیں آنکھوں میں
اور یہ رات کہ تاروں سے بھری ہے اب تک

کس کو سمجھائیں کہ ایوب بڑی چیز تھے ہم
ہو گئے خاک مگر نام وہی ہے اب تک

kamrankhan143
May 17th, 2010, 06:54 AM
تو اگر ملتا خوابوں کا نگر کھلتا
تو اگر ملتا تو ہر زخم جگر سلتا

تجھ سے مل کر میرا دل پرسکوں رہتا
تو اگر تو ملتا میرے دل کو گھر ملتا

دل کی حسرت نے ایک خواہش کی
تو اگر ملتا مجھے شام و سحر ملتا

شام کے جیسی اداس آنکھوں کو
تو اگر ملتا ستاروں کا سفر ملتا

سوئے خوابوں کو نئی منزل ملتی
تو اگر ملتا تو اس دل کا نگر کھلتا


تیرا ہر روپ اپنے ہاتھوں سے سجاتے
تیری شبیہ تجھ سے بھی رنگین بناتے

افسوس کہ ہم نے مصور گری نہیں سیکھی
ورنہ تیری تصویر سے اپنا دیوان سجاتے

لفظوں کے نگینوں سے نقاشی کیا کرتے
حسین سے حسیں تر تیری تصویر بناتے

پہروں تجھے اپنی نظر کے سامنے رکھتے
تیرے ہر روپ کو اپنی چاہت سے سجاتے

ہم اپنے دل کا مدعا تیری نظر سے پوچھتے
اور اپنے دل سے تیرے دل کا مدعا جان جاتے


سکون قلب کی خاطر تیرے کوچے میں آئے تھے
تمہیں اپنا بنائیں گے یہ سوچ کر مسکرائے تھے

اس زندگی سے ایک دلنشیں لمحہ پانے کے لئے
کتنے ستم جھیلے تھے کیا کیا دکھ اٹھائے تھے

ان آنکھوں نے دن رات انتظار کا کرب دیکھا ہے
دل میں بھی کسی کی یاد نے کانٹے چبھائے تھے

گرچہ کسی کا ملتنا ممکن نہ تھا مگر پھر بھی
دل نے امیدوں کے دیئے ہر شب جلائے تھے

اشکبار آنکھوں نے دل سے یہ سوال بارہا پوچھا ہے
کہ بہار آنے سے پہلے سرخ پھول کیوں کھلائے تھے

میں نہیں اب تو کرے گا مجھ سے اظہار وفا
آخر بدل ہی جائے گا یہ تیرا انکار وفا

بھول کر اپنی انا اپنی جفا اے دل شکن
چھوڑ کر اپنی روش کر لے اقرار وفا

جب تک تمہارے پاس ہیں اپنی قدر نہ پائیں گے
دور ہو جائیں گے تب سمجھو گے دیدار وفا

شہنائی میں تنہائی میں صحرا میں گلستان میں
یاد آئیں گے تمہیں ہم جیسے غم خوار وفا

کسی دل میں سوئی محبت جگانے کیلئے
پہلے اپنے دل کو کرتے ہیں بیدار وفا


وہ جو دل میں تیرا مقام ہے
کسی اور کو وہ دیا نہیں

وہ جو رشتہ تجھ سے ہی بن گیا
کسی اور سے وہ بنا نہیں

وہ جو پیار تجھ سے ہوگیا
کسی اور سے وہ ہوا نہیں

وہ جو راز تجھ سے ہی کہہ دیا
کسی اور سے وہ کہا نہیں

وہ جو سکھ ملا تیری زات سے
کسی اور سے وہ ملا نہیں

تو بسا ہے آنکھوں میں جس طرح
کوئی ایسے بسا نہیں

تو ہوا ہے جتنا قریب تر
کوئی اور اتنا ہوا ہی نہیں

تیرا نام ہے دل میں جس طر ح
کوئی اور نام ایسے لکھا ہی نہیں

کھودوں گا قبراور تیری یادوں کو دفن کر دوں گا
جو تم نے کیے تھے مجھ سے ان وعدوں کو دفن کر دوں گا

جو رکھے ہیں میں نے اب تک کتابوں میں چھپا کر
تیرے دیے ہوئے ان گلابوں کو دفن کر دوں گا

اب چھوڑ دوں گا عادت گھٹ گھٹ کے یونہی جینے کی
میں تیرے دیے ہوئے سب عذابوں کو دفن کر دوں گا

اب چھوڑ دوں گا عادت میخانے میں جانے کی
تیرے ہجر میں جو پیتا تھا ان شرابوں کو دفن کر دوں گا

اب سویا کروں گا میں بھی چین کی نیند
جو روز چلے آتے تھے ان خوابوں کو دفن کر دوں گا

کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے
شب ہو کہ سویرا ہو نور ہو کہ اندھیرا ہو

وہ جب آتا ہے دل کا سونا آنگن مہک سا جاتا ہے
میرے بے رنگ چہرے پر سنہرے رنگ بکھراتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے

افق کے نیلگوں ہلکے گلابی شوخ رنگوں اور
گلوں کی پرسکوں خوشبو کی میٹھی تازگی لے کر

وہ جب آتا ہے میرے دل کے گلشن کو سجاتا ہے
وہ میری روح مہکاتا، بجھا چہرہ کھلاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے

میرے سکوت کی گہری خاموشی توڑنے والا
میری محروم ہنگامہ سماعت کے لئے کوئی

سکوں پرور دل آفریں سریلا گیت گاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے

میری سوئی ہوئی قسمت کو وہ آکر جگاتا ہے
میرے گمنام جیون کو میری گمنام ہستی کو

نگاہوں میں سما کر کے نئی دنیا دکھاتا ہے
کوئی حسیں سا چہرہ خیالوں میں در آتا ہے

تیری قدرت کے نشاں ہر جگہ یہاں وہاں
نظر گئی جہاں جہاں پائے گئے وہاں وہاں

مہر میں التقات میں قسمت کی عنایات میں
زیست میں اموات میں قہر میں کرامات میں

ذرے میں کائنات میں آفات میں حاجات میں
دعاؤں مناجات میں فرصت کے لمحات میں

خورشید ماہتاب میں خوابوں میں خیالات میں
ان کہی ہر بات میں بیان میں جذبات میں

دھوپ میں برسات میں بہار میں باغات میں
اشجار و نباتات میں کوہسار و معدنیات میں

صحراؤں بحریات میں بن مانگے انعامات میں
دن میں کبھی رات میں موسم کی سوغات میں

نیند میں بیداری میں حقائق میں تصورات میں
یہ دل کرے کیا کیا پیاں پایا تجھے کہاں کہاں

نظر گئی جہاں جہاں پائے گئے وہاں وہاں
تیری قدرت کے نشاں ہر جگہ یہاں وہاں



بے جان یہ وجود میری جان مانگتے ہیں
یہ لوگ مجھے سے میری جان مانگتے ہیں

میرا ہر اختیار چھین لینے کی خواہش میں
میری روح کا ہیجان میری جان مانگتے ہیں

میں کارون بے درا کا ایک مسافر ہوں سراب
مجھ سے سفر کا سامان میری جان مانگتے ہیں

میری ذات پہ جس کا حق ہے وہ ایک تم ہو
سب کیوں میرا وجود میری جان مانگتے ہیں

اس شہر بے نوا کا میں بے اماں مسافر
میری وفا ایمان میری جان مانگتے ہیں

[Only registered and activated users can see links]


تم سے بڑھ کر کسی اور کی چاہت کیوں ہو گی
میرے دل کو محبت اور کسی سے کیوں ہو گی

جو تمہاری محبت دل کا تقاضا ہو جائے تو
پھر اس دل کو مطلوب کوئی شے کیوں ہوگی

مجھے خود سے بڑھ کر تیری چاہت ہو جائے
میرے دل کی تمنا اور کوئی پھر کیوں ہوگی

اخلاص و وفا کا مذہب جو اپنائے گا
تبلیغ محبت اسکی ادھوری کیوں ہوگی

میرا دین محبت عشق خدا ایمان وفا
میری عبادت اب نہ پوری کیوں ہوگی

تیرے خیال سے مہکتا ہے یہ دل
تیرا نام لے کے دھڑکتا ہے یہ دل

تم ہی صبح شام مذکور رہتے ہو
تمہیں یاد کر کے تڑپتا ہے یہ دل

تم کھو نہ جاؤ کہیں بھیڑ میں
یہی سوچتا ہے لرزتا ہے یہ دل

کسی مرغ بسمل کی طرح بھی
جدائی میں اکثر پھڑکتا ہے یہ دل

یہ محبت کی خاطر بنایا گیا ہے
اپنی حقیقت سمجھتا ہے یہ دل

جب تک دل میں یاد رہے گی
دل کی دنیا آباد رہے گی

یادوں کے اس صحرا میں
اک جوگن آزاد رہے گی

اپنی یادوں کے گلشن میں
فصل گل آباد رہے گی

جب تک دل میں یاد رہے گی
دل کی دنیا آباد رہے گی



جنون کم ہوا ستم ہوا ہم ہم نہیں رہے
غضب ہوا کہ اس ستم پہ ہم برہم نہیں ہوئے

تخّیل کی وہ تیزی اور خیالوں کی وہ روانی
چذبات کی وہ شدّت حسرت کی روانی

وہ ہجرت و فراغ کے اب غم نہیں رہے
جنون کم ہوا ستم ہوا ہم ہم نہیں رہے
غضب ہوا کہ اس ستم پہ ہم برہم نہیں ہوئے

وہ شوق کا تسلسل اور وہ محبت کی کہانی
وہ بات بات میں بیتی ہوئی یادوں کی زباتی

وہ صدیوں کا سفر لمحات کی طویل کہانی
اچانک دو دلوں کا ملنا اور مل کر پھر بچھڑ جانا

بچھڑ کر ملنے والی وہ خوشی کے ساتھ حیرانی
وہی طویل اور مختصر جیون کی کہانی
نئے انداز میں لکھی گئی وہ کہنہ کہانی

نڈھال روح شکستہ بدن اور دشت کا سفر
پیمار شوق کے لئے مگر مرہم نہیں رہے

جنون کم ہوا ستم ہوا ہم ہم نہیں رہے
عجب ہوا کہ اس ستم پہ ہم برہم نہیں رہے

kamrankhan143
May 18th, 2010, 12:14 PM
مجھے خلا ميں بھٹکنے کي آرزو ہي سہي

مجھے خلا ميں بھٹکنے کي آرزو ہي سہي
کہ تُو مِلے نہ مِلے تيري جستجو ہي سہي
قريب آ شبِ تنہائي تجھ سے پيار کريں
تمام دن کي تھکن کا علاج تُو ہي سہي
بڑے خلوص سے ملتا ہے جب بھي ملتا ہے
وہ بے وفا تو نہيں ہے بہانہ جُو ہي سہي
مگر وہ اَبر سمندر پہ کيوں برستا ہے؟
زمين بانجھ سہي خاک بے نمُو ہي سہي
تم اپنے داغ سرِ پيرہن کي بات کرو
ہمارا دامنِ صد چاک بے رفو ہي سہي
يہ ناز کم تو نہيں ہے کہ اُن سے مل آئے
وہ ايک پل کو سرِ راہ گفتگو ہي سہي
جو اپنے آپ سے شرمائے کس سے بات کرے ؟
ميں آئينے کي طرح اُس کے رُوبرُو ہي سہي
کسي طرح تو يہ تنہائيوں کي شام کٹے
وصالِ يار نہيں قربتِ عدو ہي سہي
يہ سجدئہ سرِ مقتل کا وقت ہے محسن
خود اپنے خونِ رگِ جاں سے اب وضو ہي سہي

ہر روز بھلا دیتے ہو کمال کرتے ہو
ہنستے کو رلا دیتے ہو کمال کرتے ہو

نہیں ہے محبت تو صاف کہہ دو
کیوں اُمید بڑھا دیتے ہو کمال کرتے ہو

ہم تمہیں بھولنے لگتے ہیں جب بھی کبھی
آکے پیار جتادیتے ہو کمال کرتے ہو

جانتے بھی ہو کہ ایک ہی دیا ہے میرے گھر میں
پھر بھی ہوا دیتے ہو کمال کرتے ہو

بھولنے کا جو مجھے ہر روز کہتے ہو
یوں یاد اپنی دلادیتے ہو کمال کرتے ہو

kamrankhan143
May 18th, 2010, 12:47 PM
گئے ہو ایسی راہوں پر چھوڑ کر مجھے
کہ جن پر ٹھیک سے مجھے چلنا بھی نہیں آتا

مجھے لگتا ہے کہ میں کوئی وہ غم کا سورج ہوں
جس کو شام ہوجانے پہ ڈھلنا بھی نہیں آتا

تمہاری بے رخی ایک دن انہیں برباد کردے گی
جنہیں نظروں سے گر کر پھر سنبھلنا بھی نہیں آتا

نہ رہتے منتظر تیرے تو پھر ہم اور کیا کرتے
ہمیں تیری طرح راستے بدلنا بھی نہیں آتا

کبھی کبھی خیال آتا ہے من میں میرے
ہوتا کچھ اسطرح قریب ہوتا میں تیرے

تو جاتی کہیں بھی اور جہاں بھی
ہر پل رہتا، میں تیرے نیڑے نیڑے

تو اداس جب کبھی ہوتی میں آنسو بن جاتا
اداسی بن کے چل نکلتا گالوں پہ تیرے

خوشی کے عالم میں جب تو کھلکھلاتی
اٹھکیلیاں اٹھتیں پھر دل میں میرے

حسین سپنوں میں جب تو کبھی کھو جاتی
چھلانگ لگا کے آتا میں خوابوں میں تیرے



پریشان زلفیں مکھڑے پہ یوں نہ گرایا کرو
اپنے عاشق کے دل کو یوں نہ دہلایا کرو

کبھی تو کچھ مروت سے کام لے لیتے ہیں
رقیبوں کے سامنے یوں نہ ہمیں جلایا کرو

ہم جانتے ہیں تیری اداسی کا سبب ہم ہیں
بیتی یادوں سے اپنے من کو نہ تڑپایا کرو

پیار میں جلنا ہی تھا تو قدم نہ بڑھاتے
اب اپنے دل سے ہمارے دل کو نہ جلایا کرو

آنکھوں کے رستے درد دل بہہ جائے گا
بس کبھی کبھار آنکھیں ہم سے ملایا کرو

گزرے حسین لمحوں کی حسین یادوں سے
جاوید! دل کے زخموں کو تم سہلایا کرو

خواب کو پانی بنا کر لے گیا یے کیا کروں
وہ میری نیندیں اُڑا کر لے گیا یے کیا کروں

وہ جو میٹھی نیند کی مانند آیا تھا کبھی
میرے سپنے ہی چُرا کر لے گیا ہے کیا کروں

بہتے اشکوں کو تو پلو چاہئے تھا پیار کا
وہ تو دامن بھی چھڑا کر لے گیا یے کیا کروں

میرے سارے خط جلا کر راکھ اُس نے کر دیئے
اپنی تحریریں اٹھا کر لے گیا یے کیا کروں

اب عیاں ہونے لگے ہیں بے کلی کے دائرے
رنگ چہرے کے چرا کر لے گیا یے کیا کروں

چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں
کسی انجان رستے پر کسی انمول منزل کی

طلب دل میں لئے آؤ قدم آگے بڑھاتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں

کہیں بے نام رستوں پر کسی گمنام وادی میں
چلے آؤ کہ ہم اور تم کسی دن گھوم آتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں

زندگی ساکت ہوئی آرام طلبی سے
چلو پر شور لہروں کے بھنور کو چھو کے آتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں

زمیں سے آسمانوں تک سفر کرنے کی خواہش میں
ستاروں پر کمند باندھیں چاند کو چھو کے آتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں

سنا ہے دشت و بیابان میں خضر ہی رہنما ہوں گے
خضر کو اپنے کاروان کا رہبر بناتے ہیں

چلو صحرا میں اپنا عارضی خیمہ لگاتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں
چلو کچھ کر دکھاتے ہیں مقدر آزماتے ہیں

جو سب کو سویرا دیتا ہے
اسی چراغ تلے اندھیرا رہتا ہے

کیا بھید ہے اس حقیقت میں
جو دکھوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہے

وہی دنیا کے غم سہتا ہے
خوشیاں بانٹنے والا ہی اکثر

خوشیوں سے محروم رہتا ہے
کیا بھید ہے اس حقیقت میں

جو سب کو سویرا دیتا ہے
اسی چراغ تلے اندھیرا رہتا ہے

وہ پوچھتے ہیں میرا حال کیسا ہے
جواب دے دیا پھر یہ سوال کیسا ہے

دعا میں تاثیر نہیں نہ ہی دوا کام آئی
نہ میرا حال ایسا ہے نہ حال ویسا ہے

ہر ایک زہر کا تریاق ہو گیا تھا مگر
میری جاں کو لگا نیا وبال کیسا ہے

تمام راستے وا ہیں مگر میں جا نہ سکوں
میرے اطراف میں پھیلا یہ جال کیسا ہے

تیری ہر بات ہر انداز بھلا لگنے لگا
میری نظر میں سمایا جمال کیسا ہے




میں اپنی وحشت کیسے ختم کروں تو ہی بتا دے
میں تیرا مجرم ہوں تو آج مجھے کوئی سزا دے

کوئی صلاح کوئی تدبیر مجھے تو ہی بتا دے
اس دل کو کوئی سمت کوئی راستہ دکھا دے

تیری خاموشیاں مجھ کو سکون نہیں لینے دیتیں
دل کی شورشیں کیونکر سنبھالوں اتنا سمجھا دے

مجھے گمنام چاہت کے بکھر جانے کا خدشہ ہے
اگر یہ تیری چاہت ہے خدارہ کچھ تو اشارہ دے

میرے بس میں ہو تو میں خود کو سزا دوں
میرا احساس کہتا ہے سزا تو ہی خدارہ دے

میری دوستی کی تم کیا آزمائش کر سکو گے
جان سے زیادہ کیا فرمائش کر سکو گے

میری دوستی سمندر کے پانی کی طرح ہے
کیا کبھی اس پانی کی پیمائش کر سکو گے

-----

کرتے ہیں جس پہ فخر وہ نام ہے دوستی
پھر بھی نہ جانے کیوں بدنام ہے دوستی

-----

کون بنتا ہے بے بس کا سہارا اے دوست
درخت بھی سوکھے ہوئے پتوں کو گرا دیتا ہے

-----

دوستی جب کسی سے کی جائے
دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

----

ہر رشتے کا مقام نہیں ہوتا
دل کے رشتوں کا نام نہیں ہوتا

ڈھونڈا ہے آپ کو دل کی روشنی سے
آپ جیسا دوست کسی کے لیے عام نہیں ہوتا

----

محبت کی زنجیر سے ڈر لگتا ہے
کچھ اپنی تقدیر سے ڈڑ لگتا ہے

جو مجھے میرے دوست سے جدا کر دے
ہاتھ کی اس لکیر سے ڈر لگتا ہے

----

ہماری دوستی پیپسی جیسی نہیں
کہ یہ دل مانگے مور

ہماری دوستی تو اسٹیٹ لائف جیسی
زندگی کے ساتھ بھی زندگی کے بعد بھی[Only registered and activated users can see links]

----

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں یہ عیب ہے اے دوست
میں نے جس کو چاہا وہ میرا نہیں رہا


----

میں جب بھی اداس ہوتا ہوں وہ مجھکو ہنسا دیتا ہے
میری جان ہے وہ جو ہر بزم میں مجھکو دعا دیتا ہے

ہار جاتا ہوں غم دوراں کی تلخیوں سے جب
چپکے سے آکے وہ میرا حوصلہ بڑھا دیتا ہے

اور سبھی دوستوں سے جداہے انداز اس کا
وہ پیار سے مجھے کھری کھری بھی سنا دیتا ہے

میں لاکھ چھپاؤں اس کا پیار زمانے سے
اپنی نظموں کی زبانی وہ یہ راز بتا دیتا ہے

ہر روز محبت بھرے ایس ایم ایس بھیج کر
میرےدل کے گلشن میں پھول کھلا دیتا ہے

اصغرخوش نصیب ہے جسے تم سا پیارا دوست ملا
ورنہ آج کا انسان دکھ کے سوا کیا دیتا ہے



کرتے ہیں جس پہ فخر وہ نام ہے دوستی
پھر بھی نہ جانے کیوں بدنام ہے دوستی

-----

کون بنتا ہے بے بس کا سہارا اے دوست
درخت بھی سوکھے ہوئے پتوں کو گرا دیتا ہے

-----

دوستی جب کسی سے کی جائے
دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

----


دوستی میں ہم لوگ امید صلہ نہیں کرتے
کسی سے دوستی نہ رہے تو گلہ نہیں کرتے

جن لوگوں کے ایک سے زیادہ روپ ہوں
ایسے لوگوں سے ہم کبھی ملا نہیں کرتے

دوستی کے پردے میں جو ہم سے حسد کریں
ان کے لیے چاہت کے پھول کھلا نہیں کرتے

دوستی کی خاطر تو یہ جان بھی نچھاورکر دیں
یار کانٹوں پہ سلا دے تو ہم کبھی ہلا نہیں کرتے

تلوار کے زخم تو بھر جاتے ہیں وقت کے ساتھ اصغر
زباں کے دیے ہوئے زخم کبھی سلا نہیں کرتے

دوستی اپنی بھی اثر رکھتی ہے فرازِ
بہت یاد آئیں گے ذرا بھلا کر تو دیکھو

kamrankhan143
May 18th, 2010, 01:29 PM
ہر گھڑی کسی کو کسی کا انتظار ہے
کیوں یہ انتظار ہے اور کیسا انتظار ہے
عالم میں جسے دیکھئے محو انتظار ہے
اس انتظار کے لئے ہر کوئی بیقرار ہے
یہ کیسا انتظار ہے اور کیوں یہ انتظار ہے
جس کسی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے
اس انتظار نے کیا انساں کو بیقرار ہے
پھر بھی یہ آدمی ہے کہ محو انتظار ہے
اس انتظار نے کیا آدم کو بڑا خوار ہے
نا جانے اس خواری میں ایسا کیا خمار ہے
جو دل کو انتظار ہے آنکھوں کو انتظار ہے
یہ انتظار کی گھڑی بڑی گراں کٹھن بڑی
ناجانے انتظار کی عادت ہمیں کہاں پڑی
اس انتظار کے لئے دل کی تڑپ کو دیکھ کر
یہ آنکھ اشکبار ہے پھربھی انتظار پہ آتا ہمیں پیار ہے
جس آدمی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے
یہ انتظار کیوں ہوا ہر آدمی کا یار ہے
کبھی نیند کا کبھی خواب کا کسی وقت کا کسی بات کا
ہر گھڑی کسی کو کسی کا انتظار ہے
کیوں یہ انتظار ہے اور کیسا انتظار ہے
عالم میں جسے دیکھئے محو انتظار ہے
اس انتظار کے لئے ہر کوئی بیقرار ہے
یہ کیسا انتظار ہے اور کیوں یہ انتظار ہے
جس کسی کو دیکھئے وہ محو انتظار ہے

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا
تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے د یکھے گا
مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

تیرا کھلکھلا کے ہنسنا اچھا لگتا ہے
دور جا کے پاس آنا بڑا اچھا لگتا ہے
بات بے بات تو مجھ کو ستاتی رہتی ہے
تیرا یوں ستانا بھی مجھے اچھا لگتا ہے
میں جب ہو جاتا ہوں کبھی تم سے خفا
مجھ کو پھر تیرا منانا اچھا لگتا ہے
میرے بازؤوں میں پھر تیرا سمٹ جانا
مجھے اچھا اور بہت ہی اچھا لگتا ہے

اے واعظ تو نے سچ جانا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تیرا ممبر پہ فرمانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

بہت اچھی جگہ ہے یہ محبت کی ردا ہے یہ
یہاں نفرت کو پھیلانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

تیری آتش فشانی کا تیری شعلہ بیانی کا
کسی کا گھر جلا جانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

کسی کی چوڑیاں ٹوٹیں کسی کی شوخیاں روٹھیں
کسی چادر کا چھن جانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

کسی کا لال کھو جانا کسی کے بال کھل جانا
کسی کی آنکھ بھر آنا ہمیں اچھا نہیں لگتا

تیری آتش فشانی کا تیری شعلا بیانی کا
کسی کا گھر جلا جانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

علی انسانیت کیا ہے وہی جو درس مولا ہے
سو تیرا درس مولانا ہمیں اچھا نہیں لگتا

گرتے ہیں اور گر کے سنبھل بھی رہے ہیں
ہم گردش ایام سے نکل بھی رہے ہیں

یہ جانتے ہیں کہ ان کی کوئی بھی منزل نہیں
تنہا ویران راستوں پہ چل بھی رہے ہیں

جہاں زندگی کو موت کے سائے ہراساں کرتے رہتے ہیں
وہ شہر حسن و خیال جنگ و جدال میں بدل بھی رہے ہیں

انسان ہی انسان کے دشمن بھی دوست بھی
یہ دشمن جاں زیست کو مچل بھی رہے ہیں

ہم زندگی اور موت کی ہمراہی میں عظمٰی
گھٹ کے مر گئے ہیں اور پل بھی رہے ہیں

دن میں کبھی لکھا تو کبھی شام لکھا ہے
آدھا ادھورا خط کسی کے نام لکھا ہے

ہم ان کو جیت کر بھی ان کے نہ ہو سکے
قسمت نے ہار پہ بھی جن کے نام لکھا ہے

لوگ میرے سچ کو جھوٹ سمجھتے ہیں
کہتے ہیں تم نے جو لکھا ابہام لکھا پے

اس دل کا فسانہ ہے جو دل سے لکھا ہے
کیا خوب جو لکھا ہے ناتمام لکھا ہے

عظمٰی مجھے سپنوں میں یہ نوید آئی ہے
اک نامہ اس نے بھی ہمارے نام لکھا ہے


تمہارا ساتھ چاہنے کی دعا اچھی ہے یا بری
میری چاہت اور میری وفا اچھی ہے یا بری

میری نظر میری فکر میرا سفر میرا ہنر
میرے حسن سخن کی ادا اچھی ہے یا بری

میرا چلن میرا بیان میری ذات میری بات
خوئے من کوئی ان میں بھلا اچھی ہے یا بری

میری مرضی میرا اقرار میری ہاں سے مہرباں
تمہیں اپنے لئے میری رضا اچھی ہے یا بری

زمانے کی نگاہوں میں تو ہر انسان برا ہے
تمہارے واسطے میری ادا اچھی ہے یا بری

جو کل بھی اور آج بھی تمہارا نام لیتی ہے
تمہیں کہو کہ اس کی التجا اچھی ہے یا بری

کسی دن عظمٰی ان سے پوچھ کر بس اتنا بتا دو
میرا دل ان کے رہنے کی جگہ اجھی ہے یا بری

مجھ سے بچھڑ کے وہ رویا تو ہوگا
مجھے کھو کے خود کو کھویا تو ہوگا

ہوا کی شوخیاں جب گنگناتی ہونگی
یاد کر کے مجھے، وہ تڑپتا تو ہوگا

مترنم ہوائیں لوریاں جب دیتی ہونگی
میرا دامن پھر اُسے یاد آتا تو ہوگا

میری یادیں جب اُسے رلاتی ہونگی
مجھے یاد کرتا تو کبھی کوستا تو ہوگا

گزرے لمحے اُسے تڑپاتے تو ہونگے
منہ تکیہ میں چھپا کے وہ روتا تو ہوگا

kamrankhan143
May 19th, 2010, 09:31 AM
تازگی جو دل کو دے گلاب کہا تھا
دوستوں کے چہروں کو کتاب کہا تھا

تم نے تو کہہ دیا کہ ستم پہ ہے ستم
ہم نے تو دوستوں کو آداب کہا تھا

تھا اِن سے مدتوں کے بعد رابطہ ہوا
زندگی کا ہم نے تو اِک باب کہا تھا

دوست دوستوں سے رہیں ربط میں ہمیشہ
ادھورا اپنا ہم نے تو اِک خواب کہا تھا

گمان سا ہوا تھا کسی کے روٹھ جانے کا
دل کے واہموں کا اِک سراب کہا تھا

منزلوں کے راستے میں غم سے ہوئے چُور
اِک چھایا اپنی سوچ پہ عذاب کہا تھا

ہمیں بےشک رکھنا ہے خود کو سنبھال کے
کبھی ناصر نے زمانے کو خراب کہا تھا

تھا وہ یاروں میں اپنا یار بہت
اک اسی سے تھا ہمیں پیار بہت

اک ٹھنڈک تھی اسکی چھاؤں میں
اک شجر تھا سایہ دار بہت

شہر جاں میں عجب رونق تھی
دل سے دل کا تھا کاروبار بہت

عجب مزہ تھا بزم میں اسکی
اب تک ہے ہمیں خمار بہت

دوستی کیا ہے نصف دھوکا ہے
اس کا کرنا نہ اعتبار بہت

ہم بڑی دور سے آئے ہیں تمہاری خاطر
دل کے ارماں بھی لائے ہیں تمہاری خاطر

ایسا اک سنگ جو تالیفِ رہِ منزل ہو
منزلیں ڈھونڈ کے لائے ہیں تمہاری خاطر

کتنی ناکام امیدوں کے دیے پچھلے پہر
ہم نے دریا میں بہائے ہیں تمہاری خاطر

عہد روشن کے سخنور نہ بھلائیں گے کھبی
ہم نے وہ سحر جگائے ہیں تمہاری خاطر

ہم نہ چاہیں گے کبھی تختِ جم و خسرو کے
ہم نے ارماں لٹائے ہیں تمہاری خاطر

ہم وہاں تھے کہ جہاں ساغر وساقی تھے مدام
دوستوں لوٹ کے آئے ہیں تمہاری خاطر

عشق کرنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
جاگتی آنکھوں کے کچھ خواب ہوا کرتے ہیں

ہر کوئی رو کر دکھا دے یہ ضروری تو نہیں
خشک آنکھوں میں بھی سیلاب ہوا کرتے ہیں

کچھ فسانے ہیں جو چہرے پہ لکھے رہتے ہیں
کچھ پس دیدہ خواب ہو ا کرتے ہیں

کچھ تو جینے کی تمنا میں مرے جاتے ہیں
اور کچھ مرنے کو بےتاب ہوا کرتے ہیں

تیرنے والوں پے موقوف نہیں ہے خالد
ڈوبنے والے بھی پایاب ہوا کرتے ہیں


میں مرمٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی میری
اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی میری

میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی میری

جو طعنہ زن تھا میری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی میری

میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں ، یہی سزا تھی میری

شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی میری

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی میری

کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی میری؟

جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی میری

ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی میری

میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی میری

شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی میری

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی میری

میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی میری

ہوا پردیس میں آ کر جو احساس زیاں پیدا
چلو کچھ تو دیا مجھ کو میری نقل مکانی نے

چھپا کے راز ہم خوش تھے کہ تو نے معتبر جانا
مگر دکھ ہے کہ ہم کو مار ڈالا راز دانی نے

نہ چاہتے ہوئے بھی اقرارکرنا ہی پڑا ہم کو
مشکل سے ہی سہی پر یہ کرنا ہی پڑا ہم کو

ساری عمر منکروں کی صف میں کھڑے رہے
بس اک نظر پڑی اسکی ہر اظہار کرنا ہی پڑا ہم کو

قائل نہ تھے اپنی محبت کی نمائش کے ہم بھی
اسکا اشارہ ہوا تو اشتہار بنا ہی پڑا ہم کو

اے دوست تو نے دوستی کا حق ادا کیا
اپنی خوشی لوٹا کے میرا غم گھٹا دیا

کہنے کو تو اپنے ہیں جہاں میں بہت مگر
اپنوں نے مجھ کو در سے دربدر کرا دیا

لڑتا رہا دنیا سے اپنوں کے لیے میں
اپنوں نے تو وفا کا مجھے یہ صلہ دیا

بڑے عرصہ دراز کے بعد غم ہوا تھا کم
ہنسنا ابھی سیکھا تھا کہ پھر سے رولا دیا

من کی لگی ہوئی آگ بجھی تھی ابھی ابھی
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ گھر بھی جلا دیا



جو دوست تھے دنیا کو میرے شعر سنانے والے
آج وہی ہیں میری آواز کو دبانے والے

تیری دوستی سے بہت کچھ سیکھا ہم نے
اب ہم نہیں تیری میٹھی باتوں میں آنے والے

جب کسی سے بھی تیرے مراسم نہ تھے
ہم لوگ تھے تیری سونی محفلوں کو سجانے والے

تم اس سچ کو کبھی جھٹلا نہیں سکتے
ہم ہی ہیں تجھے بلندیوں پہ پہنچانے والے

اب فون کر کے مناتے رہو تمام عمر
تیری محفل میں پلٹ کے نہیں آنے والے

اب تجھے اصغر جیسے لوگوں سے کیا غرض
تجھے مل گئے ہیں بہت نئے چاہنے والے

تم سچائی سے کہہ دو داستاں
لفظوں میں کہاں ہوتی ہے جاں

شاعر تو سجاتے ہیں الفاظ کو
سچ جچتا ہے کب کس کو یہاں

لفظ دل میں اتریں گے تبھی تو
بولو گے جب جذبوں کی زباں

میں نے چاہا اسے جان سے آگے
بات اتنی سی اب کیا بناؤں داستاں

بےسبب تو نہ تھی تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
ضبط کا حوصلہ بڑھا لینا
آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا
کانپتی ڈولتی صداؤں کو
چپ کی چادر سے ڈھانپ کر رکھنا
بے سبب بھی کبھی کبھی ہنسنا
جب بھی ہو بات کوئی تلخی کی
موضوع گفتگو بدل دینا
بے سبب تو نہیںتیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا

کب تلک ہم کو جدا رکھیں گے سارے فاصلے
دیکھنا مٹ جائیں گے اک دن یہ سارے فاصلے

دوریاں ساری کی ساری ختم ہوتی جائیں گی
جب ہماری قربتیں توڑیں گی سارے فاصلے

راہ کی ساری دیواریں چیرتے بڑھ جائیں گے
اور ہم مل کر فنا کر دیں گے سارے فاصلے

یہ سندر اور صحرا، یہ کہسار اور بیاباں
طے پہ طے کرتے چلے جائیں گے سارے فاصلے

عظمٰی ہمارے دل کو ہر دم یقیں رہتا ہے
ایک نہ اک دن سمٹ جائیں گے سارے فاصلے


دوست بھی دشمن نہ تھے دل بھی عدو میرا نہ تھا
یہ تو مجھ پر اب کھلا ظالم کہ تو میرا نہ تھا

اس طرح خوش ہو رہا ہوں جشن مقتل دیکھ کر
جس طرح ہر نوک خنجر پر لہو میرا نہ تھا

اپنے اپنے بےوفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ میں تیرا یہیں تھا تو میرا نہیں تھا

وہ کہیں بھی چھوڑ جاتا کیا گلہ اس سے کہ وہ
ایک مسافر تھا شریک جستجو میرا نہ تھا

اب تو خود سے بولتے ہوئے خوف آتا ہے فراز
اتنا دل آزار طرز گفتگو میرا نہ تھا

kamrankhan143
May 19th, 2010, 09:41 AM
دنیا کے ترانے
عاشق دیوانے نہیں مانتے

زمانے کے سب لوگوں سے نرالے
سوچ بچار انکی سب سے جدا
دنیا کے قانون لاکھ سمجھاؤ
عاشق دیوانے نہیں مانتے

چاہت میں جو ڈوب جاتے ہیں
محبت میں امر ہو جاتے ہیں
خود ساختہ اصولوں اور رسموں کو
عاشق دیوانے نہیں مانتے

مرنے سے بھلا وہ کب ڈرتے ہیں
ہنس کے سولی بھی چڑھتے ہیں
پیار کے بغیر ذندگی
عاشق دیوانے نہیں مانتے

کہیں ایسا نہ ہو دامن جلا لو
ہمارے آنسوؤں پر خاک ڈالو

منانا ہی ضروری ہے تو پھر تم
ہمیں سب سے خفا ہو کر منالو

بہت روئی ہوئی لگتی ہیں آنکھیں
میری خاطر ذرا کاجل لگا لو

اکیلے پن سے خوف آتا ہے مجھ کو
کہاں ہو اے میرے خوابوں خیالوں

بہت مایوس بیٹھا ہوں میں تم سے
کبھی آکر مجھے حیرت میں ڈالو

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

تمہاری ڈائری میں لکھا وہ نام کس کا ہے
بڑے ادب سے لکھا وہ سلام کس کا ہے

جو اشعار پڑھ کے جناب مسکرا رہے تھے
کیا پوچھ سکتا ہوں میں، وہ کلام کس کا ہے

تمہاری پرواز تو بلندیوں کو عبور کرتی رہی
تمہارے دل کو جو چھو گیا وہ مقام کس کا ہے

چشم بد دور! بڑے بن ٹھن کے بیٹھے ہو آج
منتظر نگاہوں میں چھپا یہ اہتمام کس کا ہے

ہاتھوں میں اُٹھاتے ہو تو کبھی سینے لگاتے ہو
کچھ بتلا بھی دو پیام رساں کون ہے پیام کس کا ہے


میرا اپنی ذات سے رشتہ گہرا ہے
جیسا دن کا رات سے رشتہ گہرا ہے
جن میں تیرے پیار کی خوشبو ہوتی ہے
میرا ان نغمات سے رشتہ گہرا ہے
جن حالات میں تم نے مجھ کو چھوڑا تھا
میرا ان حالات سے رشتہ گہر ا ہے
وہم و گماں میں گزری عمر تمہاری بھی
میرا بھی خدشات سے رشتہ گہرا ہے


آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا
اس طرح سے گفتگو کا سلسلہ اچھا لگا

آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں اور دل میں غم
مجھ کو پھر اے دوست تیرا روٹھنا اچھا لگا

یہ بھی اچھا ہے نبھائی غیر سے اس نے وفا
بے وفائی میں بھی مجھ کو بے وفا اچھا لگا

دور تک مجھ کو ادا اسکی نشہ دیتی رہی
وقت رخصت اس کا مڑ کے دیکھنا اچھا لگا

اس نے ٹھکرایا تو سارے دوست بیگانے ہوئے
ہم کو اپنی موت کا پھر آسرا اچھا لگا

اپنے آنچل پر سجاتے وہ رہے رات بھر
میرے اشکوں کا رواں یہ سلسلہ اچھا لگا

وہ کسی کی یاد میں سوئے نہیں رات بھر
نیند سی بوجھل سی آنکھوں میں نشہ اچھا لگا

مجھ کو ہر ٹکڑے میں ناصر وہ نظر آنے لگے
ٹوٹ کر مجھ کو جب ہی تو آئینہ اچھا لگا

Rubab Ali
May 19th, 2010, 03:39 PM
superb!!!


وہ جو دعویدار ھے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ھوں
کبھی آ کے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں*اداس ھوں

یہ مری کتاب حیات ھے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا
میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ھوں

یہ تری امید کو کیا ھوا کبھی تو نے غور نہیں *کیا
کسی شام تو نے کہا تو تھا تری سانس ھوں تری آس ھوں

یہ جو شہر فن میں *قیام ھے سو ترے طفیل ھی نام ھے
مرے شعر کیوں نہ گداز ھوں کہ ترے لبوں کی مٹھاس ھوں

یہ تری جدائی کا غم نہیں کہ یہ سلسلے تو ھیں*روز کے
تری ذات اس کا سبب نہیں کئی دن سے یونہی اداس ھوں

کسی اور کی آنکھ سے دیکھ کر مجھے ایسے ویسے لقب نہ دے
ترا اعتبار ھوں جان من نہ گمان ھوں نہ قیاس ھوں

editorshahid
May 20th, 2010, 03:30 AM
Nice Collection :) Welldone

kamrankhan143
May 20th, 2010, 11:40 AM
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
پھر وادی فاران کے ہر ذرہ کو چمکا دے
پھر شوق تماشا دے پھر ذوق تقاضا دے
محروم تماشا کو پھر دیداہ بےنا ہے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو وسعت صحرا دے
پیدا دل ویران میں پھر شورش محشر کر
اس محمل خالی کو پھر شاہد لےلا دے
اس دور کی ظلمت میں ہر قلب پریشان کو
وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے
رفعت میں مقاصد کو ہم دوش ثریا کر
خودداری ساحل دے آزادی دریا دے
بے لوث محبت ہو بے باک صداقت ہو
سینے میں اُجالا کر دل صورت مےنا دے
احساس عنایت کر آثار مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشہ فردا دے
میں بلبل نالاں ہوں اک اُجڑے گلستان کا
تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے

---


[Only registered and activated users can see links]
----
[Only registered and activated users can see links]


----

[Only registered and activated users can see links]

----

[Only registered and activated users can see links]

----

[Only registered and activated users can see links]

---
[Only registered and activated users can see links]

---

[Only registered and activated users can see links]

-----

[Only registered and activated users can see links]

---
[Only registered and activated users can see links]

---

[Only registered and activated users can see links]

مَیں پَل دو پَل کا شاعر ہوں، پَل دو پَل میری کہانی ہے
پَل دو پَل میری ہستی ہے، پَل دو پَل میری جوانی ہے

مجھ سے پہلے کتنے شاعر، آئے اور آ کر چلے گئے
کچھ آہیں بھر کو لَوٹ گئے، کچھ نغمے گا کر چلے گئے

وہ بھی اِک پَل کا قصہ تھے، مَیں بھی اِک پَل کا قصہ ہوں
کل تم سے جدا ہو جاؤں گا، گو آج تمہارا حصہ ہوں

پَل دو پَل مَیں کچھ کہہ پایا، اتنی ہی سعادت کافی ہے
پَل دو پَل تُم نے مجھ کو سُنا، اتنی ہی عنایت کافی ہے

کل اور آئیں گے، نغموں کی کِھلتی کَلیاں چُننے والے
مُجھ سے بہتر کہنے والے، تُم سے بہتر سُننے والے

ہر نسل اِک فصل ہے دھرتی کی، آج اُگتی ہے کل کٹتی ہے
جیون وہ مہنگی مدرا ہے، جو قطرہ قطرہ بٹتی ہے

ساگر سے اُبھری لہر ہوں مَیں، ساگر میں پھر کھو جاؤں گا
مٹی کی روح کا سپنا ہوں، مٹی میں پھر سو جاؤں گا

کَل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے





----


تیرے غم کی جوانیاں نہ گئیں
آنسؤوں کی روانیاں نہ گئیں

لاکھ خوشیاں ہوئیں نصیب مگر
آج تک نوحہ خوانیاں نہ گئیں

میں نے دیوار دل کو کھرچا ہے
تیرے دکھ کی نشانیاں نہ گئیں

میں نے برسائے اشک بھی لیکن
غم کی شعلہ فشانیاں نہ گئیں

مطمئین میں رہا سدا تجھ سے
اور تیری بد گمانیاں نہ گئیں

لب تو پتھر کے کر لئے میں نے
دل سے تیری کہانیاں نہ گئیں

آپ نے زخم ہی دیے شاکر
آپ کی مہربانیاں نہ گئیں

----


کٹھن راہِ محبت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا
مجھے تیری ضرورت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

اگرچہ ان سہاروں کا مَیں قائل تو نہیں لیکن
تُو میرے دل کی چاہت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

تیری خاطر زمانے بھر سے مَیں نے دشمنی لے لی
یہی جگ کی روایت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

تعجب ہے کہ جس کا عکس میرے ساتھ چلتا ہے
اُسے بھی یہ شکایت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

بہاریں بھی اُسی کے ساتھ عظمی دل کو بھاتی ہیں
یہی برسوں کی عادت ہے، مَیں تنہا چل نہیں سکتا

----


لہجوں میں ابھی بُوئے بغاوت کی کمی ہے
ہے شور بہت،حرف صداقت کی کمی ہے

دل سب کے دھڑکتے نہیں کیوں ایک ہی لے پر
احساس کی دولت نہ محبت کی کمی ہے

مال و زر دنیا سے لبا لب ہے اگرچہ
گنجینئہ شاہی میں ندامت کی کمی ہے

اس عہد حکومت میں ہے بس ایک خرابی
اس عہد حکومت میں حکومت کی کمی ہے

رستہ بھی، بصیرت بھی٬ بصارت بھی میسر
اللہ کی جانب سے ہدایت کی کمی ہے

----


تو نا ہو تو کون لے گا تیرے دیوانے کا نام
روشنی شمع سے روشن ہے پروانے کا نام

لے نا بھولے سے کبھی مشکل میں گبھرانے کا نام
زندگی ہے اصل میں طوفاں سے ٹکرانے کا نام

میری شہرت حسن کی مرہون منت ہے نوید
اس نے خود روشن کیا ہے اپنے پرانے کا نام


----


وہ میرے پاس ہے میرے خوابوں کی طرح
دور ہے مجھ سے تعبیروں کی طرح

ڈھونڈنے سے ملتا نہیں وہ مجھ کو مگر
سمویا ہوا ہے مجھ میں میرے ہاتھ کی لکیروں کی طرح

اس کا کیا کیجیئے جو بٹ چکا ہو
ہر اک کے پاس جاگیروں کی طرح
ہر اک مشتاق رہتا ہے اس کا ‘ محفل میں جب
اس کا حسن پھیل جاتا ہے چاند کی لکیروں کی طرح

خواب خود تک محدود رکھو تو بہتر ہے
پھیل نہ جائے دنیا میں بن کر سفیروں کی طرح

kamrankhan143
May 20th, 2010, 11:51 AM
[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]


کسی چہرے کا عکس مجھ میں سمایا جیسے
میرے چہرے نے حسیں عکس چرایا جیسے

جو اپنے آپ سے پہلے کبھی نہ مل پایا تھا
کسی سے مل کے اپنے آپ کو پایا جیسے

جو عمر بھر اکیلا در در بھٹکتا رہا تھا
اسے منزل کے راستوں سے ملایا جیسے

جو کانٹے چنتے چنتے خار ہو چلا تھا
اسے جیون کی بہاروں سے ملایا جیسے

خزاں سے زرد چہرے کو بہار بخشی ہے
اسے حسیں سے حسیں تر بنا دیا جیسے

جو ایک مدت سے رہ کہن پہ گامزن تھا
اسے جینے کا نیا ڈھنگ سیکھایا جیسے

نئی دنیا نئی منزل نئی مسافت نے
نئے رستوں کا ہمسفر بنا دیا جیسے

وہ میری روح میں عظمٰی سما گیا ایسے
میرا وجود میں نے خود میں پا لیا جیسے

---

خواب ہے سراب ہے جنوں ہے خمار ہے
یہ زندگی کبھی خزاں کبھی کبھی بہار ہے

گلوں کی سیج پہ دہکتے شول کی طرح کبھی
پھولوں کی راہداری میں خار بے شمار ہے

بے قدر بے وفا نامہرباں ہے زندگی
زندگی زہر سہی لیکن گلے کا ہار ہے

عجیب اس کے ولولے عجیب اس کی شورشیں
کبھی کی موت جیت ہے کبھی کا جینا ہار ہے

عظمٰی یہ زندگی بڑی کٹھن بڑی دشوار ہے
پھر بھی یہ زندگی ہمارے پیار کی حقدار ہے

----

مجھے کوئی خوشی پوری نہیں ملتی میں کیا کروں
میرے دل کی بند کلیاں نہیں کھلتی میں کیا کروں

میرا اختیار میرے ہی ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے
میری مرضی میرے دل پہ نہیں چلتی میں کیا کروں

بڑی مشکل سے اپنی زندگی کو آسان کرتی ہوں
آسانی سے میری مشکل نہیں ٹلتی میں کیا کروں

ستاروں کی طرح جو چاندنی راتوں میں روشن تھی
تاریکی میں وہ شمع اب نہیں جلتی میں کیا کروں

بیج بارش ہوا اور دھوپ بھی کچھ کام نہ آئے
زمیں ہو جائے بنجر پھر نہیں پھلتی میں کیا کروں

میری آغوش میں رہتی ہے جو معصوم سی بچی
بڑی نادان ہے مجھ سے نہیں پلتی میں کیا کروں

عظمٰی بڑی محتاط ہوں پھر بھی جانے کیوں
یہ زندگی مجھ سے نہیں سنبھلتی میں کیا کروں


---

مرجھا گیا تو کیا ہوا یہ پھول تھا کبھی
اب نہ سہی تیرے لئے مقبول تھا کبھی

موسم کی گردشوں نے اس کو بدل دیا ہے
سب کی نگاہ و دل کو جو قبول تھا کبھی

اس پر ہر ایک رابطے کو بند کردیا
جس کا پیام سب کو وصول تھا کبھی

تنہائیوں کی فرصت نے اس کو آلیا ہے
ہر بزم میں رہتا جو مشغول تھا کبھی

اسکا ذکر اسکی باتیں ہر جگہ ہونے لگیں
جو سب کے لئے ہو چلا فضول تھا کبھی

عظمٰی وہ کھو گیا تو سب کو یاد آگیا
مذکور اس کا ہر جگہ مقبول تھا کبھی

----


غالب و میر سے شاعر بھی ہمارے جیسے ہونگے
دل پہ ہر روز نیا زخم شاید وہ بھی سہتے ہونگے

اپنے ان زخموں سے ہر روز اک نئی مالا
اپنے دیوان میں لفظوں کی پروتے ہونگے

دنیا کی نظر سے دور کسی گوشہء تنہائی میں
بیٹھ کر دل کے داغ اشکوں سے دھوتے ہونگے

اپنے صبر و رضا سے اپنی خوش مزاجی سے
ملنے والوں کے آگے مسکرا دیتے ہونگے

میری طرح سے عظمٰی رات کو تنہائی میں
سکون دل کے لئے تھوڑا سا روتے ہونگے

----

kamrankhan143
May 20th, 2010, 12:01 PM
بے ارادہ آج پھر دل کو تیرا خیال آیا
موسم نے رنگ بدلا تو تیرا خیال آیا

تیرے لب پہ آج شاید میرا نام آیا ہے
دل نے تجھے پاس پایا تو تیرا خیال آیا

میرا نام لے مجھے کس نے پکارا
دل میں یہ سوال آیا تو تیرا خیال آیا

آج پھر اس گھر میں کوئی آنا چاہتا ہے
دل پہ دستک ہوئی تو مجھ کو تیرا خیال آیا

راستے میں چلتے چلتے عظمٰی شام ہو گئی
دل نے پھر سے دیا جلایا تو تیرا خیال آیا

---


خدا اپنا سہارا ہے
میرے دل کو جب کبھی
وسوسوں نے آ پچھاڑا ہے

کسی نے دل کے گوشے سے
اسی پل یہ پکارا ہے
خدا اپنا سہارا ہے

میرے دامن میں جب جب
راہ کے کانٹے الجھتے ہیں

میرے بدن کو چیرتے ہوئے
روح میں سلگتے ہیں

تو میری تلملاتی روح نے
جس کو پکارا ہے

اسی کا نام میرے
ناتواں دل نے پکارا ہے
خدا اپنا سہارا ہے

---

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]

[Only registered and activated users can see links]



اک پل میں اپنا بنایا اور دوسرے پل میں پرایا کر دیا
وہ پوچھتا ہےکہ آخریہ حق تم کو کس نے دیا

اسے دوست بنایا اور پیار دیا پھر اچانک بہانا کردیا
اسے یہ دکھ ہے تو صرف اس بات کا آخر یہ حق مجھے کس نے دیا

اسے اتنا ہنسا کر اچانک رونا پڑا
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا

جینے کا مقصد بتا کر مرنے کا موقع دیا
وہ مجھ سے پوچھتا ہےکہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا

میں اس کا صرف دوست ہوں کتنی آسانی سے کہہ دیا میں نے
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا

وہ جھوٹا پیار بھلے ہی میں نے اس کو خیرات میں دیا
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ آخر یہ حق تم کو کس نے دیا

وہ سمجھا کہ وہ میرے پیار کے لائق ہے
وہ ہی پا گل تھا اپنے اوپر اعتماد کیا

وہ کہتا ہے پیار زندگی کا اک حسین تحفہ ہے
میں نے جھوٹا ہی سہی کچھ دن پیار تو کیا


---


دیار شوق لا مکاں ہے محدود نہیں ہے
یہ کاروان اک مقام تک محدود نہیں ہے

یہ مکاں سے لامکان کی منزل کا راہی ہے
یہ بحر بیکراں ساحل تلک محدود نہیں ہے

اگرچہ میری دسترس میں ذخیرہ الفاط کم ہے
میری سوچ میں تخیل کا خزانہ محدود نہیں ہے

میری تخلیق میری زندگانی کی کہانی ہے
زندگی مختصر صحیح مگر محدود نہیں ہے

جو مختصر الفاط میں آسانی سے سما جائے
یہ روداد زندگانی اس قدر بھی محدود نہیں ہے

جسے خون جگر دے کر محبت سے سجایا ہے
ہمارا یہ گلستان وفا حدوں میں محدود نہیں ہے

کمال ذوق نے عظمٰی جسے دل میں جگایا ہے
یہ جذبہ شوق میرے تک ہی محدود نہیں ہے

---


آرزوئے شوق میں آنکھیں نہ بھگوتے
اشکوں سے داغ الفت دن رات نہ دھوتے

راز وفا جو ہوتا چھپنے کے واسطے
رانجھا، فرہاد، مجنوں بدنام نہ ہوتے

ہیر، شیریں، لیلٰی کو رسوائیاں نہ ملتیں
عاشقوں کے چرچے سرعام نہ ہوتے

تنہائیاں نہ ملتیں، رسوائیاں نہ ملتیں
ہجر و وصل کے لئے دن شام نہ روتے

اپنے من کی دنیا خود میں تلاش کرتے
صحرا میں جنگلوں میں گمنام نہ ہوتے

وہ جن کی چاہتیں بھی گمنام رہ گئی ہیں
شوق جنون رکھتے تو ناکام نہ ہوتے

عظمٰی جو عشق کو بھی اپنا رہنما کرلے
پھر اہل خرد بھی کبھی ناکام نہ ہوتے


---

جو ہو سکے تو ایک کام کرنا
کوئی سوغات میرے نام کرنا

کسی غزل کا ایک مصرعہ
کسی تحریر کا کوئی ٹکڑا

کسی بھی پہر کا کوئی لمحہ
جو ہو سکے تو مجھے دان کرنا

کوئی سوغات میرے نام کرنا
جو ہو سکے تو ایک کام کرنا

----


کبھی کبھی تخیلات پہ یوں اندھیرا چھایا رہتا ہے
کوئی منظر واضح نہیں ہوتا کہرا چھایا رہتا ہے

تکرار الفاظ موضوعات کا راستہ روک لیتی ہے
جیسے کہ درعنوان پہ کوئی پہرہ چھایا رہتا ہے

جذبہ دل اور حسن نظر جب جب باہم ملتے ہیں
پلکوں تلے رنگ و نور کا سہرا چھایا رہتا ہے

جب راہ شوق میں ہجر وصل اور وصل ہجر ہو جاتا ہے
تب روح و دل پر لطف و کرم بھی گہرا چھا یا رہتا ہے

یہی تو عقل اور عشق میں نمایاں امتیاز ہے عظمٰی
عقل ساکن، عشق پہ تحریک کا لہرا چھایا رہتا ہے

کوئی موضوع کوئی عنوان ہی نہیں ملتا
تخیل کیلئے موزوں سامان ہی نہیں ملتا

جو آشنا ہو کے بھی ناآشنا ہی رہے
میری نظر کو وہ انجان ہی نہیں ملتا

جو واقف حال دل گداز بن کے رہے
دل کو ایسا کوئی مہمان ہی نہیں ملتا

پھولوں سے دلنشیں رنگیں نظاروں سے
گلدستہ سجا لوں مگر گلدان ہی نہیں ملتا

عظمٰی خیال و خواب میں رقصاں حقائق کو
لفظوں میں قید کرلوں پر دیوان ہی نہیں ملتا


اقبال کے شاہینوں کا انداز یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی آباد رکھنا

حوادث سے ڈر کر قدم روک لینا
ہوا دیکھ کر اپنا رخ موڑ لینا

شاہین کا شیوا نہیں پرواز کے دوران
طوفان جو آئے تو پرواز روک لینا

اقبال کے شاہینوں یہ بات یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی سنبھال رکھنا

تندی باد مخالف میں کتنا بھی دم کیوں نہ ہو
اپنا دم قائم رکھنا کبھی ہمت نہ چھوڑ دینا

یہی دستور ہے دنیا میں کامرانی کا
صلہ ملے گا خوشی اور شادمانی کا

امتحانوں سے نہ گھبراؤ مقدر آزماؤ
رکاوٹوں کو چیرتے ہوئے گزر جاؤ

پیہم جستجو لگن سے اور ہمت سے
ہر اک مقام سے آگے بڑھے چلے جاؤ

کسی مقام پہ ساکت نہیں کر پائے گا
تمہارا حوصلہ ہر بار کام آئے گا

یہی حیات جاوداں یہی جوانی ہے
یہی شوق جنوں پرواز ہے روانی ہے

کسی منزل کسی مقام پہ نہیں رکنا
ارادوں کی طرح نگاہ بھی بلند رکھنا

اقبال کے شاہین کا یہ شیوہ پرواز ہے
بلند سے بلند تر انداز کی پرواز ہے

اقبال کے شاہینوں کا انداز یاد رکھنا
اقبال کے اقبال کو تم بھی آباد رکھنا

kamrankhan143
May 20th, 2010, 12:16 PM
مجھے خود سے زیادہ صرف تم پہ اعتبار ہے
میری آنکھوں میں اس لئے تمہارا انتظار ہے

میری آہیں تمہارے احساس کو بیدار کر گئیں
اسی لئے تمہارا دل میرے لئے بیقرار ہے

چاہو تو روک لو مجھے چاہو تو جانے دو
مجھ سے زیادہ مجھ پہ تمہارا اختیار ہے

اضطراب کی حالت کبھی سکون کا عالم
یہ اعتبار کا موسم بڑا بے اعتبار ہے

عظمٰی کئی شدید موسم جھیلنے کے بعد
ہوئی تخلیق یہ دنیا جو بڑی پربہار ہے

شب فراق کے لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں

میری نیندوں میں آکے مجھ کو جگایا نہ کریں
میرے خوابوں میں آکے مجھ کو ستایا نہ کریں

شب فراق کے لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں

پھول ہی پھول میرے راستوں میں کھلنے لگے
ہجر کے گیت میرے سامنے گایا نہ کریں

شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی آیا نہ کریں

میرے اطراف میں جو روشنی کا ہالہ ہے
اندھیرے میری روشنی کو ڈرایا نہ کریں

شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں

میں جو تصویر حسیں رنگوں سے بنائی ہے
اسے گمان کے پانی سے مٹایا نہ کریں

شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی آیا نہ کریں

میری وفا نے جو شمع فروزاں کردی ہے
اسے طوفانی ہواؤں سے بجھایا نہ کریں

شب فراق کہ لمحوں سے کوئی یہ کہہ دے
وصل کے دن ہیں مجھے یاد بھی نہ آیا کریں

[Only registered and activated users can see links]


تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

وفا کریں گے ، نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا
مقیم کون ہوا مقام کس کا تھا

نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا

گزر گيا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں
خیال دل کو میرے صبح شام کس کا تھا

ہر اک سے کہتے ہیں کیا، داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کے کا تھا

~Zindagi~
May 21st, 2010, 02:48 PM
niceeee...

kamrankhan143
May 23rd, 2010, 08:34 AM
ڈیرہ مالنہ

[Only registered and activated users can see links]
آپ دوستوں کی ہمت افزائی کا شکریہ

RANA_JEE
May 31st, 2010, 08:13 AM
Very Nice:)
Keep It Up

kamrankhan143
June 5th, 2010, 08:22 AM
Very Nice:)



Keep It Up




thx 4 liking buddy

kamrankhan143
June 5th, 2010, 08:23 AM
[Only registered and activated users can see links] ([Only registered and activated users can see links])

kamrankhan143
June 5th, 2010, 08:23 AM
آنکھوں کا رنگ، بات کا لہجہ بدل گیا
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا

کُچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش
پھریوں ہُوا کہ خُود مِرا چہرا بدل گیا
جب اپنے اپنے حال پہ ہم تم نہ رہ سکے
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی
اُس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا
کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا!

اِک سر خوشی کی موج نے کیسا کیا کمال!
وہ بے نیاز، سارے کا سارا بدل گیا
اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیاں
پردہ اُٹھا تو سارا تماشا بدل گیا

حیرت سے سارے لفظ اُسے دیکھتے رہے
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا
کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی
گھر کی فضا، مکان کو نقشہ بدل گیا

شاید وفا کے کھیل سے اُکتا گیا تھا وہ
منزل کے پاس آکے جو رستہ بدل گیا
قائم کسی بھی حال پہ دُنیا نہیں رہی
تعبیرکھو گئی، کبھی سَپنا بدل گیا

منظر کا رنگ اصل میں سایا تھا رنگ کا
جس نے اُسے جدحر سے بھی دیکھا بدل گیا

اندر کے موسموں کی خبر اُس کی ہوگئی!
اُس نو بہارِ ناز کا چہرا بدل گیا

آنکھوں میں جتنے اشک تھے جگنو سے بن گئے
وہ مُسکرایا اور مری دُنیا بدل گیا

اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھو نڈتے ہیں لوگ
امجد یہ کو ن شہر کا نقشہ بدل گیا

(امجد اسلام امجد)


[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:13 PM
خوشبو کو تتلیوں کے پروں میں چھپاؤں گا
پھر نیلے نیلے بادلوں میں لوٹ جاؤں گا

دیوانہ وار مجھ سے لپٹ جائے گی ہوا
میں سرخ سرخ پھولوں میں جب مسکراؤں گا

سونے کے پھول پتے گریں گے زمیں پر
میں زرد زرد شاخوں پہ جب گنگناؤں گا

یہ لکڑیاں جو خشک ہیں بے برگ و بار ہیں
ان کو میں اپنی آگ جلنا سکھاؤں گا

دینار خوب برسیں گے آنگن میں ساری رات
میں خواب کے شجر کی وہ شاخیں ہلاؤں گا

دُھل جائیں گی بدن پہ جمی دھوپ کی تہیں
اپنے لہو میں آج میں ایسا نہاؤں گا

اک پل کی زندگی مجھے بے حد عزیز ہے
پلکوں پہ جھلملاؤں گا اور ٹوٹ جاؤں گا

یہ رات بھر نہ آئے گی بادل برسنے دے
میں جانتا ہوں صبح تجھے بھول جاؤں گا

اس دن بجائے اوس کے ٹپکے گا سُرخ خُون
تلوار لے کے جب میں خلاؤں میں جاؤں گا

جب رات کے سپرد مجھے کرنے آؤ گے
رومال روشنی کا ہوا میں اُڑاؤں گا

آنگن میں ننھے ننھے فرشتے لڑیں گے
بھوری شفیق آنکھوں میں میں مسکراؤں گا

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:15 PM
[Only registered and activated users can see links]

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:16 PM
اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے، ممکن ہے، خرابوں* میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں* شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے، نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں* اتنے حجابوں میں* ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں* ملیں

اب نہ وہ میں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخس تمنا کے سرابوں میں ملیں

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:18 PM
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے
جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجمان کی ترجمانی اور ہے
نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے
آپ زمزم دوست لائے ہیں عبث
ہم جو پیتے ہیں وہ پانی اور ہے
شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تیری سادہ بیانی اور ہے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:20 PM
نام اسی کا سویرے شام لکھا
شعر لکھا یا خط اس کو گمنام لکھا

اس دن پہلا پھول کھلا جب پت جھڑ نے
پتی پتی جوڑ کے تیرا نام لکھا

اس بچے کی کاپی اکثر پڑھتا ہوں
سورج کے ماتھے پہ جس نے شام لکھا

کیسے دونوں وقت گلے ملتے ہیں روز
یہ منظر میں نے دشمن کے نام لکھا

سات زمینیں، ایک ستارہ، نیا نیا
صدیوں بعد غزل نے کوئی نام لکھا

میرؔ، کبیر،ؔ بشیر اسی مکتب کے ہیں
آ ! دل کے مکتب میں اپنا نام لکھا

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:21 PM
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں

ایک اک کرکے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں

رقصِ مے تیز کرو ، ساز کی لے تیز کرو
سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں

کچھ ہمیں کو نہیں احسان اُٹھانے کا دماغ
وہ تو جب آتے ہیں ، مائل بہ کرم آتے ہیں

اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو
دل بھی کم دُکھتا ہے، وہ یاد بھی کم آتے ہیں

(فیض احمد فیض)۔۔

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:21 PM
تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی تیرے جاں نثار چلے گئے
تیری راہ میں کرتے تھے سرطلب، سرِ رہگزار چلے گئے

تیری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی
میرے ضبطِ حال سے روٹھ کر میرے غم گسار چلے گئے

نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم،نہ حکایتیں، نہ شکایتیں
تیرے عہد میں* دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے

یہ ہمیں*تھے جن کے لباس پر سرِ راہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزم یار چلے گئے

نہ رہا جنونِ رخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں*جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:22 PM
کب تک دل کی خیر منائیں، کب تک راہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے، کب تک یاد نہ آؤ گے

بیتا دید امید کا موسم، خاک اڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل، کب برکھا برساؤ گے

عہد وفا اور ترکِ محبت، جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منواؤ گے

کس نے وصل کا سورج دیکھا، کس پر ہجر کی رات ڈھلی
گیسوؤں والے کون تھے، کیا تھے، ان کو کیا جتلاؤ گے

فیض دلوں کے بھاگ میں ہے گر بسنا بھی لٹ جانا بھی
تم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:22 PM
حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے
سر پر ہیں خداوند، سر عرش خدا ہے

کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں
یہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے

ملتا ہے خراج اس کو تری نان جویں سے
ہر بادشاہ وقت ترے درکا گدا ہے

ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سواتر
وہ رنج جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہے

احسان لیے کتنے مسیحا نفسوں کے
کیا کیجیئے دل کا، نہ جلا ہے نہ بجھا ہے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:23 PM
تنہائی

پھر کوئی آیا دل زار! نہیں کوئی نہیں
راہرو ہو گا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر ایک راہگزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بےخواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:23 PM
آج کی رات

آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ
دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے
اور کل کی خبر کسے معلوم؟
دوش و فروا کی مٹ چکی ہیں حدود
ہو نہ ہو اب سحر کسے معلوم؟

زندگی، ہیچ! مگر آج کی رات
ایزدیت ہے ممکن آج کی رات
آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ


اب نہ دہرا افسانہء الم
اپنی قسمت پہ سوگوار نہ ہو
فکر فردا اتار دے دل سے
عمر رفتہ پر اشکبار نہ ہو

عہد غم کی حکایتیں مت پوچھ
ہو چکیں سب شکایتیں مت پوچھ
آج کی رات ساز درد نہ چھیڑ

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:24 PM
دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کر

ويراں ہے ميکدہ، خُم و ساغر اداس ہيں
تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملی، وہ بھی چار دن
ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنيا نےتیری ياد سے بيگانہ کرديا
تجھ سے بھی دلفريب ہيں غم روزگار کے

بھولے سے مسکرا تو ديے تھے وہ آج فيض
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:24 PM
سیاسی لیڈر کے نام

سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھ
رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے
جس طرح تنکا سمندر سے ہو سر گرمِ ستیز
جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے
اور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میں
اتنے گھاو ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہے
جابجا نور نے اک جان سا بن رکھا ہے
دور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہے
تیرا سرمایہ، تری آس یہی ہاتھ تو ہیں
اور کچھ بھی تو نہیں پاس، یہی ہاتھ تو ہیں
تجھ کو منظور نہیں غلبہء ظلمت، لیکن
تجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیں
اور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دن
رات کی آہنی میت کے تلے دب جائے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:25 PM
لوح قلم

ہم پرورشِ لوح قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانیء دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخیء ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی، یہ ستم ہم کو گوارا
دم ہے تو مداوائے الم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے، تو ہم سرخیء مے سے
تزئینِ درو بامِ حرم کرتے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگِ لب و رخسارِصنم کرتے رہیں گے

اک طرزِ تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:25 PM
مہر روشن چھپ گيا ، اٹھي نقاب روئے شام
شانہ ہستي پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام

يہ سيہ پوشي کي تياري کس کے غم ميں ہے
محفل قدرت مگر خورشيد کے ماتم ميں ہے

کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کي نظر ہے ديدہ بيدار پر

غوطہ زن درياے خاموشي ميں ہے موج ہوا
ہاں، مگر اک دور سے آتي ہے آواز درا

دل کہ ہے بے تابي الفت ميں دنيا سے نفور
کھنچ لايا ہے مجھے ہنگامہ عالم سے دور

منظر حرماں نصيبي کا تماشائي ہوں ميں
ہم نشين خفتگان کنج تنہائي ہوں ميں

تھم ذرا بے تابي دل! بيٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستي پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے

اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس ديس کي آ خر ، جہاں رہتے ہو تم

وہ بھي حيرت خانہ امروز و فردا ہے کوئي؟
اور پيکار عناصر کا تماشا ہے کوئي؟

آدمي واں بھي حصار غم ميں ہے محصور کيا؟
اس ولايت ميں بھي ہے انساں کا دل مجبور کيا؟

واں بھي جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کيا؟
اس چمن ميں بھي گل و بلبل کا ہے افسانہ کيا؟

ياں تو اک مصرع ميں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کي گر مي سے کيا واں بھي پگل جاتاہے دل؟

رشتہ و پيوند ياں کے جان کا آزار ہيں
اس گلستاں ميں بھي کيا ايسے نکيلے خار ہيں؟

اس جہاں ميں اک معيشت اور سو افتاد ہے
روح کيا اس ديس ميں اس فکر سے آزاد ہے؟

کيا وہاں بجلي بھي ہے ، دہقاں بھي ہے ، خرمن بھي ہے؟
قافلے والے بھي ہيں ، انديشہ رہزن بھي ہے؟

تنکے چنتے ہيں و ہاں بھي آ شياں کے واسطے؟
خشت و گل کي فکر ہوتي ہے مکاں کے واسطے؟

واں بھي انساں اپني اصليت سے بيگانے ہيں کيا؟
امتياز ملت و آئيں کے ديوانے ہيں کيا؟

واں بھي کيا فرياد بلبل پر چمن روتا نہيں؟
اس جہاں کي طرح واں بھي درد دل ہوتا نہيں؟

باغ ہے فردوس يا اک منزل آرام ہے؟
يا رخ بے پردہ حسن ازل کا نام ہے؟

کيا جہنم معصيت سوزي کي اک ترکيب ہے؟
آگ کے شعلوں ميں پنہاں مقصد تاويب ہے؟

کيا عوض رفتار کے اس ديس ميں پرواز ہے؟
موت کہتے ہيں جسے اہل زميں ، کيا راز ہے ؟

اضطراب دل کا ساماں ياں کي ہست و بود ہے
علم انساں اس ولايت ميں بھي کيا محدود ہے؟

ديد سے تسکين پاتا ہے دل مہجور بھي؟
'لن تراني' کہہ رہے ہيں يا وہاں کے طور بھي؟

جستجو ميں ہے وہاں بھي روح کو آرام کيا؟
واں بھي انساں ہے قتيل ذوق استفہام کيا؟

آہ! وہ کشور بھي تاريکي سے کيا معمور ہے؟
يا محبت کي تجلي سے سراپا نور ہے؟

تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں ميں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں ميں ہے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:26 PM
زمانہ آيا ہے بے حجابي کا ، عام ديدار يار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا ، وہ راز اب آشکار ہوگا
گزر گيا اب وہ دور ساقي کہ چھپ کے پيتے تھے پينے والے
بنے گا سارا جہان مے خانہ ، ہر کوئي بادہ خوار ہو گا
کبھي جو آوارہ جنوں تھے ، وہ بستيوں ميں پھر آ بسيں گے
برہنہ پائي وہي رہے گي مگر نيا خارزار ہو گا
سنا ديا گوش منتظر کو حجاز کي خامشي نے آخر
جو عہد صحرائيوں سے باندھا گيا تھا ، پھر استوار ہو گا
نکل کے صحرا سے جس نے روما کي سلطنت کو الٹ ديا تھا
سنا ہے يہ قدسيوں سے ميں نے ، وہ شير پھر ہوشيار ہو گا
کيا مرا تذکرہ جوساقي نے بادہ خواروں کي انجمن ميں
تو پير ميخانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے ، خوار ہو گا
ديار مغرب کے رہنے والو! خدا کي بستي دکاں نہيں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عيار ہو گا
تمھاري تہذيب اپنے خنجر سے آپ ہي خود کشي کرے گي
جوشاخ نازک پہ آشيانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا
سفينہ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کا
ہزار موجوں کي ہو کشاکش مگر يہ دريا سے پار ہو گا
چمن ميں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلي کلي کو
يہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں ميں شمار ہو گا
جو ايک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہميں دکھايا
يہي اگر کيفيت ہے تيري تو پھر کسے اعتبار ہو گا
کہا جوقمري سے ميں نے اک دن ، يہاں کے آزاد پا بہ گل ہيں
توغنچے کہنے لگے ، ہمارے چمن کا يہ رازدار ہو گا
خدا کے عاشق تو ہيں ہزاروں ، بنوں ميں پھرتے ہيں مارے مارے
ميں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پيار ہو گا
يہ رسم بزم فنا ہے اے دل! گناہ ہے جنبش نظر بھي
رہے گي کيا آبرو ہماري جو تو يہاں بے قرار ہو گا
ميں ظلمت شب ميں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شررفشاں ہوگي آہ ميري ، نفس مرا شعلہ بار ہو گا
نہيں ہے غير از نمود کچھ بھي جو مدعا تيري زندگي کا
تو اک نفس ميں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہو گا
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھي وہي کيفيت ہے اس کي
کہيں سر رہ گزار بيٹھا ستم کش انتظار ہو گا

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:26 PM
صقلیہ
( جزیرہ سسلی)

رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذیب حجازی کا مزار
تھا یہاں ہنگامہ ان صحرا نشینوں کا کبھی
بحر بازی گاہ تھا جن کے سفینوں کا کبھی
زلزلے جن سے شہنشاہوں کے درباروں میں تھے
بجلیوں کے آشیانے جن کی تلواروں میں تھے
اک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور
کھا گئی عصر کہن کو جن کی تیغ ناصبور
مردہ عالم زندہ جن کی شورش قم سے ہوا
آدمی آزاد زنجیر توہم سے ہوا
غلغلوں سے جس کے لذت گیر اب تک گوش ہے
کیا وہ تکبیر اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہے؟
آہ اے سسلی! سمندرکی ہے تجھ سے آبرو
رہنما کی طرح اس پانی کے صحرا میں ہے تو
زیب تیرے خال سے رخسار دریا کو رہے
تیری شمعوں سے تسلی بحر پیما کو رہے
ہو سبک چشم مسافر پر ترا منظر مدام
موج رقصاں تیرے ساحل کی چٹانوں پر مدام
تو کبھی اس قوم کی تہذیب کا گہوارہ تھا
حسن عالم سوز جس کا آتش نظارہ تھا
نالہ کش شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی
غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم ترا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا
ہے ترے آثار میں پوشیدہ کس کی داستاں
تیرے ساحل کی خموشی میں ہے انداز بیاں
درد اپنا مجھ سے کہہ ، میں بھی سراپا درد ہوں
جس کی تو منزل تھا ، میں اس کارواں کی گرد ہوں
رنگ تصویر کہن میں بھر کے دکھلا دے مجھے
قصۂ ایام سلف کا کہہ کے تڑپا دے مجھے
میں ترا تحفہ سوئے ہندوستاں لے جاؤں گا
خود یہاں روتا ہوں ، اوروں کو وہاں رلواؤں گا

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:27 PM
ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابرِ کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا

کبھي صحرا، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا
شہر و ويرانہ مرا، بحر مرا، بن ميرا

کسي وادي ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہء کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو

مجھ کو قدرت نے سکھايا ہے درافشاں ہونا
ناقہء شاہدِ رحمت کا حُدي خواں ہونا

غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا
رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا

بن کے گيسو رُخِ ہستي پہ بکھر جاتا ہوں
شانہء موجہء صرصر سے سنور جاتا ہوں

دُور سے ديدہء اُميد کو ترساتا ہوں
کسي بستي سے جو خاموش گزر جاتا ہوں

سير کرتا ہوا جس دم لبِ جُو آتا ہوں
بالياں نہر کو گرداب کي پہناتا ہوں

سبزہء مزرعِ نوخيز کي اميد ہوں ميں
زادہء بحر ہوں پروردہء خورشيد ہوں ميں

چشمہء کوہ کو دي شورشِ قلزم ميں نے
اور پرندوں کو کيا محوِ ترنم ميں نے

سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قُم ميں نے
غنچہء گل کو ديا ذوق تبسم ميں نے

فيض سے ميرے نمونے ہيں شبستانوں کے
جھونپڑے دامنِ کہسار ميں دہقانوں کے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:28 PM
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
تو شاید ہم بھی اپنا راستہ تبدیل کر لیتے

اگر ہم واقعی کم حوصلہ ہوتے محبت میں
مرض بڑھنے سے پہلے دوا تبدیل کر لیتے

تمہارے ساتھ چلنے پر جو دل راضی نہیں ہوتا
بہت پہلے ہم اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتے

تمہیں ان موسموں کی کیا خبر ملتی اگر ہم بھی
گھٹن کے خوف سے آب و ہوا تبدیل کر لیتے

تمہاری طرح جینے کا ہنر آتا ، تو پھر شاید
مکان اپنا وہی رکھتے ، پتا تبدیل کر لیتے

وہی کردار ہیں تازہ کہانی میں ، جو پہلے بھی
کبھی چہرہ ، کبھی اپنی قبا تبدیل کر لیتے

جدائی بھی نہ ہوتی ، زندگی بھی سہل ہو جاتی
جو ہم اک دوسرے سے مسئلہ تبدیل کر لیتے

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ہم بول اٹھے ورنہ
گواہی دینے والے واقعہ تبدیل کر لیتے

بہت دھندلا گیا یادوں کی رم جھم میں دلِ سادہ
وہ مل جاتا تو ہم یہ آئینہ تبدیل کر لیتے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:28 PM
ایک صحرائے بیکراں ہے جہاں
وقت اِک بیقرار آہوُ ہے

٭

جس کے موڑوں پہ لٹایا گیا انساں کا سہاگ
مَیں تو اس راہ کو تلووں کا لہو تک بھی نہ دُوں

٭

سجدہ اظہارِ ماندگی ہی تو ہے
سانس پھوُلی تو لَو خدا سے لگی

٭

جیتے ہیں جو مرنے کی تمناّ میں ندیمؔ
وہ موت سے پیشتر ہی مر جاتے ہیں

٭

سکوں میں رقص کناں، رقص میں سکون پذیر
خرامِ حُسن کا آئینہ ہے خرامِ حیات

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:29 PM
وہ کُفر ہے ایمان کی معراجِ کمال
جس کفر کو انسان سے محبّت ہو جائے

٭

تجھے بہشت میں بھی مِل سکا نہ اطمینان
مَیں دشتِ بخد کی ویرانیوں میں بھی خورسند

٭


یہ کیا طلسم ہے، آئے ہو تم چمن بکنار
مگر چمن کے چمن انتظار کرتے ہیں

__________________

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:30 PM
ذرا سی دیر کو منظر سُہانے لگتے ہیں
پھر اُس کے بعد یہی قید خانے لگتے ہیں

میں سوچتا ہوں کہ تو دربدر نہ ہو، ورنہ
تجھے بھلانے میں کوئی زمانے لگتے ہیں

کبھی جو حد سے بڑھے دل میں تیری یاد کا حبس
کھلی فضا میں تجھے گنگنانے لگتے ہیں

جو تو نہیں ہے تو تجھ سے کئے ہوئے وعدے
ہم اپنے آپ سے خود ہی نبھانے لگتے ہیں

عجیب کھیل ہے جلتے ہیں اپنی آگ میں ہم
پھر اپنی راکھ بھی خود ہی اُڑانے لگتے ہیں

یہ آنے والے زمانے مرے سہی، لیکن
گذشتہ عمر کے سائے ڈرانے لگتے ہیں

نگار خانہء ہستی میں کیسا پائے ثبات
کہیں کہیں تو قدم ڈگمگانے لگتے ہیں

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:30 PM
اب اگر آو تو جانے کے لئے مت آنا

صرف احسان جتانے کے لئے مت آنا

میں نے پلکوں پہ تمنائیں سجا رکھی ہیں
دل میں امید کی سو شمعیں جلا رکھی ہیں
یہ حسیں شمعیں بجھانے کے لئے مت آنا

اب اگر آو تو جانے کے لئے مت آنا

پیار کی آگ میں زنجیریں پگھل سکتی ہیں
چاہنے والوں کی تقدیریں بدل سکتی ہیں
تم ہو بے بس،یہ بتانے کے لئے مت آنا

اب اگر آو تو جانے کے لئے مت آنا

اب تم آنا جو تمہیں مجھ سے محبت ہے کوئی
مجھ سے ملنے کی اگر تم کو بھی چاہت ہے کوئی
تم کوئی رسم نبھانے کے لئے مت آنا

اب اگر آو تو جانے کے لئے مت آن

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:31 PM
ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے
صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

اک طرف مورچے تھے پلکوں کے
اک طرف آنسوؤں کے ریلے تھے

تھیں سجی حسرتیں دُکانوں پر
زندگی کے عجیب میلے تھے

خود کشی کیا دُکھوں کا حَل بَنتی
موت کے اپنے سو جھمیلے تھے

ذہن و دل آج بُھوکے مرتے ہیں
اُن دنوں ہم نے فاقے جھیلے تھے

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:31 PM
سورج سے جنگ کرنے کی بادل نے ٹھان لی
کہتے ہیں اس جنوں ہی نے پھر اس کی جان لی

پھر عہد ہم سے کرکے نبھایا کسی کےساتھ
اک بار پھر سے ہم نے مقدر کی مان لی

صحرا میں چاروں اور نہ چھاؤں ملی ہمیں
تب تھک کے ہم نے دھوپ کی چادر ہی تان لی

قدرت کی بانٹ ہوتی ہے کتنی عجیب سی
دل کو ملے ہیں تیر کسی نے کمان لی

اس نے پلٹ کےدیکھا ہے جاتے ہوئے بتول
لگتا ہے زندگی نے اچھوتی اٹھان لی

kamrankhan143
June 12th, 2010, 12:32 PM
اب تمہارے لوٹ آنے کا کوئی امکاں نہیں
خوشبوؤں میں گھر بسانے کا کوئی امکاں نہیں

یوں سر مژگاں ستارے جل بجھے ہیں اس لئے
مانگ میں ان کو سجانے کا کوئی امکاں نہیں

ہوچکے سب در مقفل ،گل ہوئے سارے چراغ
اس گلی میں اس کے آنے کا کوئی امکاں نہیں

اس نے جب تجدید کا پوچھا تو میں نے یہ کہا
چوٹ پر اب چوٹ کھانے کا کوئی امکاں نہیں

گھورتاریکی میں اک سورج چمک اٹھنے کو ہے
اور اس کے ڈوب جانے کا کوئی امکاں نہیں

~!*ITD KING*!~
July 4th, 2010, 02:39 PM
Salam

Very Nice Dear

Keep Useful Shering & Thanks For Shering With Us.

kamrankhan143
July 18th, 2010, 01:43 PM
ڈیرہ مالنہ

[Only registered and activated users can see links]
آپ دوستوں کی ہمت افزائی کا شکریہ

Syed Waqas
October 7th, 2010, 07:40 AM
Zabardast